بڑھتی ہوئی مہنگائی، قوت خرید میں روز افزوں واقع ہونے والی شدید کمی، بیروزگاری، کاروبار و معاش کا نامساعد ماحول اور دیگر عناصر نے مل کر عوام بالخصوص متوسط اور نچلے طبقے کے لیے شدید بحرانی کیفیت پیدا کرنے کے بعد اب جانیں لینا بھی شروع کر دی ہے۔
منگل کو کراچی کے علاقے ملیر میں ایک دل دہلا دینے والا واقعہ پیش آیا، جس میں فواد نامی شخص نے کاروبار میں ہونے والے نقصان اور سرمایہ کاروں کی جانب سے پیسوں کے مسلسل مطالبے سے تنگ آکر اپنی بیوی اور تین کمسن بچیوں کو بے دردی سے قتل کردیا اور اس کے بعد اپنی جان لینے کی کوشش کی۔
اس قتل نے پورے محلے، شہر اور ملک میں صدمے کی لہر دوڑا دی ہے۔ اس افسوسناک واقعے کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مجرم کی شناخت فواد کے نام سے ہوئی ہے، وہ نجی فرم میں سیلز منیجر کے طور پر کام کرتا تھا اور اس کے ساتھ سرمایہ کاروں کے پیسوں پر کاروبار بھی کرتا تھا۔
مقتولین میں فواد کی اہلیہ ہما، اس کی بیٹیاں 10 سالہ ثمرہ، 12 سالہ فاطمہ اور 16 سالہ نیہا شامل ہیں۔ اسپتال میں دوران علاج دیے جانے والے فواد کے اعترافی بیان کے مطابق وہ کچھ سرمایہ کاروں کے ساتھ مل کر ایک کاروبار بھی چلا رہا تھا اور نوکری بھی کرتا تھا اور کچھ عرصے سے اسے کاروبار میں نقصان کا سامنا تھا جبکہ اس کی عموما بیوی کے ساتھ گھر میں لڑائی ہوتی تھی۔ اعترافی بیان میں فواد کا کہنا تھا کہ وہ روز روز کے ان جھگڑوں کے باعث اپنی زندگی سے بالکل تنگ آچکا تھا۔
اس کا کہنا تھا کہ “میں پہلے ہی نقصانات اور سرمایہ کاروں کے اپنے پیسے واپس دینے کے مطالبات کی وجہ سے ڈپریشن کا شکار تھا۔”
فواد نے کہا کہ سرمایہ کاروں کے دباؤ اور اپنی اہلیہ کی مسلسل ‘بدتمیزی’ کی وجہ سے میں نے اپنے خاندان اور خود کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا۔
اس اندوہناک واقعے نے معاشرے کا مکروہ چہرہ اور حکومت کی معاشی پالیسیوں کو بے نقاب کر دیا ہے جس کی وجہ سے لوگ اس حد تک جانے پر مجبور ہو گئے ہیں کہ وہ اپنے پیاروں کو بھی قتل کر دیتے ہیں۔ ابتدائی تفتیش اور فواد کے اعترافی بیان کے مطابق اسے سرمایہ کاروں کی جانب سے رقم واپس کرنے پر مجبور کیا جا رہا تھا لیکن نقصان کی وجہ سے وہ ایسا کرنے سے قاصر رہا اور ایسا گھناؤنا قدم اٹھانے کا فیصلہ کیا۔
یقینی طور پر آنے والے دنوں میں اس معاملے کے مزید پہلو سامنے آئیں گے کیونکہ پولیس نے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے لیکن اب تک جو نتائج سامنے آئے ہیں وہ واقعی خوفناک ہیں اور مستقبل میں ایسے حادثات سے بچنے کے لیے مضبوط اور ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں