جون 2023 میں ختم ہونے والے رواں مالی سال میں پاکستان کی معیشت میں صرف 2 فیصد کی شرح نمو متوقع ہے، جو سست شرح نمو، تباہ کن سیلابوں، بلند افراط زر اور کم سازگار عالمی ماحول سے ہونے والے نقصانات اور رکاوٹوں کی عکاسی کرے گی۔ حکومت کی کوششیں جاری ہیں، چنانچہ بحالی بتدریج ہوگی، مالی سال 2024 میں جی ڈی پی کی شرح نمو 3.2 فیصد تک پہنچنے کا امکان ہے۔ حالیہ سیلاب کے تناظر میں سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں غربت مزید بڑھ سکتی ہے۔ ابتدائی تخمینے بتاتے ہیں کہ غریبوں کی مدد کے لیے فیصلہ کن ریلیف اور بحالی کی سنجیدہ اور کار آمد کوششیں نہ ہوئیں تو قومی غربت میں 2.5% سے 4% تک اضافہ ہو سکتا ہے، جو 5.8 سے 9 ملین کے درمیان لوگوں کو غربت میں دھکیل سکتا ہے۔ میکرو اکنامک خطرات بھی زیادہ ہیں کیونکہ پاکستان کو کرنٹ اکائونٹ کے بڑے خسارے، بھاری قرضوں سے چیلنجز کا سامنا ہے۔
تیسری سہ ماہی میں 9.5% کی متوقع اوسط شرح دوسری سہ ماہی میں 7.7% کی متوقع شرح کے مقابلے میں نمایاں اضافہ کی نمائندگی کرتی ہے۔ ماہرین کے مطابق 2022 میں افراط زر کی شرح گزشتہ دہائی (2010 سے 2019) کے عالمی بینک کی اوسط مہنگائی کے مقابلے میں 6.7 فیصد زیادہ رہی، جو حالات کی سنگینی کی نشاندہی کرتی ہے۔ ماہرین آنے والے برسوں میں بھی دنیا بھر میں بلند افراط زر کا خطرہ ظاہر کر رہے ہیں۔ جس کا مطلب یہی ہے کہ مستقبل میں بھی قیمتوں میں اضافہ جاری رہے گا اور دور دور تک عوام کو ریلیف ملنے کے آثار نظر نہیں آ رہے۔
2023 میں افراط زر کی اوسط شرح 7.5 فیصد کے ساتھ، 2022 کے مقابلے میں صرف معمولی کمی متوقع ہے۔ یہ خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ افراط زر طویل مدت تک بلند رہ سکتا ہے۔ یہ صرف پاکستان کی بات نہیں، دنیا کے مختلف خطوں میں افراط زر کی صورتحال ایسی ہی خراب اور مشکل رہے گی۔ 2023 میں مشرقی افریقہ میں تقریباً 60%، شمالی افریقہ میں 47%، جنوبی امریکہ اور مغربی ایشیا (ہر ایک میں) 30% تک مہنگائی میں اضافے کا خطرہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ جنوب مشرقی ایشیا (5.6%)، مشرقی ایشیا (5.9%)، اور اوشیانا میں (6.8%) تک مہنگائی بڑھ سکتی ہے، یہی کچھ صورتحال شمالی امریکا اور یورپ میں بھی پیدا ہوسکتی ہے۔
