مقبوضہ فلسطین کے مظلوموں سے یکجہتی کا عالمی دن آج منایا جارہا ہے

تازہ ترین

تازہ ترین

بیت المقدس: مقبوضہ فلسطین پر اسرائیل کے غاصبانہ قبضے اور 1977 کی اقوامِ متحدہ کی قرارداد کے تحت مقبوضہ فلسطین کے مظلوموں سے یکجہتی کا عالمی دن آج منایا جارہا ہے۔

تفصیلات کے مطابق مئی 1948 میں اسرائیل کا قیام مغربی ایشیا میں جنگ اور عدم تحفظ کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ اسرائیلی سپاہیوں نے ہزاروں مظلوم فلسطینیوں کو شہید زخمی اور قید کر لیا۔ لاکھوں بچے،بوڑھے اور خواتین بے گھر ہوگئیں۔

یہ بھی پڑھیں:

ہمارے پاس ثبوت ہیں کہ مغربی ریاستیں مظاہروں میں ملوث تھیں، ایران

اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 29 نومبر 1977 کو یومِ یکجہتئ فلسطین منانے کا اعلان کیا جس کا مقصد مظلوم فلسطینیوں کے مسائل کی طرف عالمی برادری کی توجہ مبذول کرانا تھا تاہم یہ قرارداد بھی عالمی ادارے کے ظلم کی یاد دلاتی ہے۔

ماضی میں 29 نومبر 1947کو اقوامِ متحدہ نے ہی ایک قرارداد منظور کی جسے فلسطین کی تقسیم کا منصوبہ کہا جاتا ہے جس کے تحت فلسطین کی زمین کا 57 فیصد حصہ بیرونِ ملک سے آئے ہوئے یہودیوں کے حوالے کردیا گیا۔

تاہم اسرائیل کے ظلم و جبر کا سلسلہ یہاں تھما نہیں اور جارح حکومت نے تشدد اور ظلم و ستم کے ذریعے فلسطین کے کم و بیش 85 فیصد حصے پر یہودیوں کو آباد کردیا۔ اقوامِ متحدہ نے اسرائیل کے خلاف تاحال کوئی عملی اقدام نہیں اٹھایا۔

مصر وہ پہلا عرب ملک تھا جس نے 1978 میں اسرائیل سے دوستانہ معاہدے پر دستخط کیے، اردن نے 1994 میں اس کی پیروی کی۔ امارات، بحرین، مراکش، سوڈان، ترکی اور آذر بائیجان سمیت متعدد اسلامی ممالک اسرائیل سے تعلقات قائم کیے ہوئے ہیں۔

دوسری جانب قائدِ اعظم محمد علی جناح کے افکار اور علامہ اقبال کے تصورات کی پیروی میں پاکستان یہ سمجھتا ہے کہ اسرائیل کا قیام مقبوضہ فلسطین کے عوام کے حقوق پر غاصبانہ ڈاکہ ہے۔ پاکستان نے اسرائیل کے قیام سے آج تک اس مملکت کے وجود کو تسلیم نہیں کیا۔ پاکستانی پاسپورٹ بھی اسرائیل کیلئے کارآمد نہیں۔

Related Posts