کمر توڑ مہنگائی

تازہ ترین

تازہ ترین

پاکستان کا حساس قیمت انڈیکس اپریل میں ریکارڈ سطح یعنی 46 اعشاریہ 8 فیصد تک جا پہنچا، جو ایک ریکارڈ سطح کی مہنگائی قرار دی جارہی ہے۔

پاکستان اس وقت قرض ادائیگیوں کے شدید عدم توازن اور کئی مہینوں سے مسلسل جاری معاشی بدحالی کا سامنا کرنے پر مجبور ہے۔ اس دوران ہمارے آئی ایم ایف سے مذاکرات بھی جاری و ساری تھے۔ 2019ء میں 6 اعشاریہ 5 ارب ڈالر کے بیل آؤٹ پیکیج کے حصے کے طور پر 1 اعشاریہ 1ارب ڈالر کے قرض کا حصول تاحال عمل میں نہیں آسکا۔

دوسری جانب ہمارے ملکی زرِ مبادلہ کے ذخائر بمشکل 4ہفتوں کی درآمدات کو پورا کرنے کی سکت رکھتے ہیں۔ ہفتے کے روز وزارتِ خزانہ کی ماہانہ اقتصادی اؤٹ لک رپورٹ میں متوقع افراطِ زر بلند رہنے کا خدشہ ہے۔

وزارتِ خزانہ نے اعتراف کیا کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی مانیٹری پالیسی کے باوجود مہنگائی کی شرح اور آئندہ کیلئے مزید مہنگائی کے خدشات کم ہونے میں نہیں آتے جس کی وجہ ملکی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ اور رمضان میں کپڑوں کی قیمتوں میں اضافہ بھی ہے۔

آئندہ کپڑوں کی قیمتوں میں مزید اضافے کا بھی خدشہ ہے۔ توقع ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سامان اور خدمات کی قیمتوں مین عمومی اضافہ دیکھنے میں آئے گا۔ عوام کی قوتِ خرید کمتر ہوتی چلی جارہی ہے۔

ملک بھر میں مہنگائی آج پاکستان کو درپیش سب سے سنگین معاشی چیلنجز میں سے ایک بن چکی ہے کیونکہ حالیہ مہینوں میں مہنگائی ریکارڈ سطح پر جا پہنچی ہے اور صورتحال میں بہتری کی کوئی امید نظر نہیں آتی۔

وفاقی ادارۂ شماریات کا کہنا ہے کہ اپریل میں مہنگائی کی شرح 38 فیصد کی سطح پر جا پہنچی جو مارچ 2023ء میں 35 اعشاریہ 4 فیصد تھی۔ یہ دسمبر 1973ء کے بعد سب سے زیادہ اضافہ تھا کیونکہ مشروبات اور تمباکو کے علاوہ خوراک کی قیمتوں میں بھی مزید اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

اسی طرح کپڑوں، جوتوں، رہائش، فرنشنگ، ٹرانسپورٹ، سیروتفیرح اور ہوٹلنگ کے اخراجات بھی بہت بڑھ چکے ہیں۔ ملکی کرنسی کم ہوتے ہوئے زرِ مبادلہ ذخائر، سیاسی بد امنی اور دیگر وجوہات کے باعث 40 فیصد سے زائد قدر کھو چکا ہے۔ شرحِ مبادلہ میں مسلسل کمی ریکارڈ مہنگائی کی اہم وجوہات میں سے ایک ہے۔

یہی وجہ ہے کہ پاکستان کیلئے درآمدات زیادہ مہنگی جبکہ برآمدات عالمی سطح پر ناقابلِ قدر بنا دی ہیں جس سے معاشی شرحِ نمو کم اور تجارتی خسارہ بڑھ گیا ہے جبکہ حکومت اور مرکزی بینک مہنگائی روکنے اور معیشت مستحکم کرنے کیلئے اقدامات اٹھا رہے ہیں۔

حکومت نے آئی ایم ایف سے 6 اعشاریہ 5ارب ڈالر کے بیل آؤٹ پیکیج کی بحالی کیلئے شرائط پوری کرنے کیلئے ٹیکس اور توانائی کی قیمتوں میں اضافہ کیا ہے۔ اسٹیٹ بینک نے مانیٹری پالیسی سخت کردی اور افراطِ زر کے خدشات کم کرنے کیلئے سود کی شرح میں 100 بیسس پوائنٹس اضافہ کرکے شرح 21فیصد کردی تاہم یہ اقدامات مہنگائی کنٹرول کرنے کیلئے کافی ثابت نہیں ہوسکتے۔

معاشی اعتبار سے پاکستان کو اپنے ساختی مسائل حل کرنے ہوں گے۔ کم ٹیکس ریونیو، زیادہ عوامی قرض، ناقص گورننس، کمزور ادارے اور دیگر مسائل کے حل کو تلاش کرنا ہوگا۔ سماجی تحفظ کو بھی استحکام دینا ہوگا۔ عالمی سرمایہ کاری کو راغب کرنا، تجارتی توازن بہتر بنانا، معیشت کو متنوع بنانا اور دیگر اصلاحی اقدامات پر عملدرآمد سے ہی پاکستان ترقی و خوشحالی کی راہ پر گامزن ہوسکتا ہے۔ 

Related Posts