جنوبی ایشیا میں بڑھتا ہوا خوف

تازہ ترین

تازہ ترین

عالمی کساد بازاری، معاشرتی رویوں اور عدم برداشت کے باعث آج کی دنیا میں خوف کا ماحول ایک وسیع نوعیت کا مسئلہ بنتا جارہا ہے جو عوام، برادریوں اور ممالک کو متاثر کر رہا ہے۔ خاص طور پر جنوبی ایشیا میں خوف واضح طور پر دیکھا جاسکتا ہے۔

لوگ ایک دوسرے پر اعتبار نہیں کرتے۔ خوف کے اثرات ان گنت طریقوں سے عوام کی زندگیوں اور رہن سہن کو متاثر کرتے ہیں۔ حالیہ تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ جنوبی ایشیا میں ذہنوں میں خوف نے جڑ ہی پکڑ لی ہے جس پر عالمی ادارۂ صحت نے بھی سروے کیا۔

عالمی ادارۂ صحت کے سروے سے پتہ چلتا ہے کہ گزشتہ 10 سال سے خطے میں بے چینی اور ذہنی دباؤ میں نمایاں اضافہ ہوا جس کی بڑی وجہ خوف اور عدم تحفظ کے ماحول کو قرار دیا جارہا ہے جبکہ اس خوف کی جڑیں کئی عوامل میں پیوست نظر آتی ہیں۔

مثال کے طور پر سیاسی عدم استحکام، معاشی طور پر غیر یقینی صورتحال اور وسیع تر تنازعات سے نہ صرف خوف جنم لیتا ہے بلکہ خوف کے باعث یہ چیزیں مزید جنم لیتی ہیں۔ خطے میں دہشت گردی، جرائم اور تشدد کے مسلسل خطرات خوف میں اضافہ کرتے ہیں۔

عوام کو نوکری کھو جانے کا خوف اور اپنے خاندان کی کفالت نہ کرسکنے کے خدشات بھی پریشانی کا ذریعہ بنے ہوئے ہیں۔ یہ خوف انسان کی ذہنی صحت کو متاثر کرتا ہے اور سنگین سماجی و معاشی نتائج بھی مرتب کرتا ہے۔

معاشی طور پر کوئی بھی کاروباری شخص یا کمپنی ایسے کسی بھی ملک میں سرمایہ کاری نہیں کرتی جہاں عدم تحفظ زیادہ پایا جائے کیونکہ اس سے پیشہ ورانہ سطح پر پیداواری صلاحیتیں کم ہوجاتی ہیں کیونکہ کسی بھی کاروبار کیلئے کام کرنے والے افراد اپنی حفاظت کیلئے فکر مند ہوتے ہیں۔

نتیجتاً معاشی زوال کا ایک شیطانی چکر چل پڑتا ہے جو عدم تحفظ اور خوف کا احساس بڑھاتا چلاجاتا ہے۔ چیلنجز کے باوجود جنوبی ایشیائی خطے میں خوف سے نمٹنے کی کاوشیں بھی جاری ہیں۔ مثلاً استحکام کو فروغ دینے کیلئے سرمایہ کاری کی جارہی ہے۔

سول سوسائٹی کی تنظیمیں بھی امن وسلامتی کو فروغ دینے اور تشدد سے متاثرہ افراد کو مدد فراہم کرنے میں پیش پیش ہیں تاہم جنوبی ایشیا میں خوف کی بنیادی وجوہات ختم کرنے کیلئے مزید بہت سے اقدامات کی ضرورت ہے۔

یوں ہمیں سیاسی عدم استحکام، اقتصادی غیر یقینی صورتحال اور تنازعات جیسے مسائل سے نمٹنے کیلئے حکومت، سول سوسائٹی اور عالمی برادری کی مدد سے مسلسل کاوشوں کی ضرورت ہے۔ مل کر کام کرنے سے ہی ہم ایک ایسا مستقبل تشکیل دینے میں کامیاب ہوسکتے ہیں جہاں ہر شخص خوف کے بغیر سکون سے رہ سکے۔

Related Posts