پہلی خاتون وزیر اعظم کی شہادت

تازہ ترین

تازہ ترین

محترمہ بے نظیر بھٹو شہید ملک کی وہ پہلی خاتون وزیر اعظم تھیں جس نے متعدد ریکارڈز اپنے نام کیے اور زندگی بھر ملک و قوم کی خدمت کو اپنا شعار بنایا۔ آج 27 دسمبر کے روز ان کی شہادت کو 15 برس مکمل ہوگئے۔

بے نظیر بھٹو نے 21 جون 1953 کے روز وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کے ہاں جنم لیا تاہم آج تک اِس تکلیف دہ سوال کا جواب کوئی نہیں دے سکا کہ ملک کی پہلی خاتون وزیر اعظم کو کس شقی القلب شخص نے قتل کیا۔

وزیر اعظم پاکستان ذوالفقار علی بھٹو کے سائے میں بے نظیر بھٹو  نے ابتدائی تعلیم کراچی کے لیڈی جیننگز نرسری اسکول اور کانوینٹ آف جیزز اینڈ میری سے حاصل کی۔ 2 سال تک راولپنڈی اور پھر مری میں بھی تعلیم کا سلسلہ جاری و ساری رہا۔

او لیول کا امتحان پاس کرنے کے بعد 15 سالہ بے نظیر بھٹو اعلیٰ تعلیم کیلئے کمربستہ ہوئیں اور پھر ہارورڈ یونیورسٹی میں 1969 میں داخلہ لے لیا۔ 1973 میں بے نظیر بھٹو کی گریجویشن مکمل ہوئی۔ آکسفورڈ یونیورسٹی سے انہوں نے معاشیات، سیاسیات اور فلسفے کے مضامین میں ماسٹرز بھی کیا۔

جون 1977 کی بات ہے جب بے نظیر بھٹو کو وزارتِ خارجہ میں تعینات کیا جانا تھا تاہم ان کی وطن واپسی پر جنرل ضیاء الحق نے سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کو قید کرکے مارشل لاء نافذ کردیا اور بے نظیر بھٹو بھی نظر بند ہوگئیں۔ 1979 میں ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دے دی گئی۔

سن 1981 میں محترمہ بے نظیر بھٹو نے ایم آر ڈی اتحاد کے تحت مارشل لاء کے خلاف سیاسی جدوجہد شروع کی۔ 80 کی دہائی میں پیپلز پارٹی کی چیئر پرسن بنیں، 1987 میں آصف علی زرداری سے شادی ہوگئی۔

بعد ازاں 2 دسمبر 1988 کے روز 35 سالہ بے نظیر بھٹو نے ملک کی پہلی خاتون وزیر اعظم کے طور پر حلف اٹھا لیا۔ 1990 میں بدعنوانی کے الزامات لگا کر ان کی حکومت ختم کی گئی، پھر 1990 میں نواز شریف وزیر اعظم بن گئے۔

نواز شریف کی حکومت ختم ہونے پر اکتوبر 1993 میں بے نظیر بھٹو دوبارہ وزیر اعظم بنیں۔ 1996 میں صدرِ مملکت فاروق لغاری نے بدعنوانی، ماورائے عدالت قتل اور بدامنی کے الزامات لگا کر یہ حکومت بھی برطرف کر ڈالی۔

بطور وزیر اعظم بے نظیر بھٹو نے خواتین کیلئے بہت سے کام کیے۔ امتیازی قوانین ختم کیے، حقوق دلائے، وزارتِ انسانی حقوق قائم کی۔ ہر شہر میں لیبر کالونیاں قائم کیں، مزدوروں کیلئے قانون سازی اور ٹریڈ یونینز پر پابندیوں کا خاتمہ بھی کیا۔

آج محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کی برسی منائی جارہی ہے۔ انہیں 27 دسمبر 2007 کے روز 54 برس کی عمر میں شہید کیا گیا۔ ملک بھر کی خواتین، مزدور اور وہ سب پاکستانی شہری جن کیلئے بے نظیر بھٹو نے کام کیا تھا، آج ان کے ایصالِ ثواب کیلئے دعائیں کر رہے ہیں۔

Related Posts