اسلام آباد:تھانہ آئی نائن کے علاقے آئی ایٹ میں واقع روٹس کالج کے سیکنڈ ایئر کے طالب علم دو سگے بھائیوں سمیت 3 افراد کو 30 سے زائد افراد نے افغان شدت پسندوں کے ہمراہ آہنی راڈوں سے حملہ کرکے شدید زخمی کر دیا۔
ذرائع کے مطابق حملہ آوروں میں کالج کے طالب علم سمیت افغان شدت پسند بھی شامل تھے۔پولیس تھانہ آئی نائن نے واقعہ کا مقدمہ درج کرلیا ہے۔تاہم پولیس نے تاحال کسی بھی حملہ آور کو گرفتار نہیں کیا۔
زخمی طالب علم کے بھائی ایف آئی اے کے ڈپٹی ڈائریکٹر کے صاحبزادے ہیں۔جن کا تعلق گلگت بلتستان کے علاقہ شگر سے ہے۔واقعہ 13 اکتوبر 2022ء کو دن ساڑھے گیارہ بجے کے قریب پیش آیا۔
معلوم ہواہے کہ سیکٹر آئی ایٹ میں واقع روٹس کالج کے سیکنڈ ایئر کے طالب علم دو سگے بھائیوں شایان مہدی، زریاب شگری اور ان کے دوست احمد ستی کو کالج فیلو یاسرخان نے اپنے دیگر 30 سے زائدساتھیوں کے ہمراہ آہنی راڈوں،مکوں اور اسلحہ کے بٹ مارتے ہوئے لہولہان کردیا۔
حملہ آوروں نے اپنی گاڑی نمبر ہنڈا سوک نمبر097اے اے میں زخمی طالب علموں کو اغواء کرنے کی بھی کوشش کی تو چند راہگیروں نے ان کی یہ کوشش ناکام بنا دی۔اسی دوران راہگیروں نے زخمی طالب علموں کو ایک ٹیکسی میں بٹھاکر ہسپتال لے جانے کی کوشش کی تو حملہ آوروں نے ٹیکسی ڈرائیور کو بھی مارا پیٹا اور ٹیکسی کی توڑ پھوڑ کی۔
اس کے باوجود راہگیروں نے طالب علموں کو پمز ہسپتال پہنچایا۔بتایا گیا ہے کہ کالج میں بوائے ہیڈ کے الیکشن کے امیدوار ملزم یاسر خان زخمی طالب علموں سے زبردستی ووٹ ڈالنے کے لئے دباؤ ڈال رہا تھا۔ تاہم انکار پر وہ انہیں جان سے مارنے کی دھمکیاں دیتا رہا۔جس کے بعد گزشتہ روز یہ واقعہ پیش آیا۔
پولیس تھانہ آئی نائن نے چھ مختلف دفعات کے تحت واقعہ کا مقدمہ نمبر1208/22 درج کرلیا ہے۔تاہم پولیس نے تاحال کسی بھی ملزم کو گرفتار نہیں کیا۔
زخمی لڑکوں کے والد شبیر حسین شگری نے بتایاکہ ملزم یاسر خان کالج میں ہیڈ بوائے کے الیکشن کا امیدوار تھا۔جو میرے بچوں کو سپورٹ کرنے اور ووٹ ڈالنے پر مجبور کر رہا تھا۔اسی بات پر اس نے اپنے دیگر ساتھیوں اور افغان شدت پسندوں کو ساتھ ملا کر حملہ کیا۔
مزید پڑھیں:بااثر افراد کی غریب خاندان کو قتل کی دھمکیاں، پولیس ملزمان کے ساتھ مل گئی
انہوں نے کہا کہ پولیس کی تفتیش سست روی کا شکار ہے۔تاحال کسی بھی ملزم کو گرفتار نہیں کیا گیا۔اعلیٰ حکام واقعہ کا نوٹس لیں اور ملزمان ملزمان کے خلاف سخت قانونی کارروائی کریں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








