چیئرمین نیب آفتاب سلطان کے عہدے سے مستعفی ہونے کی وجوہات کیا ہیں؟

تازہ ترین

تازہ ترین

چیئرمین قومی احتساب بیورو آفتاب سلطان نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ وزیر اعظم شہباز شریف سے حال ہی میں ہونے والی ملاقات کے دوران نیب کے سربراہ نے اپنا استعفیٰ پیش کردیا۔

وزیر اعظم شہباز شریف نے چیئرمین نیب کو استعفیٰ واپس لینے کا کہا، تاہم سابق ڈی جی انٹیلی جنس بیورو (آئی بی) نے وزیر اعظم کو آگاہ کیا کہ وہ اپنے عہدے پر مزید کام جاری نہیں رکھ سکتے۔

چیئرمین نیب کے مستعفی ہونے کی وجہ

بعض میڈیا رپورٹس کے مطابق چیئرمین نیب نے عہدے سے استعفیٰ کچھ روز قبل اور بعض کے مطابق 2 روز قبل وزیر اعظم شہباز شریف سے ملاقات کے دوران دیا۔ رپورٹس میں ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا کہ استعفیٰ ذاتی وجوہات کے باعث دیا گیا تھا، تاہم یہ درست نہیں۔

خود چیئرمین نیب کے بیانات سے یہ واضح ہوتا ہے کہ استعفے کی وجہ کیسز قائم کرنے کیلئے حکومت کی جانب سے دباؤ اور پریشر تھا۔ آفتاب سلطان نے بڑے بڑے عہدوں پر خدمات سرانجام دی ہیں، اور اصول پسند افسر ہونے کے ناطے دباؤ قبول کرنے کی بجائے استعفیٰ دے دیا۔

آفتاب سلطان کون؟

مستعفی چیئرمین نیب آفتاب سلطان پنجاب کے شہر فیصل آباد سے تعلق رکھتے ہیں۔ پولیس کو 1977 میں بطور اے ایس پی جوائن کیا۔ ان کے والد چوہدری سلطان احمد رکنِ قومی و صوبائی اسمبلی رہے ہیں۔

آفتاب سلطان کی ساس بھی رکنِ قومی اسمبلی رہی ہیں۔ چیئرمین نیب کیلئے آفتاب سلطان کا نام پیپلز پارٹی نے تجویز کیا۔ آفتاب سلطان آئی جی پنجاب، اور نیشنل پولیس اکیڈمی کے کمانڈنٹ کے طور پر بھی خدمات انجام دے چکے ہیں۔

پی پی پی کی حکومت کے دوران وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے آفتاب سلطان کو آئی بی کا ڈی جی بنا دیا، تاہم موجودہ اسپیکر اور بعد میں آنے والے وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف نے آفتاب سلطان کو آئی بی کی سربراہی سے الگ کردیا۔

دلچسپ طور پر 2014 کے دھرنے میں عمران خان نے تقریروں کے دوران آفتاب سلطان کا نام لیا اور تنقید کا نشانہ بھی بنایا۔ کہا جاتا ہے کہ سابق صدر جنرل مشرف کے دور میں آفتاب سلطان کو ریفرنڈم میں زیادہ ووٹ ڈلوانے کا حکم نہ ماننے کی پاداش میں معطل کردیا گیا تھا۔

چیئرمین نیب تعیناتی اور الوداعی خطاب

جولائی 2022 میں وفاقی کابینہ نے سابق سربراہ آئی بی آفتاب  سلطان  کو 3 سال کیلئے چیئرمین نیب تعینات کیا۔ وزیر اعظم ہاؤس کا کہنا ہے کہ آفتاب سلطان نے ذاتی وجوہات کے باعث عہدے سے استعفیٰ دیا تاہم نیب آرڈیننس بھی اس کی وجہ قرار دی جارہی ہے۔

چیئرمین نیب آفتاب سلطان کا نیب ہیڈ کوارٹر میں اپنے الوداعی خطاب میں کہنا تھا کہ آئین کو تسلیم کریں، اداروں کی بات نہ سنیں۔ مجھے کہا گیا کہ فلاں کے بھائی کو چھوڑو، فلاں کو پکڑ لو۔

الوداعی خطاب میں آفتاب سلطان نے کہا کہ ان کی اربوں کی پراپرٹی ہے، میں ایک پلاٹ والے کو پکڑوں؟نیب کو ایمانداری سے چلایا، مداخلت قبول نہیں کی۔ نیب کے افسر غیر آئینی احکامات نہ مانیں۔

خطاب میں آفتاب سلطان نے کہا کہ 99 فیصد نیب افسران تو اچھے ہیں تاہم 1 فیصد کا مسئلہ ہے۔ نہ میں کچھ لے کر آیا، نہ لے کر جا رہا ہوں۔ حکومت دو صوبوں میں الیکشن کروائے اور نئی حکومت کو تسلیم کرے۔

سیاستدانوں کاردِ عمل

پی ٹی آئی رہنما و سابق وزیرِ اطلاعات فواد چوہدری نے کہا کہ چیف الیکشن کمشنر کیلئے چیئرمین نیب کا استعفیٰ کسی بڑے پیغام سے کم نہیں۔ یہ استعفیٰ فاشسٹ نظام توڑنے کی جانب بڑا قدم قرار دیا جاسکتا ہے۔

فواد چوہدری نے کہا کہ آفتاب سلطان نے کام میں مداخلت کے خلاف استعفیٰ دیا جو پی ٹی آئی کے مؤقف کی واضح توثیق ہے۔ 22 افسران جو پنجاب میں مداخلت کیلئے لگائے گئے، خود کو نظام سے الگ کریں۔

عوامی لیگ کے سربراہ اور سابق وزیرِ داخلہ شیخ رشید کا کہنا ہے کہ حکومت کی تاش بکھرنا شروع ہوگئی۔ آفتاب سلطان کا استعفیٰ پہلی کڑی ہے۔ آئینی بحران شدید تر ہورہا ہے۔ آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ امیروں پر ٹیکس لگائیں۔

شیخ رشید نے کہا کہ 50 کروڑ سے کم کرپشن کی کھلی چھٹی دی گئی ہے۔ قوم سپریم کورٹ کی جانب دیکھنے لگی۔ نیب ترامیم پر تاریخی فیصلہ آنے کی توقع ہے۔

استعفے کے بعد کیا ہوگا؟

ایک طرف تو چیئرمین نیب کے استعفے کے بعد میڈیا میں بحث و تمحیص جاری ہے جبکہ دوسری جانب وفاقی حکومت نئے چیئرمین نیب کیلئے 2 اہم شخصیات کے ناموں پر غور میں مصروف ہوگئی۔

بعض میڈیا رپورٹس میں ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ حکومت سابق بیوروکریٹس عرفان الٰہی اور اعظم سلیمان کے ناموں پر غور کر رہی ہے جن میں سے کسی کو بھی چیئرمین نیب بنائے جانے کی توقع ہے۔

وفاقی سیکریٹری، چیئرمین پی اینڈ ڈی اور دیگر عہدوں پر ماضی میں خدمات سرانجام دینے والے عرفان الٰہی کے مقابلے میں اعظم سلیمان سابق چیف سیکریٹری اور سیکریٹری داخلہ سمیت اہم عہدوں پر ذمہ داریاں نبھا چکے ہیں اور اس وقت صوبائی محتسب پنجاب کی حیثیت سے کام کر رہے ہیں۔

 

Related Posts