ملک کے اندر رسہ کشی، عدم استحکام اور ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی سیاست اس حد تک رواج پا گئی ہے کہ اب واضح آئینی معاملات کی دستور کی ہدایات کی روشنی میں انجام دہی بھی پیچیدہ اور مشکل مسئلہ بنا دی گئی ہے۔
حکومت اور اپوزیشن کے درمیان سالوں سے جاری محاذ آرائی کے مختلف مراحل میں کئی واقعات قوم کے سامنے آئے۔ اس عرصے میں فریقین نے ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کیلئے مختلف حربے استعمال کیے، جس میں کبھی ایک کا پلہ بھاری ہوا تو کسی مرحلے میں دوسری کی بازی چل گئی۔ دشمنی کی حد تک عدم برداشت اور ایک دوسرے پر عدم اعتماد کی فضا میں جاری اس بد ترین سیاسی کش مکش کے دوران طویل محاذ آرائی کے بعد جنوری میں پنجاب اور کے پی کے میں پی ٹی آئی کی حکومتوں نے اسمبلیاں تحلیل کردیں۔
وفاقی حکومت جو پی ٹی آئی کے مخالف سیاسی اتحاد کے ہاتھ میں ہے نے پوری کوشش کی کہ کسی طرح پی ٹی آئی کے صوبائی اسمبلیاں توڑنے کے فیصلے کو غیر موثر اور ناکام بنا دیا جائے۔ اس مقصد کیلئے دونوں ایوانوں میں پوزیشن کی تبدیلی کیلئے بھی کوشش کی گئی مگر حکومت کو اپنی ان کوششوں میں کامیابی نہ مل سکی اور دونوں صوبائی اسمبلیاں آخر کار تحلیل ہو گئیں۔
اس میں شک نہیں کہ ملک بد ترین معاشی حالات سے نبرد آزما ہے، معیشت بری طرح تباہ ہوچکی ہے اور ملک کے سر پر دیوالیہ ہونے کے واضح خطرات منڈلا رہے ہیں۔ سابقہ حکومت کو بھی معیشت کی یہ دگرگونی کھا گئی تھی اور اس کے خاتمے میں معیشت کی ابتری نے ہی بنیادی کردار ادا کیا تھا اور اس وقت کی اپوزیشن کو عدم اعتماد لانے کا طاقتور جواز فراہم کیا تھا، مگر بد قسمتی سے حکومت کی تبدیلی کے باوجود معیشت کے حال میں کوئی مثبت تبدیلی نہیں آئی، بلکہ حالات پہلے سے بد تر ہو گئے اور اب بھی دور تک بہتری اور بحالی کے آثار دکھائی نہیں دیتے۔
پی ٹی آئی جو وفاق میں اپنی حکومت کے خاتمے کے بعد سے ہی مسلسل اس مطالبے کے حق میں احتجاجی تحریک چلا رہی ہے کہ فوری دوبارہ انتخابات کروائے جائیں، اتحادی حکومت کی جانب سے معیشت کی بحالی میں بد ترین ناکامی کے بعد اس نے معیشت کی بحالی کو بھی انتخابات سے جوڑ دیا ہے، چنانچہ اس کا استدلال ہے کہ معاشی استحکام کیلئے دوبارہ الیکشن کروانا ضروری ہے، جبکہ حکومت بھی معاشی دگرگونی اور ابتری ہی کو بنیاد بنا کر دوبارہ الیکشن سے گریز کی راہیں ڈھونڈ رہی ہے۔
حکومت کا استدلال یہ ہے کہ الیکشن سے پہلے معیشت کو بحال کرنا ضروری ہے اور موجودہ کمزور ترین معاشی حالات میں ملک الیکشن پر بھاری اخراجات کا متحمل نہیں ہے۔ بالخصوص حکومت کا اس بات پر بڑا زور رہا ہے کہ صوبوں اور وفاق میں الگ الگ انتخابات کی صورت میں دوہرے اخراجات کا بوجھ قومی خزانے پر ڈالنے کی بجائے ناگزیر حالات میں صوبوں اور وفاق دونوں میں ایک ساتھ اور ایک ہی بار انتخابات کروانا بہتر ہے، مگر پی ٹی آئی اس معاملے پر کسی صورت سمجھوتا کرنے اور حکومت کے ساتھ مل بیٹھنے کو تیار نہیں ہے۔
اسمبلیاں ٹوٹنے کے نوے دن کے اندر نئے انتخابات کروانا واضح آئینی اور دستوری تقاضا ہے، جس میں کوئی پیچیدگی اور ابہام نہیں ہے، تاہم اس کے باوجود اس معاملے پر اس حد تک اختلاف اور پیچیدگی کی فضا قائم ہوگئی کہ سپریم کورٹ کو بیچ میں پڑ کر فیصلہ کرنا پڑا۔
ایک واضح دستوری معاملے پر سیاسی بحران پیدا ہونا در اصل اس امر کا غماز ہے کہ ہماری قومی سیاست اخلاقیات کے ایک بڑے المیے کے گرداب میں پھنس گئی ہے۔ اختلاف رائے سیاست کا حسن اور بہتر سے بہتر ہدف تک پہنچنے کا ایک ذریعہ ہے، مگر بد قسمتی سے ہماری قومی سیاست میں اختلاف دشمنی کا دوسرا نام بن کر رہ گیا ہے۔ یہاں کوئی فریق دوسرے کا وجود برداشت کرنے کو تیار نہیں۔ ہر ایک اپنی انا کی کلغی ایستادہ رکھنے کیلئے آخری حد تک جانے سے بھی گریز نہیں کرتا۔
یہ بات واضح ہے کہ انتخابات پر بھاری صرفہ اٹھتا ہے اور پھر انتخابات کی گہما گہمی کے عرصے میں باقی امور مملکت ٹھپ ہو کر رہ جاتے ہیں، کیا ملک کی موجودہ معاشی حالت اس مہنگے عمل کا بار اٹھانے کی متحمل ہے؟ یہ بات پی ٹی آئی بھی اچھی طرح جانتی ہے مگر اس نے ہر حال میں الیکشن کے مطالبے کو انا کا مسئلہ ٹھہرا دیا اور کچھ بن نہ پڑا تو اپنے زیر اثر صوبائی اسمبلیاں تحلیل کرکے سیاسی بحران کھڑا کردیا، جبکہ حکومت کا بھی پی ٹی آئی پر عدم اعتماد کا حال یہ ہے کہ وہ اس خدشے سے کہ پی ٹی آئی الیکشن نہ جیت لے، انتخابات کو معاشی حالات کی آڑ میں ٹالنے کی راہ پر گامزن ہے۔
ایک اندازے کے مطابق خیبرپختونخوا اور پنجاب میں الیکشن پر 70 ارب روپے خرچ ہوں گے، چھ مہینے بعد انہی صوبوں میں قومی اسمبلی کے الیکشن پر پھر 70 ارب روپے خرچ ہوں گے، جبکہ باقی دو صوبوں کے قومی و صوبائی اسمبلیوں کے الیکشنز پر جو اخراجات ہوں گے وہ الگ ہیں۔ یوں انتخابات انتخابات کا یہ کھیل تباہ حال معیشت کی کمر مزید کس قدر جھکا دے گا، اس کا نہ فوری الیکشن کا مطالبہ کرنے والوں کو کچھ فکر و خیال ہوا اور نہ ہی عدلیہ نے اس نکتے پر غور کرنے کی زحمت کی۔
اس کے علاوہ الگ الگ انتخابات کی اس مشق سے الیکشن کی ترتیب جس طرح مستقل بگڑ جائے گی اور الگ الگ اخراجات کا جو سلسلہ چل نکلے گا، اس کے جو سیاسی اور معاشی مضمرات و مضرات برآمد ہوں گے، بد قسمتی سے انہیں بھی درخور اعتنا نہیں رکھا گیا۔ یہ تمام مسائل حل ہو سکتے ہیں مگر اس کیلئے سنجیدگی، خلوص اور قومی جذبے کے ساتھ ساتھ ضد، ہٹ دھرمی اور عدم برداشت کے مورچوں سے بھی سیاستدانوں کو باہر آنا ہوگا۔ اگر ایسا نہیں ہوا تو سیاستدانوں کا یہ نہایت غیر سنجیدہ طرز سیاست ملک ویرانی کے سوا کسی کام نہیں آئے گا۔ ملک کی بقا کیلئے ضروری ہے کہ محب وطن حلقے تمام متحارب سیاستدانوں کو مسائل گفت و شنید سے حل کرنے کیلئے ایک جگہ بٹھانے کی خاطر کردار ادا کریں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں