لاہور: ظلم و جبر کے خلاف آواز بلند کرنے والے باکمال شاعر فیض احمد فیض کو آج مداحوں سے بچھڑے 38 برس مکمل ہوگئے تاہم ان کی شاعری اور افکار آج بھی زندہ ہیں۔
تفصیلات کے مطابق فیض احمد فیض نے 20ویں صدی عیسوی میں اردو زبان کے ترقی پسند شاعر کی حیثیت سے اہم ترین مقام حاصل کیا اور بے شمار شاعروں نے ان کے کلام کو ہر دور میں سراہا۔
آپ کیلئے کچھ نیا کر رہی ہوں، اداکارہ ملائکہ کا ٹرولرز کو جواب
فیض احمد فیض کی شاعری رومانوی حساسیت اور معاشرتی شعور دونوں سے معمور تھی جسے ہر عمر کے سامعین اور قارئین نے پسند کیا۔ نور جہاں سمیت متعدد گلوکاروں نے فیض کی شاعری کو اپنی آواز دی۔
دونوں جہان تیری محبت میں ہار کے
وہ جا رہا ہے کوئی شب غم گزار کے
ویراں ہے مے کدہ خم و ساغر اداس ہیں
تم کیا گئے کہ روٹھ گئے دن بہار کے
دنیا نے تیری یاد سے بیگانہ کر دیا
تجھ سے بھی دل فریب ہیں غم روزگار کے
عوام کے حقوق کیلئے آواز بلند کرنے والے فیض احمد فیض کے کلام کو پاکستان کے علاوہ عالمی سطح پر سراہا گیا۔ نقشِ فریادی، زنداں نامہ، دستِ صبا، نسخہ ہائے وفا اور شامِ شہرِ یاراں سمیت دیگر کتب فیض احمد فیض کی وجہِ شہرت بن گئیں۔
ہم پر تمہاری چاہ کا الزام ہی تو ہے
دشنام تو نہیں ہے یہ اکرام ہی تو ہے
کرتے ہیں جس پہ طعن کوئی جرم تو نہیں
شوق فضول و الفت ناکام ہی تو ہے
دل مدعی کے حرف ملامت سے شاد ہے
اے جان جاں یہ حرف ترا نام ہی تو ہے
دل ناامید تو نہیں ناکام ہی تو ہے
لمبی ہے غم کی شام مگر شام ہی تو ہے
متعدد عالمی و قومی اعزازات کے حامل فیض احمد فیض کو اردو زبان کے شاعروں میں آج بھی ان کی شاعری کی مقدار اور معیار دونوں کے اعتبار سے جو شہرت حاصل ہوئی، وہ تاریخ میں اپنی مثال آپ ہے۔
آج سے 38 برس قبل 20 نومبر 1984 کو دارِ فانی سے کوچ کر جانے والے فیض احمد فیض کی شاعری انہیں آج بھی زندہ رکھے ہوئے ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








