تازہ ترین

تازہ ترین

ایک وقت تھا جب عمران خان سیاست کیا کرتے تھے۔ یہ عرصہ 1995ء سے 2010ء تک کا ہے۔ اس عرصے میں وہ کارنر میٹنگ ٹائپ کا جلسہ عام بھی کر تے، پریس کانفرنس بھی، ریلی بھی، اور اخباری بیان بازی بھی۔

ہرچند کہ اس عرصے میں بھی فوج ان کی پشت پر موجود تھی  مگر وہ اپنے وسائل ان پر خرچ نہیں کر رہی تھی، تاکہ انہیں باور کرایا جاسکے کہ تنہا اپنے زور پر آپ کچھ بھی حاصل نہیں کرسکتے۔ سیاسی سرگرمیوں کے اس دور میں لے دے کر وہ قومی اسمبلی میں اپنی سیٹ ہی جیت پاتے تھے۔ اور وہ بھی وہ مشرف دور میں ہی جیت سکے تھے۔

پھر 2010ء سے آگے وہ دور شروع ہوا جب دفاعی بجٹ ان پر خرچ ہونا شروع ہوا۔ صرف دفاعی بجٹ ہی نہیں بلکہ دفاعی اداروں کے اہلکار بھی عملاً تحریک انصاف کے رہنماؤں کے طور پر کام کرنے لگے۔ یہ پی ٹی آئی کے انہی باوردی رہنماؤں کا کارنامہ تھا کہ 2018ء کے الیکشن کے من پسند نتائج تخلیق کرکے عمران خان کو اقتدار تک پہنچایا گیا۔ قابل غور بات یہ ہے کہ اس الیکشن تک پہنچتے پہنچتے نون لیگ کو بری طرح روندنے کی کوششیں ہوئیں۔ خان صاحب کو ملک کا مقبول لیڈر ثابت کرنے کے لئے بعض نیوز چینلز دن رات وقف رہے۔ الیکشن آیا تو آرٹی ایس بٹھا دیا گیا مگر اس اتنی بڑی ایکسرسائز کے بعد بھی جو نتائج تخلیق ہوسکے وہ سادہ اکثریت پر بھی مبنی نہ تھے۔

چنانچہ جہانگیر ترین کو اکثریت پوری کرنے کے لئے اپنا جہاز انتخابی مہم کے لئے بک ویگن کی طرح دوڑانا پڑا۔ تب جاکر چوں چوں کا وہ مربہ تیار ہوا جس نے پاکستان کی معیشت کا جنازہ نکال دیا۔چوں چوں کے اس مربے کی خاص بات یہ رہی کہ یہ ملک کی پہلی فاشسٹ حکومت تھی۔ اس حکومت میں سیاسی مخالفین کو ناجائز گرفتار کر کے طویل عرصہ قید رکھنے کا بھی اہتمام تھا، صحافیوں کو لاپتہ کرنے کے لئے سیاہ شیشوں والے ڈالے بھی متحرک رہتے۔ اور وہ غنڈے بھی جو گھروں پر حملے کرکے چوں چوں کے مربے کے خلاف سچ بولنے والوں کو ہراساں کرتے۔ محکمہ زراعت اور شمالی علاقہ جات کی سیر جیسی اصطلاحات عمران خانی دور کی ہی عطاء ہیں۔

توشہ خانے کی لوٹ مار اور القادر یونیورسٹی جیسے میگا کرپشن کیسز کا سامنا کرنے والے عمران خان کا ایک طرۂ   امتیاز یہ بھی ہے کہ ملک کے واحد وزیر اعظم ہیں جو تحریک عدم اعتماد جیسی سیاسی سرگرمی کے ذریعے اقتدار سے باہر کئے گئے۔ اگر ان کے سرپرست ان کی سرپرستی سے مکمل طور پر ہاتھ کھینچ چکے ہوتے تو یہ بنی گالہ میں بیٹھ کر یا پیر و یا مرشد کر رہے ہوتے۔ مگر ہوا یہ کہ جنرل باجوہ اور فیض حمید اب بھی ان سے رابطے میں تھے۔ وہ اب بھی انہیں دوبارہ اقتدار میں لانے کے لئے کوشاں تھے۔ مگر خوش قسمتی یہ رہی کہ جنرل باجوہ بے دست و پا کردیئے گئے تھے سو وہ چاہ کر بھی اپنی خواہشات کی تکمیل نہیں کرسکے۔

