کراچی: کراچی کی لینڈ فل سائٹ پر کچرے سے بجلی بنانے کے 2 بڑے پلانٹ سے 2023 کے آخر تک بجلی کی کمرشل بنیادوں پر پیدا وار کا آغاز ہوجائے گا۔
وزیر توانائی سندھ امتیاز احمد شیخ کی زیرِ صدارت کراچی شہر کے کچرے سے بجلی بنانے کے منصوبے پر ایک اجلاس منعقد ہوا، اجلاس میں بریفنگ کے دوران وزیر توانائی سندھ نے شرکا کو بتایا گیا کہ کراچی کی لینڈ فل سائٹ پر کچرے سے بجلی بنانے کے دونوں پلانٹس کی پیداواری استطاعت 50،50 میگاواٹ ہوگی۔
سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ نے دونوں پلانٹس کے لیے جگہ اور کچرے کی فراہمی کی یقین دہانی کرائی ہے جبکہ دونوں پلانٹس کی فزیبلٹی رپورٹ اور دیگر ضابطے کی کارروائی پر تیزی سے کام جاری ہے۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ کچرے سے بننے والی بجلی کے ممکنہ خریدار کے لیے بھی جلد ہی بات چیت شروع کردی جائے گی۔ اس موقع پر وزیر توانائی سندھ امتیاز احمد شیخ نے ہدایت کی کہ دونوں کمپنیاں اپنے کام کی رفتار کو مزید تیز کریں اور کوشش کریں کہ یہ دونوں پلانٹس جلد سے جلد فعال ہوسکیں۔
اجلاس میں کچرے سے بجلی بنانے والی دونوں کمپنیوں میسرز خان رینیوایبل انرجی پرائیویٹ لمیٹڈ اور گرین ویسٹ انرجی پرائیویٹ لمیٹڈ کے نمائندہ افسران نے بھی شرکت کی، جبکہ سیکریٹری توانائی سندھ ابوبکر مدنی، مینجنگ ڈائریکٹر سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ زبیر چنہ اور محکمہ توانائی سندھ کے دیگر افسران بھی اجلاس میں شریک ہوئے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








