اسلاموفوبیا اور امریکا کی سیاست

تازہ ترین

تازہ ترین

امریکی طاقت کے شوروغوغا میں اسلاموفوبیا کے عروج کی 2 دہائیوں بعد رواں برس 8 نومبر کے وسط مدتی انتخابات سے نئے نتائج سامنے آئے ہیں۔

وسط مدتی انتخابات کے نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی مسلمان اب امریکا کی سیاست میں شامل ہوگئے۔ امریکی تاریخ میں پہلی بار ایک سرکردہ سیاسی جماعت نے ری پبلکن ٹی وی کے ڈاکٹر سے سیاستدان بننے والے ڈاکٹر مہمت اوز کو پنسلوانیا میں سینیٹر کی نشست کیلئے نامزد کردیا۔اگرچہ وہ ڈیموکریٹک امیدوار جان فیٹرمین سے انتخاب ہار گئے تاہم کم از کم 34 لاکھ 50 ہزار افراد کی کمیونٹی کیلئے اسے ریکارڈ توڑ الیکشن قرار دیا جاسکتا تھا۔

مسلمان امریکی شہریوں نے نومبر کے دوران مقامی، ریاستی اور وفاقی وسط مدتی انتخابات میں کم از کم 83 نشستیں اپنے نام کیں۔ ٹائم میگزین نے کونسل آن امریکن اسلامک ریلیشنز کے تجزئیے کا حوالہ دیا۔ رواں برس کم و بیش 150 مسلمان امریکیوں نے انتخابات میں حصہ لیا تھا جن میں 23 ریاستوں کے 51 ریاستی قانون ساز امیدوار بھی شامل تھے۔رواں برس کی جیت نے 2020 کے ریکارڈ کو پیچھے چھوڑ دیا جبکہ امریکا میں نائن الیون حملوں سے مسلمانوں کے خلاف نفرت کے نئے دور کا آغاز ہوا تھا۔

مسلم مخالف جرائم، نسل پرستی اور اسلاموفوبیا کے ایک نئے دور کا آغاز ہوا اور رواں برس ہی امریکا نے 9/11 حملوں کی 21ویں برسی منائی۔ ایف بی آئی کا کہنا ہے کہ 11 ستمبر 2001 کے بعد امریکا میں مسلمانوں کے خلاف نفرت پر مبنی جرائم بڑھ گئے۔

ایف بی آئی کے مطابق اب بھی مسلمانوں کے خلاف نفرت پر مبنی جرائم میں اضافے کا رجحان جاری ہے۔ لاس اینجلس چیپٹر کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر حسام آئلوش نے کہا کہ مسلمان بدستور نفرت، غنڈہ گردی اور امتیازی سلوک کا نشانہ بنے ہوئے ہیں جوکہ اسلاموفوبیا اور 9/11 حملوں کے بعد نفرت کے باعث بڑھ گیا۔

کونسل آن امریکن اسلامک ریلیشنز نے ستمبر کے دوران اپنے ایک بیان میں کہا کہ ستم ظریفی ہے کہ 2001 میں نفرت کے طوفان کے 21 سال بعد بھی مسلمان امریکی شہریوں کو ہدف بنا کر تشدد کرنے کا عمل جاری ہے اور حقیقتاً ایسے لوگ اور تنظیمیں ہیں جو اسلاموفوبیا، تعصب اور جنگجویانہ عزائم سے فائدہ اٹھا رہی ہیں۔ سابق صدرڈونلڈ ٹرمپ کا مسلم مخالف سیاسی بیانیہ حیرت انگیز طور پر امریکا میں سیاسی ماحول کو انتہائی غیر مستحکم کرنے کا باعث بنا۔

قبل ازیں ڈونلڈ ٹرمپ کا ٹوئٹر اکاؤنٹ معطل کردیا گیا تھا جسے اب فعال کردیا گیا ہے تاہم ٹرمپ سے جو نقصان امریکی اعتدال پسند معاشرے اور دو قطبی سیاست کو پہنچا، وہ ناقابلِ تلافی ثابت ہوا ہے۔

حالیہ امریکی انتخابات اس بات کے غماز ہیں کہ ٹرمپ کی ہرزہ سرائی بے نتیجہ ثابت ہوئی۔ امریکی سیاست میں مسلمان امریکیوں کا عروج اسلاموفوبیا کی مکمل نفی کرتا ہے جس کی تعریف اسلام یا مسلمانوں کے خلاف ناپسندیدگی یا تعصب کے طور پر کی جاتی ہے۔

بنیادی طور پر یہ امریکا کا ایک عام مسئلہ ہے۔ ہیوسٹن میں رائس یونیورسٹی کے بونیوک انسٹیٹیوٹ برائے مذہبی رواداری کی ایسوسی ایٹ ڈائریکٹر زہرہ جمال نے نشاندہی کی ہے کہ 62 فیصد امریکی مسلمان مذہب کی بنیاد پر دشمنی کا رویہ محسوس کرتے ہیں اور 65 فیصد دیگر شہریوں کی جانب سے بے عزتی محسوس کرتے ہیں۔

