دنیا کے جمہوری ملکوں میں طلبہ یونین کو سیاست کی نرسری کہاجاتا ہے جہاں پڑھے لکھے ماحول میں اپنی بات کرنا اور خدشات کا کھل کر اظہار کرنا تعلیمی اداروں کا خاصہ ہوتا ہے تاہم پاکستان میں طلبہ کے لیے اپنے حقوق کی بات کرنا آسان نہیں۔
ملک میں اسٹوڈنٹ یونینز پر پابندی تو جنرل ضیا الحق کے آمرانہ دور میں لگی لیکن اس کے بعد آنے والی جمہوری حکومتیں بھی دعوؤں کے باوجود طلبہ تنظیموں کو بحال نہ کر پائیں۔
آج 29نومبرکوطلبہ پورے پاکستان میں اپنے حقوق کے لئے احتجاجی مظاہرے کرنے جا رہے ہیں،ان احتجاجی مظاہروں کو ‘طلبہ یکجہتی مارچ’ کا نام دیا گیا ہے۔اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی کی کال پر کراچی، لاہور، راولپنڈی، حیدرآباد، کوئٹہ، ملتان اور دیگر شہروں کے علاوہ آزاد کشمیر کے شہروں مظفرآباد، راولاکوٹ، میرپور، ہجیرہ اور دیگر شہروں میں طلبہ اپنے حقوق کیلئے مظاہروں میں شریک ہونگے۔
طلبہ کے بنیادی مطالبات میں طلبہ یونین کی بحالی، تعلیمی کٹوتیوں کا خاتمہ، تعلیم کی نجکاری اور مہنگی فیسوں کو ختم کرنا شامل ہے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ تعلیمی اداروں میں غنڈہ گرد عناصر کی سرکوبی کرتے ہوئے اداروں میں پر امن، صحت مند جمہوری ماحول قائم کیا جائے اور طلبہ کی تعلیمی فیصلہ سازی کے اداروں میں شمولیت کو یقینی بنایا جائے۔
اس طلبہ یکجہتی مارچ کے حوالے سے آگاہی مہم کافی عرصے سے جاری تھی لیکن ملکی سطح پر طلبہ کی اس مارچ کو فیض فیسٹیول کے دوران وائرل ہونے والی ایک ویڈیو کے بعد پذیرائی ملی۔
دیکھا جائے تو ہمارے ملک کے تعلیمی اداروں کی وجہ سے دنیا تو دور کی بات اس خطے میں ہماری یونیورسٹیوں کی کوئی رینکنگ نہیں رہی لیکن اگر ماضی میں جھانکیں جب اسٹوڈنٹ یونینز بحال تھیں تو صورتحال مختلف دکھائی دیتی ہے۔
نوجوانوں کی نمائندگی کی دعویدار پی ٹی آئی کی حکومت کے قیام کے بعد امید ہوچلی تھی کہ ملک میں نظام تعلیم کو بہتر کیا جائے گا اور طلبہ کے مسائل کو حل کیا جائے گا لیکن گزشتہ 15 مہینوں میں ہائر ایجوکیشن کی صورتحال مزید خراب ہوئی ہے اور نظام تعلیم اورحکومت کی ناقص پالیسیوں کے خلاف جب طالبعلموں نے احتجاجی مارچ کا اعلان کیا ہے تو اُن پر بے بنیاد الزامات کی بارش کر دی گئی ۔
یہاں تک کہ طلبہ کے اس احتجاجی مارچ کے ایک منتظم کی ڈگری تک معطل کر دی گئی ہے۔ جب ہم ان سے آزادی اظہار رائے، آزادنہ نقل و حرکت اور سوچنے کا حق چھین لیں گے۔ایسے میں یہ نوجوان اس ملکی ترقی کا انجن کیسے بن سکتے ہیں؟۔
پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق (ایچ آر سی پی)کا کہنا ہے کہ حکومتِ طلبہ یکجہتی مارچ کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی نہ کرے ‘ایچ آر سی پی کو ایسی اطلاعات پر تشویش ہے کہ مارچ کی حمایت کرنے والے طلبہ کو ہراساں کیا جا رہا ہے‘ یونیورسٹی سے یا ان کے ہوسٹلوں سے نکالا جا رہا ہے تاکہ انہیں مارچ میں شامل ہونے سے روکا جا سکے‘ یہ ان کے آزادی ٔ اظہار رائے کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
تعلیمی ادراوں کی خواہش ہے کہ وہ نظام کو آمرانہ انداز میں چلاتے رہیں اور ان کا کسی بھی معاملے پر احتساب نہ ہو، جب تک تدریسی اداروں میں آزاد انسان نہیں پیدا ہوتے ملک میں جمہوریت تب تک پنپ نہیں سکتی ۔
طلبہ یکجہتی مارچ میں رکاوٹیں ڈالنا اور طلبہ پر الزامات لگانا انتہائی نامناسب بات ہے کیونکہ طلبہ ہاسٹلز کی سہولیات بہتر ہونے سے، ایچ ای سی کا بجٹ بڑھنے اور تعلیمی معیار بہتر ہونے سے کس بیرونی طاقت کا نہیں بلکہ پاکستان میں معیار تعلیم بہتر کرنے سے صرف پاکستان کا فائدہ ہے۔