اسلام آباد: سپریم کورٹ میں آڈیولیکس کے خلاف درخواستوں پر آج کی سماعت مکمل ہو گئی، مختصر اور عبوری حکم بعد میں سنایا جائے گا۔
سپریم کورٹ میں چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال کی سربراہی میں جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس منیب اختر، جسٹس شاہد وحید اور جسٹس اظہر رضوی پر مشتمل پانچ رکنی لارجر بینچ آڈیولیکس کمیشن کے خلاف عمران خان اور دیگر کی درخواستوں پر سماعت کی۔
سماعت کے آغاز پر اٹارنی جنرل نے بینچ میں چیف جسٹس کی شمولیت پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ درخواست ہے کہ چیف جسٹس اس بینچ کا حصہ نہ بنیں۔
جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کا مطلب ہے کہ میں بینچ سے الگ ہوجاؤں؟عدلیہ بنیادی انسانی حقوق کی محافظ ہے، آپ ہمارےانتظامی اختیار میں مداخلت نہ کریں، ہم حکومت کامکمل احترام کرتے ہیں۔
پی ٹی آئی کے مزید 146 رہنماؤں کے نام نو فلائی لسٹ میں شامل
جسٹس عمرعطا بندیال نے کہا کہ آپ کی درخواست قابل احترام ہے لیکن چیف جسٹس کا عہدہ ایک آئینی عہدہ ہے، مجھےمعلوم تھا آپ یہ اعتراض اٹھائیں گے، عدلیہ وفاقی حکومت کے ماتحت نہیں اور آئین میں اختیارات کی تقسیم ہے۔
چیف جسٹس نےمزید کہا کہ حکومت نے چیف جسٹس کے اختیارات کو ریگولیٹ کرنے کی قانون سازی جلدی میں کی، حکومت کیسے ججزکو اپنے مقاصد کےلیے منتخب کرسکتی ہے۔
بعد ازاں سپریم کورٹ نے کہا کہ مختصر اور عبوری حکم بعد میں سنایا جائے گا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