جیسا کہ سیلاب کی تباہ کاریوں کے بعد کی صورتحال کا تخمینہ لگایا گیا ہے، وفاقی کمیٹی برائے زراعت (ایف اے سی) نے نوٹ کیا ہے کہ گنے کی پیداوار میں 7.9 فیصد کمی ہوئی ہے (88.7 ملین ٹن سے 81.6 ملین ٹن) چاول کی پیداوار میں 40.6 فیصد کمی ہوئی (گزشتہ سال کی پیداوار 9.3 ملین ٹن کے مقابلے میں 5.5 ملین ٹن) مکئی کی پیداوار میں 3.0% (9.2 ملین ٹن بمقابلہ 9.5 ملین ٹن)، کپاس کی پیداوار میں 24.6 فیصد کمی ہوئی یعنی اس سال 6.3 ملین گانٹھیں پیداوار رہی، جو گزشتہ سال 8.3 ملین گانٹھیں تھیں۔ اس کے علاوہ زیر کاشت رقبہ میں کمی سے گندم کی پیداوار متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ آئندہ ربیع 2022-23 کے لیے گندم کی پیداوار کا ہدف 9.3 ملین ایکڑ رقبے کے مقابلے میں 28.370 ملین ٹن مقرر کیا گیا ہے، چنانچہ فوری طور پر کوئی امکان نہیں کہ حالات میں بہتری کے آثار نظر آئیں۔
یہ طے ہے کہ پیداوار اور ترقی کے عمل میں کمی کے اثرات غربت پر پڑیں گے کیونکہ بہت سی معیشتیں مکمل طور پر سکڑ رہی ہیں۔ بلند شرح سود اور روپے کے مقابلے میں مستحکم ڈالر ملک کی کمزور معیشت کے لیے سرمائے کے بہاؤ پر منفی اثرات مرتب کرے گا، جس کے نتائج قرضوں کے بوجھ اور ادائیگی کی صلاحیتوں پر پڑیں گے۔ مزید برآں اس صورتحال سے درآمدات بھی متاثر ہوں گی اور اس طرح افراط زر کے دباؤ میں بھی اضافہ ہوگا۔ اندریں حالات پاکستان کو سخت مشکل چیلنجز کا سامنا ہے۔
ترقی سے متعلق ایک اور قابل غور چیز بلند افراط زر کا برقرار رہنا ہے۔ اکتوبر 2022 کی رپورٹ کے مطابق افراط زر گزشتہ سال کے اسی مہینے کے مقابلے میں بڑھ کر 26.6% ریکارڈ کیا گیا، جس میں شہری افراط زر 24.6% اور دیہی 29.5% ہے۔ ستمبر میں افراط زر اگست میں ریکارڈ ہونے والے 27.3 فیصد کی بلند ترین سطح سے کچھ کم ہو کر 23.2 فیصد پر آ گیا تھا، امید کی جا رہی تھی کہ آنے والے مہینوں میں یہ معتدل ہو جائے گی، تاہم ایسا نہ ہوسکا۔
زیادہ تشویشناک بات افراط زر کی بڑھتی ہوئی صورتحال ہے۔ افراط زر کی بلند سطح پالیسی ریٹ پر سخت دباؤ ڈالے گی۔ پہلی سہ ماہی کے بجٹ کے اعداد و شمار دوسرے مہینے تک دستیاب نہیں ہوں گے، تاہم فنانس ڈویژن کی ایک رپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ پہلے دو ماہ کا خسارہ 462 ارب روپے کے مقابلے میں 672 ارب روپے ریکارڈ کیا گیا۔ بنیادی خسارہ 37 ارب روپے کے مقابلے میں 90 ارب روپے ریکارڈ کیا گیا۔ دوسری طرف آئی ایم ایف پروگرام میں مالیاتی ایڈجسٹمنٹ کے حوالے سے بڑے اہداف دیے گئے ہیں جنہیں افراط زر کی جاری صورتحال میں حاصل کرنا مشکل ہو جائے گا۔
سیلاب سے ہونے والی تباہ کاری کی مد میں حکومت کو جوحادثاتی اخراجات کرنے پڑے، اس کے علاوہ مختلف اشیاء اور شعبوں میں سبسڈی کی جن بہت سی نئی تجاویز کی منظوری دی گئی ہے، اس سے بھی معیشت شدید دباؤ میں ہے۔ مہنگائی کی اس عالمی لہر اور معیشت کی اس ابتر صورتحال کو پیش نظر رکھتے ہوئے حکومت کو بہت ہی احتیاط اور حکمت سے قدم اٹھانا ہوں گے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں