ملک مستقل سیاسی لڑائیوں کا متحمل نہیں ہے!

تازہ ترین

تازہ ترین

پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ اور سابق وزیر اعظم عمران خان نے تقریباً ایک ماہ پر مشتمل اپنے حقیقی آزادی مارچ کے اختتام پر راولپنڈی میں منعقدہ عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے  گزشتہ دنوں یہ اعلان کیا تھا کہ وہ اب اس سیاسی نظام کا مزید حصہ نہیں بنیں گے، ان کی پارٹی تمام اسمبلیوں سے استعفے دے گی اور استعفوں پر عمل در آمد کیلئے تاریخ طے کرنے کا فیصلہ پارٹی قیادت کی مشاورت سے کیا جائے گا۔

چھبیس نومبر کے جلسے میں سابق وزیر اعظم کی جانب سے سامنے آنے والے اس اعلان نے سیاسی مبصرین کو خاصے مخمصے میں بھی ڈال دیا تھا۔ جہاں ان کے حامی اس فیصلے کو ماسٹر اسٹروک قرار دیتے ہوئے مطمئن نظر آ رہے تھے، وہاں ان کے مخالفین نے یہ کہہ کر اس فیصلے کی بھد اڑائی کہ کہاں حقیقی آزادی جس کیلئے ایک ماہ سے جنگی ترانے بجائے اور مارو یا مرو کے نعرے لگائے جا رہے تھے اور کہاں محض استعفوں سے جان خلاصی کی تدبیر۔ مخالفین کے بقول یہ فیس سیونگ کی ایک کوشش تھی، جس کا انہیں کچھ فائدہ حاصل نہیں ہوگا۔ عمران خان کے سیاسی مخالفین بالخصوص حکمران جماعت کے رہنما طنزا یہ کہتے بھی نظر آئے کہ عمران خان ان کی حکومت گرانے کیلئے طبل جنگ بجاتے آئے تھے، مگر انجام کار اپنی ہی دو صوبائی حکومتیں گرانے کا اعلان کرکے چلتے بنے۔

سیاسی مبصرین کیلئے یہ اعلان یوں الجھاؤ کا باعث بنا کہ استعفوں کے ساتھ ہی ان دو صوبوں کی اسمبلیاں تحلیل کرنے کا نکتہ بھی سامنے لایا گیا جہاں پی ٹی آئی کی حکومتیں قائم ہیں، عمران خان کے بیان سے چونکہ کسی ایک امر کا واضح تعین نہیں ہو رہا تھا، اس لیے سیاسی تجزیہ کار اور ماہرین قانون اپنے اپنے طور پر مو شِگافیوں میں مصروف نظر آئے۔ اب پی ٹی آئی نے اپنے اعلیٰ سطح اجلاس میں قانونی ماہرین کے ساتھ مشاورت کے بعد واضح کیا ہے کہ وہ اسمبلیوں کی تحلیل کی طرف جائیں گے۔

دوسری طرف مرکزی حکمران اتحاد جو پنجاب اور کے پی کے میں اپوزیشن میں ہے، نے پی ٹی آئی کا یہ ممکنہ سیاسی وار ناکام بنانے کیلئے سر جوڑ لیے ہیں اور یہ اعلان بھی سامنے آیا ہے کہ وہ اسمبلیوں کا آخر تک دفاع کریں گے اور عمران خان کو مرضی کا آرمی چیف لگانے میں ناکامی کی طرح اسمبلیاں توڑنے میں بھی کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔

اس عمل سے ملک کے اندر دو طرفہ سیاسی محاذ آرائی کے ایک نئے فیز کا آغاز ہوگیا ہے، ملک میں پہلے ہی طویل عرصے سے سیاسی جماعتوں کے درمیان اقتدار کی رسا کشی کے باعث شدید عدم استحکام اور سیاسی بے یقینی کی فضا ہے، چھبیس نومبر کے اجتماع سے بعض حلقوں کو امید تھی کہ اب اسی سیاسی جوتم پیزار کو کم از کم عام انتخابات تک بریک لگ جائے گی، مگر فریقین کی جانب سے نئی سیاسی چالوں کے ساتھ میدان میں آنے کے اعلان کے بعد محسوس یہی ہو رہا ہے کہ ملک ایک بار پھر طویل عرصے تک سیاسی محاذ آرائی کا اکھاڑا بننے جا رہا ہے۔

یہ ملک کی بڑی بدقسمتی ہے کہ اہل سیاست سیاسی رواداری اور ایک دوسرے کو برداشت کرنے کے مثبت رویوں سے یکسر عاری ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس روش پر نظر ثانی کرلی جائے۔ سیاستدانوں کو جاننا چاہیے کہ ملک طویل مدت تک اور مستقل طور پر سیاسی عدم استحکام کا متحمل نہیں ہے۔ یہ صورتحال ملک کو معاشی اور سماجی افراتفری کی طرف لے جائے گی، جو کسی کے بھی مفاد میں نہیں ہے!

Related Posts