عیسائیوں میں یہ معاملہ 3 فنا ہے۔ داخلی اسلاموفوبیا نوجوان مسلمانوں میں زیادہ پایا جاتا ہے جنہوں نے مقبول ثقافت، خبروں، سوشل میڈیا، سیاسی بیان بازی اور پالیسی وغیرہ میں اسلام دشمنی کا سامنا کیا ہو جس سے ان کے اپنے کردار اور دماغی صحت پر منفی اثرات مرتب ہوئے۔

بلاشبہ امریکا میں اسلاموفوبیا اثر و رسوخ اور سیاست کے ایک طاقتور ہتھیار میں تبدیل ہوچکا ہے۔ مغربی دنیا میں جہاں اسلام مخالف پراپیگنڈہ اور ہیرا پھیری سے سماجی ادراک کے خلل کو تقویت ملتی ہے، وہیں مسلمان سیاسی تنازعات اور اقتدار کی کشمکش میں اہم ہتھیار بن جاتے ہیں جبکہ امریکا میں اسلاموفوبیا کے مظاہر بڑھ رہے ہیں۔ نسل پرست سیاسی گروہ زیادہ فعال ہورہے ہیں۔

تارکینِ وطن امتیازی سلوک اور نفرت انگیز جرائم کا شکار ہیں۔ نئی حوصلہ افزائی اسلام مخالف لہر میں بڑھنے والی تحریکوں کو جلا بخش رہی ہیں اور امریکا میں مسلمانوں کی سماجی و معاشی زندگیاں خطرے میں ہیں جو خاص طور پر صدارتی انتخابات کے موقعے پر واضح ہے۔

ری پبلکن امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ اپنی مہم کو اسلام مخالف بیانات پر مبنی بنانے کی کوشش کر رہے ہیں اور مسلمانوں کو امریکا سے باہر کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہیں۔ ان کے ریمارکس نے امریکیوں کو نفرت انگیز جرائم کی ترغیب دی۔ اپنے سیاسی مخالف اور ساتھی پارٹی کے رکن ٹیڈ کروز کے بارے میں ٹرمپ کا دعویٰ ہے کہ ان کی امیدواری ان کے کینیڈین پس منظر کی وجہ سے صدارت کی اہل نہیں ہے۔ اسے بااثر لوگوں کی جانب سے ڈھٹائی کے ساتھ سیاسی مقاصد کیلئے زینو فوبیا کے استعمال کی واضح مثال قرار دیا جاسکتا ہے۔ پھر بھی انہیں امریکیوں کی معقول تعداد کی حمایت مل جاتی ہے تاہم یہ نسل پرستانہ اور امتیازی بیان بازی مسلمانوں کیلئے مشکلات میں اضافہ کرسکتی ہے۔

نائن الیون کے حملوں اور عرب اسپرنگ واقعات کے بعد سے اسلاموفوبیا جس کے بیج امریکی معاشرے میں طویل عرصے سے بوئے جارہے تھے، خطرناک حد تک پہنچ چکا ہے۔ امریکی حکام نے دہشت گردی سے لڑنے کے بہانے روایتی طور پر اسلامی ممالک پر قبضے اور جنگ کی جو پالیسی اپنائی اور اس پر عملدرآمد کیا، اس سے مسلم دنیا کے خلاف غصے اور نفرت میں اضافہ ہوا۔ اگرچہ نفرت پر مبنی جرائم پر قانونی ڈھانچہ قائم کرنے والا پہلا ملک بھی امریکا ہی تھا لیکن اسلاموفوبیا پر مبنی جرائم روکنے کیلئے قانونی پابندیاں اب بھی غیر مؤثر ہیں۔

 دنیا کے حالات دیکھتے ہوئے روسی صدر ولادی میر پیوٹن نے 2021 کی سالانہ پریس کانفرنس میں کہا کہ پیغمبرِ اسلام ﷺ کی توہین مذہب کی آزادی کی خلاف ورزی اور اسلام پر عمل کرنے والوں کے مقدس جذبات کی توہین ہے۔

روس بنیادی طور پر دیگر ریاستوں کے مفادات اور روایات کا احترام کرنے والا ملک ہے جو کثیر القومی ریاست کے طور پر روس کے وجود کی بنیاد قرار دی جاسکتی ہے۔ یہ سمجھنا ضروری ہے کہ دنیا میں گہری تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں۔

روایتی اقدار کو سنگین چیلنجز کا سامنا ہے۔ بین النسلی اور بین المذاہب تعلقات کے سب سے پیچیدہ اور حساس مسائل بد قسمتی سے بعض اوقات قیاس آرائیوں اور غیر ایماندارانہ جغرافیائی سیاسی کھیلوں کا موضوع بن جاتے ہیں۔ انتہا پسند اور بنیاد پرست اس کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں اور باہمی نفرت اور دشمنی کو ہوا دی جاتی ہے۔ بلا شبہ بین النسلی اور بین المذاہب امن  بڑے بڑے ممالک کی بنیاد قرار دی جاسکتی ہے۔

ہمارے خطے کو دنیا بھر کے حکام، سول سوسائٹی اور میڈیا کی مسلسل توجہ کی ضرورت ہے، خاص طور پر امریکا میں ٹرمپ کی طرح کے سیاستدانوں کو ان حقائق کو سمجھنا ہے، اس سے پہلے کہ بہت دیر ہوجائے۔

Related Posts