سابق وزیرِ اطلاعات فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ عمران خان کی حکومت سازش کے تحت ہٹائی گئی۔ سائفر کی تحقیقات پر حکومت کی آمادگی درست سمت میں ایک قدم ہے تاہم انہوں نے مطالبہ کیا کہ ایف آئی اے کی بجائے یہ تحقیقات سپریم کورٹ کمیشن کرے۔
فواد چوہدری نے یہ مطالبہ بھی کیا کہ آڈیو لیکس کی تحقیقات بھی اسی طرح کے کمیشن کے ذریعے کرائی جائیں۔ گویا دیگر الفاظ میں تحریکِ انصاف نے ایف آئی اے کی تحقیقات پر عدم اعتماد کا اشارہ دے دیا ہے۔
قبل ازیں جب پہلی بار سابق وزیر اعظم عمران خان کی پرنسپل سیکریٹری اعظم خان سے سائفر پر گفتگو لیک ہوئی تو بدھ کے روز صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ آڈیو شہباز شریف نے لیک کی، بہتر ہے کہ پورا سائفر ہی لیک کردیا جائے تاکہ سب کو پتہ چلے کتنی بڑی سازش ہوئی۔
جمعہ کے روز وزیر اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ اجلاس میں سفارتی سائفر کا معاملہ زیرِ غور آیا تو ایک عجیب و غریب حقیقت سامنے آئی کہ سائفر کی نقل وزیر اعظم ہاؤس سے غائب ہے۔
اپنے ایک ٹوئٹر پیغام میں 30 ستمبر کو موجودہ وزیر اعظم شہباز شریف نے الزام عائد کیا کہ عمران خان نے معمول کے سفارتی سائفر کو یہ جانتے ہوئے بھی توڑ مروڑ کر اپنے سیاسی فائدے کیلئے استعمال کیا کہ اس سے پاکستان کے قومی مفاد کو نقصان پہنچے گا۔
بعد ازاں چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کا وزیر اعظم ہاؤس سے سائفر کی کاپی غائب ہونے کے متعلق کہنا تھا کہ میرے پاس سائفر کی ایک نقل تھی جو غائب ہوگئی۔ مجھے نہیں معلوم کہ وہ کہاں گئی۔
سیاسی بیانات اپنی جگہ لیکن سب سے پہلے تو یہ معلوم ہونا چاہئے کہ سائفر کی غائب شدہ نقول کس نے وزیر اعظم ہاؤس یا دیگر مقامات سے غائب کیں؟ اور سائفر اپنے قبضے میں لینے کا اس شخص یا عناصر کا مقصد کیا تھا؟ کیا اس سے قومی سلامتی کے تقاضے مجروح تو نہیں ہوتے؟
اگر ہم چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کا یہ دعویٰ درست مان لیں کہ سائفر میں پاکستان کو دھمکی دی گئی تھی اور بعد ازاں عمران خان کو وزارتِ عظمیٰ سے ہٹانے میں بھی اس سائفر کا بہت بڑا ہاتھ تھا یا اسے بالکل غلط سمجھیں اور دعویٰ مسترد کردیں، دونوں ہی صورتوں میں سائفر بے حد اہم ہے۔
دراصل یہ وہ دستاویز ہے جس کی بنیاد پر پی ٹی آئی کے اس بیانیے کی عمارت کھڑی ہے کہ عمران خان کو غیر ملکی سازش کے ذریعے وزارتِ عظمیٰ سے محروم کیا گیا اور دوسری جانب اگر حکومت سچی ہے تو وہ سچ بھی اسی سائفر پر تحقیقات سے ثابت ہوگا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ وفاقی کابینہ نے 2 روز قبل ڈپلومیٹک سائفر سے متعلق آڈیو لیک پر ایف آئی اے کے ذریعے تحقیقات اور قانونی کارروائی کی منظوری دی تھی۔ قبل ازیں 30 ستمبر کو عمران خان کی آڈیو لیک پر کابینہ کمیٹی تشکیل دی گئی۔ کمیٹی نے 2 روز قبل ہی قانونی کارروائی کی سفارش کردی۔
ایک طرف تو وفاقی کابینہ نے ڈپلومیٹک سائفر پر نہیں بلکہ آڈیو لیک پر تحقیقات کا کہا اور دوسری جانب فواد چوہدری نے اسے سائفر پر تحقیقات قرار دیتے ہوئے اسے درست سمت میں قدم قرار دیا جو اپنے آپ میں ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ فواد چوہدری کے ٹویٹ سے لگتا ہے کہ تحقیقات سائفر پر ہوں گی جو درست نہیں ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں