اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف کے سینیٹر اعظم سواتی کی تحویل کو بلوچستان منتقل کردیا گیا ہے جہاں انہیں صوبائی دارالحکومت کوئٹہ کے باہر کچلاک جیل میں رکھا جائے گا۔
یہ پیش رفت صرف ایک دن بعد سامنے آئی جب ایف آئی اے نے اسلام آباد کی عدالت کو بتایا کہ اس نے اپنی تحقیقات مکمل کر لی ہیں اور مزید تفتیش کی ضرورت نہیں ہے۔ اعظم سواتی کو اتوار کو دو ماہ سے بھی کم عرصے میں دوسری بار متنازع ٹویٹس اور تقاریر پر گرفتار کیا گیا تھا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق سینیٹر اعظم سواتی کے بیٹے نے میڈیا سے رابطہ کرتے ہوئے بتایا کہ ان کے والد کو 26 نومبر کو پی ٹی آئی کے جلسے میں متنازع تقریر کے معاملے میں راتوں رات بلوچستان منتقل کردیا گیا ہے۔ اعظم سواتی کے خلاف بلوچستان بھر میں کئی مقدمات بھی درج ہیں۔
گزشتہ روز ہی ایف آئی اے نے عدالت میں پی ٹی آئی رہنما کا جسمانی ریمانڈ ختم کرنے کی درخواست دائر کرتے ہوئے عدالت کو آگاہ کیا کہ اس نے اپنی تحقیقات مکمل کر لی ہیں، پی ٹی آئی رہنما سے مزید تفتیش کی ضرورت نہیں۔
ایجنسی حکام نے عدالت سے پی ٹی آئی رہنما کو جوڈیشل ریمانڈ پر بھیجنے کی استدعا کی جسے عدالت نے منظور کر لیا۔
مزید پڑھیں:کالعدم ٹی ٹی پی کا کوئٹہ حملے کی ذمہ داری قبول کرنا تشویشناک ہے، وزیر داخلہ
پی ٹی آئی رہنما ڈاکٹر یاسمین راشد نے بھی جمعرات کو سپریم کورٹ سے درخواست کی کہ وہ پی ٹی آئی کے سینیٹر اعظم سواتی پر سیاسی طور پربنائے گئے مقدمات پر ازخود نوٹس لے۔ درخواست میں سینیٹر اعظم سواتی کی ”غیر قانونی گرفتاری” اور ”ان کے گھر کی رازداری کی خلاف ورزی” پر فوری نوٹس لینے کا کہا گیا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