جنرل باجوہ کا یہ دور بدترین منافقت کا دور ہے۔ سامنے وہ یہ کہتے کہ ایکسٹینشن نہیں چاہئے، اور پیٹھ پیچھے وہ دوسری ایکسٹینشن لینے کے لئے بھی زور لگاتے رہے۔ جب یہ خواہش پوری ہوتی نظر نہ آئی تو پورا زور لگایا گیا کہ جنرل شمشاد کو آرمی چیف لگوا دیا جائے۔ مگر یہ کوشش بھی خاک میں مل گئی۔ اگر آپ غور کیجئے تو اپریل 2022ء سے اس فتنے نے جتنے بھی سیاسی اہداف حاصل کرنے کی کوشش کی کوئی ایک کوشش بھی کامیاب نہ ہوسکی۔ جنرل باجوہ سے کمان ایک ایسے فوجی سربراہ کو منتقل ہوچکی جو سیاست میں فوجی مداخلت کے خلاف ہیں۔ اور یہی فتنہ پرستوں کے لئے سب سے بڑی پریشانی رہی ہے۔

ہم سب جانتے ہیں کہ فتنے کا ایک طاقتور حصہ ثاقب نثاروں کی آمجگاہ بھی چلی آرہی ہے۔ وہاں سے اب یہ سرتوڑ کوششیں جاری ہیں کہ کسی طرح ستمبر سے قبل الیکشن کروا کر 2018ء والی واردات اس سے بھی زیادہ مکروہ شکل میں دہرا دی جائے۔ مگر قومی قیادت اور فوج دونوں اس کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔ فوج کے موجودہ سربراہ جنرل عاصم منیر سیاست میں مداخلت کے خلاف ہیں۔ اور یہ بات ان لوگوں کے لئے پریشان کن تھی جو چاہتے تھے کہ فتنے سر کچلنے کے لئے فوج اپنا کردار ادا کرے۔ مگر یہ پریشانی اب باقی نہیں رہی۔

جو کچھ 9 مئی کو ہوا اس کا خلاصہ یہ ہے کہ تحریک انصاف اپنی تاریخ کے تیسرے دور میں داخل ہوچکی۔ یہ جماعت اپنے پہلے دور میں معمول کی ایک تانگہ سیاسی جماعت تھی۔ دوسرے دور میں یہ 2010ء کے بعد ایک فاشسٹ جماعت کی شکل اختیار کر گئی۔ اب تیسرے دور میں یہ ایک باغی جماعت ہے۔ کسی بھی ریاست کی فوج پر حملے کرنے والا گروہ باغی گروہ ہی ہوتا ہے۔ اور باغیوں کا سر کچلنا فوج کی متعین آئینی ذمہ داریوں میں سے ہے۔ عمران خان کو دیکھ کر خوشی محسوس کرنے والوں کی خوشی کتنی عارضی ہے یہ وہ جلد جان لیں گے۔ ضمانتوں کے تعویذ لکھنے والے خود اس انجام سے دوچار ہوں گے کہ نہ کوئی دم درود کارگر ہوگا اور نہ ہی کوئی ضمانتی تعویذ مشکل کشا ثابت ہوسکے گا۔

یہ ناممکنات اور محالات میں سے ہے کہ 9 مئی والی بغاوت کو جانے دیا جائے۔ تیاریاں جاری ہیں اور اس باریک بینی کے ساتھ جاری ہیں کہ جب ایکشن شروع ہو تو ضمانت کے کارخانوں کی اپنی بھی کوئی ضمانت نہ رہے۔ اپنے ہتھوڑے کو طاقت کا منبع سمجھنے والے یہ تو دیکھ ہی چکے 14 مئی گزر چکی اور پنجاب میں انتخابات نہیں ہوئے۔ ایک غیر آئینی حکم کا یہی حشر ہونا تھا۔ اب وہ چاہیں تو شہباز شریف کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی بھی کرکےدیکھ لیں۔ اپنی اوقات کا پول کھولنے میں مددگار ثابت ہوگی۔ جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ عمران خان کی رہائی کوئی کامیابی ہے وہ اس نکتے پر غور کریں کہ کامیابی یہ ہوا کرتی ہے کہ اپنے طے کردہ اہداف میں سے کوئی ہدف حاصل کرلیا جائے۔ رہائی کا کل خلاصہ بس یہ ہے کہ عمران خان کو چند دن کی مزید مہلت مل گئی۔ اس کے برخلاف 14 مئی کا بغیر انتخابات کے گزر جانا خان اور انہیں دیکھ کر خوشی محسوس کرنے والوں کی ایک بڑی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ یہ طے کیا جاچکا کہ کسی بھی قسم کا غیر آئینی حکم نہیں مانا جائے گا۔ باغیوں کا ساتھ دینے والوں کے احکامات کیسے مانے جاسکتے ہیں؟ لکڑی والے ہتھوڑے جو کرسکتے تھے کر چکے۔ اب لوہاروں کی باری ہے ۔ جج اور لوہار کے ہتھوڑوں کا فرق جلد سامنے آجائے گا !

Related Posts