عوام کا کوئی پرسانِ حال نہیں۔ ایک حکومت جائے تو دوسری آجاتی ہے اور عوام کو خوشحال بنانے کے جھوٹے سچے خواب دکھائے جاتے ہیں جو ملک کی تکلیف دہ 75سالہ سیاسی تاریخ میں کبھی سچ نہیں ہوسکے۔
ایک سیاسی جماعت جو عوام کو ریلیف دینے کا وعدہ کرتی ہے، وہ کوشش کے باوجود مہنگائی پر قابو نہیں پاسکتی اور دوسری طویل تجربے اور معاشی مسائل کے شعور کا دعویٰ کرتے ہوئے بھی عالمی اداروں سے کامیاب ڈیلنگ میں ناکام نظر آتی ہے۔
گزشتہ روز یہ خبر سامنے آئی کہ جنوبی پنجاب کے اراکینِ قومی اسمبلی نے سیلاب سے متاثرہ 3 اضلاع کے نقسانات کا تخمینہ لگانے کیلئے سروے میں غلطیوں پر شدید تحفظات کا اظہار کیا اور الزام لگایا کہ متاثرین کی فہرستوں میں سیاسی وابستگی کو اہمیت دی گئی۔
کوئی بھی باشعور شہری یہ آسانی سے سمجھ سکتا ہے کہ اراکینِ اسمبلی بے شک عوام کے ووٹوں سے ہی ایوانوں میں پہنچتے ہیں تاہم اسمبلی میں پہنچنے سے قبل سیاسی جماعت سے وابستگی ہی انہیں اسمبلی نشست کیلئے ٹکٹ دینے کا باعث بنتی ہے۔
سیاسی وابستگی سے بڑے بڑے کام نکالے اور نکلوائے جاسکتے ہیں۔ اراکینِ اسمبلی ریاض مزاری اور افضل ڈھانڈلہ نے ایک توجہ دلاؤ نوٹس کے ذریعے الزام عائد کیا کہ شدید بارش اور سیلاب کے نقصانات کا جائزہ لینے کیلئے سروے کیا گیا۔ فہرستوں سے حقیقی سیلاب متاثرین کے نام غائب ہیں۔
حال ہی میں یہ خبر سامنے آئی تھی کہ سیلاب متاثرین کو سندھ میں سردی سے بچنے کیلئے کمبل تک میسر نہیں اور سیلاب زدہ علاقوں سے پانی تاحال نکالا نہیں جاسکا۔ سیلاب زدگان کا کہنا تھا کہ حکومت بتائے بیرونِ ممالک سے آنے والی امداد کہاں چلی گئی؟
محسوس ایسا ہوتا ہے کہ پنجاب ہو، سندھ یا ملک کا کوئی اور صوبہ، سیلاب زدگان کی بحالی کیلئے اقدامات کا فقدان ہر جگہ موجود ہے جبکہ وفاقی حکومت دنیا بھر میں موسمیاتی انصاف کے مطالبے کرتی پھر رہی ہے۔
سوال یہ ہے کہ آپ جو انصاف عالمی برادری سے مانگ رہے ہیں، کیا گزشتہ 75سال میں کسی ایک بھی حکومت نے عوام کو اس انصاف کا عشرِ عشیر بھی فراہم کیا؟ جواب یقیناً نفی میں آئے گا۔ اور یہی وجہ ہے کہ عالمی برادری آپ کو انصاف نہیں دے رہی۔
تکلیف دہ بات یہ ہے کہ پاکستان میں جمہوریت یا آمریت کا نظام نہیں بلکہ ایک اور ہی طرح کا نظام رائج رہا ہے جسے آپ مل بانٹ کر کھانے کا نظام قرار دے سکتے ہیں۔ اسمبلیوں میں عوامی مسائل پر بحث اور گفت و شنید کے علاوہ حکومت اور اپوزیشن عوام کی فلاح و بہبود کیلئے کسی بھی طرح کے اقدامات اٹھاتے نظر نہیں آتے۔
مہنگائی ہو، تعلیم کی فراہمی یا روزگار کا مسئلہ، یہ تمام تر مسائل اسی وقت حل ہوسکتے ہیں جب ملک پر کوئی مخلص سیاسی جماعت آئے اور اس کے دیانتدار رہنما عوام کی فلاح و بہبود کیلئے اقدامات اٹھائیں۔ شاید اس خواب کو حقیقت بننے میں ابھی بہت دیر باقی ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں