جنیوا: روس کی ولادی میر پیوٹن حکومت نے یوکرین سے اناج برآمد کرنے کے 120 روزہ معاہدے میں توسیع کیلئے رضامندی کا اظہار کیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق روسی حکومت کا کہنا ہے کہ ہم نام نہاد بحر اسود سرسبز و شاداب اقدام میں توسیع کے مخالف نہیں جبکہ اس کا مقصد خوراک کا عالمی بحران کم کرنا ہے۔ جنیوا میں روسی حکومت نے اصل معاہدے میں 60 روز کی توسیع پر رضامندی ظاہر کردی۔
بھارتی سپریم کورٹ کا مسجد کو فوری گرانے کا حکم
روس کے ڈپٹی وزیر خارجہ نے اقوامِ متحدہ وفد سے ملاقات کے بعد گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بلیک سی اقدام کی مدت کے اختتام کے بعد توسیع پر روس کوکوئی اعتراض نہیں۔ مذاکرات سے اس بات کی تصدیق ہوئی کہ یوکرین کو فائدہ پہنچایا جارہا ہے۔
گفتگو کے دوران روسی ڈپٹی وزیر خارجہ نے کہا کہ یوکرین کے فائدے کیلئے یوکرینی اشیاء کی درآمدات بڑی تیزی سے کرانے کیلئے کاوشیں کی جاتی ہیں تاہم عالمی برادری کی جانب سے روسی زرعی درآمدات پر پابندیاں آج بھی عائد ہیں۔
انہوں نے کہا کہ امریکا، برطانیہ اور دیگر ممالک روس پر کھاد اور غذائی اشیاء درآمد کرنے پر عائد پابندیوں پر استثنیٰ کے اقدامات پر عملدرآمد نہیں کر رہے۔ اِس بار ہم 60 روز کیلئے توسیع پر رضامند ہوئے۔ مستقبل کے لائحہ عمل کا انحصار عالمی برادری پر ہوگا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








