سازش گھڑی چور کے خلاف نہیں نوازشریف کے خلاف ہوئی، مریم نواز

تازہ ترین

تازہ ترین

سازش گھڑی چور کے خلاف نہیں نوازشریف کے خلاف ہوئی، مریم نواز
سازش گھڑی چور کے خلاف نہیں نوازشریف کے خلاف ہوئی، مریم نواز

سرگودھا: مسلم لیگ (ن) کی چیف آرگنائزر مریم نواز نے کہا ہے کہ سازش گھڑی چور کے خلاف نہیں نوازشریف کے خلاف ہوئی، اسٹیبلشمنٹ نے گند کا ٹوکرا پھینک دیا تو ججز نے اٹھا لیا۔

سرگودھا میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے مریم نواز کا کہنا تھا کہ نوازشریف کے خلاف سازش میں 5افراد کا ٹولہ شامل تھا، یہی پانچ کا ٹولہ پاکستان کی بدحالی کا ذمہ دار ہے، ان کا سرغنہ جنرل (ر) فیض حمید تھا، انہوں نے کہا کہ ہمارے کان پک گئے کہ سازش ہوگئی سازش ہوگئی۔

مریم نواز نے اس موقع پر بڑی اسکرین پر پانچ افراد کی تصاویردکھائیں جن میں جنرل (ر) فیض حمید، جسٹس مظاہر نقوی، جسٹس اعجاز الاحسن، ثاقب نثار اور عظمت سعید کھوسہ شامل تھے۔

مریم نواز نے کہا کہ 2014 کا دھرنا ناکام ہو گیا تو عدلیہ میں سے جج اٹھائے، جو کرپٹ جج کرپٹ تھا ان کے ساتھ تھا، مسلم لیگ ن کے سارے لیڈروں کو چن چن کر نااہل کیا گیا، جنرل فیض کو آرمی چیف بننے کے لیے مہرے کی ضرورت تھی، جب مارچ ناکام ہوا تو جسٹس کھوسہ نے کہا کہ پانامہ کا کیس میرے پاس لے کر آؤ۔

مریم نواز نے کہا کہ باقی اداروں نے عمران خان کے بارے میں سمجھ لیا کہ یہ فتنہ ہے، لیکن کیا اب اسے سپریم کورٹ کے چند ججز کی جانب سے ریسکیو کیا جائے گا، اگر ایسا ہوا تو پاکستان کہاں جائے گا؟۔

اسٹیبلشمنٹ نے جب گند کا ٹوکرا اپنے کندھوں سے پھینک دیا تو یہ ٹوکرا دو، تین ججز نے اٹھا لیا، جو کرپٹ جج کرپٹ تھا ان کے ساتھ تھا، کیا سپریم کورٹ کے کچھ ججز ایک فتنے کو تھپکی دیں گے۔

مریم کا کہنا تھا کہ ایک جماعت کے سربراہ نے مجھے بتایا انہوں نے فیض حمید سے پوچھا نواز شریف کے ساتھ زیادتی کیوں کر رہے ہو فیض حمید نے کہا نواز شریف کا قد بہت بڑا ہوگیا ہے اسکو کم کرنا ہے، یہ فیض کی باقیات ہیں۔

جنرل فیض کو عمران سے محبت نہیں ہے، اس نے اربوں روپے ملک سے باہر منتقل کیے، اپنے اربوں کے پلازے کھڑے کر لیے اور پلاٹ لے لیے انکو کیا پتہ کے پاکستان کہاں پہنچ گیا۔

مزید پڑھیں:تحریکِ انصاف کی جیل بھرو تحریک، عمران خان کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں؟

مریم نے کہا کہ چیف جسٹس صاحب عوام کو پتہ ہے کہ بینچ فکسنگ ہو رہی ہے آپکو کیوں نظر نہیں آرہا، آپ گورنر کی ذمہ داری جانچنے بیٹھ گئے لیکن اپنی بھی ذمہ داری پوری کریں اور وہ ہے غیر جانبدار بینچ بنانا۔

Related Posts