ریکوڈک، عدالت کافیصلہ جلد نہ آنیکی صورت میں پاکستان کو 10ارب ڈالر جرمانے کا خدشہ

تازہ ترین

تازہ ترین

حکومت نے ریکوڈک منصوبے پر کام 14اگست سے شروع کرنے کا اعلان کردیا
حکومت نے ریکوڈک منصوبے پر کام 14اگست سے شروع کرنے کا اعلان کردیا

کوئٹہ: سپریم کورٹ میں ریکوڈک معاہدے پر صدارتی ریفرنس پر فیصلہ 15 دسمبر تک یا جلد نہ آنے کی صورت میں پاکستان کو 10 ارب ڈالر جرمانے کا خدشہ ہے۔

ریکوڈک کے مقام پر پاکستان کی سب سے بڑی سونے اور تانبے کی کان کو 90 کی دہائی میں دریافت کیا گیا تھا، بلوچستان حکومت کے ساتھ غیر ملکی کمپنیوں کے ایک کنسورشیم نے سرمایہ کاری سے متعلق معاہدے پر دستخط کردئیے تاہم معاہدے میں قانونی سقم  تھا۔

یہ بھی پڑھیں:

 دیوالیہ ہونے کا خطرہ، اسحاق ڈار کو صحیح فیصلے کرنے ہونگے، مفتاح

سپریم کورٹ نے 2013 میں معاہدہ کالعدم قرار دیا جس پر غیر ملکی کمپنی اینٹو فیگسٹا نے پاکستان کے خلاف 2 عالمی فورمز سے رجوع کیا تھا جہاں پاکستان پر کم و بیش 6 ارب 50 کروڑ ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا۔ 2019 میں عالمی فوجداری عدالت نے بھی فیصلہ پاکستان کے خلاف دیا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ انٹرنیشنل کریمنل کورٹ کا جرمانہ 3 ارب ڈالرز ہوسکتا ہے۔ ریکوڈک کیس میں پاکستان پر مجموعی جرمانہ  10 ارب ڈالر کے لگ بھگ ہوسکتا ہے جس سے بچنے کیلئے سپریم کورٹ کو فیصلہ جلد سنانا ہوگا۔

پاکستان نے عالمی عدالتوں سے جرمانے کی  ادائیگی کیلئے 15 دسمبر تک اسٹے دیا تھا۔صدرِ مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے ریکوڈک کیس پر صدارتی ریفرنس سپریم کورٹ کو 18 اکتوبر کو ارسال کیا تھا۔  اب تک ریکوڈک ریفرنس پر 15 سماعتیں ہوچکی ہیں۔

 

Related Posts