عافیہ صدیقی کا کیس اور ہمارا قومی کردار

تازہ ترین

تازہ ترین

عرصے بعد ایک بار پھر امریکا میں قید پاکستانی خاتون نیورو سائنسدان ڈاکٹر عافیہ صدیقی کا نام، ان کا کیس اور ان پر بیتے جانے والے حالات قومی سطح پر زیر بحث ہیں۔

ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی بھولی بسری یاد نے اپنے ہزار دوسرے مسائل میں الجھی بلکہ الجھائی گئی پاکستانی قوم کی لوح حافظہ پر گزشتہ دنوں اچانک اس وقت زور زور سے دستک دینا شروع کی، جب یہ خبر آئی کہ ان کی دکھیاری بہن ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کو امریکی انتظامیہ نے اغوا اور اسارت کے تقریبا بیس سال بعد ٹیکساس کی بدنام زمانہ فوجی جیل میں اپنی بہن عافیہ صدیقی سے ملاقات کی اجازت دے دی ہے۔

آخر کار رواں ہفتے ڈاکٹر فوزیہ صدیقی سول رائٹس کے برطانوی وکیل کلائیو اسٹیفرڈ اسمتھ اور جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد خان کے ہمراہ امریکا روانہ ہوگئیں اور پھر شیڈول کے مطابق ان کی تنہا اور وفد کے ہمراہ کئی گھنٹوں پر مشتمل ملاقات بھی ہوگئی، جس کی تفصیلات نے عافیہ صدیقی کے حوالے سے قوم کو مزید دکھ، احساس بے بسی اور مایوسی میں مبتلا کر دیا ہے۔

ایسا لگتا ہے کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی ایک داغ ندامت، احساس بے بسی و حسی اور طاقتور کے جبر و ستم کی علامت بن کر ہمیشہ ہمارا تعاقب کرتی رہیں گی۔ ڈاکٹر عافیہ کا کیس جہاں ہماری ریاستی اور اجتماعی بے ضمیری، بے شرمی اور دختر فروشی کا اشتہار ہے، وہاں یہ حقوق انسانیت کے خود ساختہ چیمپئن امریکا کی بدترین انسان دشمنی اور ظلم و جبر کا بھی استعارہ ہے اور جب تک عافیہ صدیقی رہا نہیں ہوجاتیں، جہاں امریکا کے چنگل میں وہ ہماری قومی بے حمیتی کی داستان بنی رہیں گی وہاں وہ ایک نہتی اور کمزور عورت پر سپر پاور امریکا کی وحشیت و بہیمیت کا مظہر بھی بنی رہیں گی۔

اگر خدا نخواستہ عافیہ صدیقی جیل سے رہا نہ ہو پائیں اور زندگی کی قید سے ہی رہائی پاگئیں تو یاد رکھنا چاہئے کہ اس امریکا کی صحت پر تو کوئی اثر نہیں پڑے گا، جس کے دامن پر ہیروشیما اور ناگا ساکی سے لیکر ویت نام، عراق تا افغانستان لاکھوں انسانوں کے خون کا دھبا ہے، ہاں ہم اپنی تاریخ میں دختر فروشی، بے حمیتی اور بے ضمیری کے ایک اور داغ کا اضافہ کر لیں گے۔

ڈاکٹر عافیہ صدیقی مارچ 2003 میں اچانک لاپتا ہوگئیں۔ 2005 تک ان کا کوئی سراغ نہیں ملا کہ کہاں گئیں۔ یہ افغانستان پر امریکی جارحیت کے شباب کا وقت تھا اور پاکستان پر امریکی جنگ کا مقامی ایجنٹ پرویز مشرف اپنے تمام فوجی طمطراق کے ساتھ مسلط تھا۔ عافیہ کے اہل خانہ نے اس دوران آواز اٹھانے کی نحیف سی کوشش کی مگر طاقتوروں نے پوری قوت سے اسے دبادیا۔

2005 میں گوانتا نامو بے کے حراستی مرکز سے برطانوی شہری معظم بیگ رہا ہوئے۔ رہائی کے فوری بعد انہوں نے اپنی کتاب میں انکشاف کیا کہ افغانستان کی بگرام جیل میں ہم ایک خاتون قیدی کی دلدوز چیخیں روز سنتے تھے۔ یہ قیدی کون تھیں، معظم بیگ بھی نہیں جانتا تھا، مگر اس نے لکھا کہ یہ خاتون قیدی نمبر 650 کے کوڈ نیم سے ہی جانی جاتی تھیں۔ معظم بیگ کے اس انکشاف سے شہ پاکر برطانوی نو مسلم خاتون صحافی مریم ایوون ریڈلے نے قیاس آرائی کی کہ ہو نہ ہو یہ عافیہ صدیقی ہیں جو 2003 سے لا پتا ہیں۔

الغرض عالمی پریس میں شہ سرخیاں بنیں، بات نکلتی اور بڑھتی رہی، یہاں تک کہ 2008  کے آغاز میں کنفرم ہوگیا کہ قیدی 650 عافیہ ہی ہیں، چنانچہ مریم ایوون ریڈلے نے اسلام آباد میں عمران خان کے ہمراہ پریس کانفرنس کرکے دنیا پر آشکار کر دیا کہ عافیہ صدیقی نامی پاکستانی خاتون سائنسدان بگرام کی امریکی جیل میں اذیت سہ رہی ہیں۔

شور مچتے ہی چور امریکا کے کان کھڑے ہوئے، فوری طور پر ایک فرضی کہانی گھڑ کر عافیہ کو بگرام سے امریکا پہنچا دیا گیا اور ٹرائل کا آغاز ہوا۔ یہاں تک کہ 2010 میں انہیں یکطرفہ عدالتی کارروائی میں امریکی فوجی اہلکار پر ناکام حملے کی کوشش کے جرم میں 86 سال قید کی سزا سنا کر ٹیکساس کی بدنام زمانہ جیل میں ٹھونس کر اسی مشق ستم کا دوبارہ آغاز کر دیا گیا جو بگرام میں جاری تھی۔

اب رہا یہ سوال کہ عافیہ صدیقی کو 2003 میں لاپتا کس جرم میں کیا گیا، جبکہ فوجی پر بندوق تاننے کی کہانی تو 2008 کی ہے۔ دراصل امریکا کا الزام یہ تھا کہ عافیہ صدیقی القاعدہ کی ہینڈلر ہے، چنانچہ 2002 کے اواخر میں امریکا میں ایک مشکوک ڈاک کی بنیاد پر ایف بی آئی نے عافیہ صدیقی کو ملزم ٹھہرا کر ان کے گلوبل وارنٹ جاری کروا دیے۔

جس الزام میں عافیہ کوموسٹ وانٹڈ قرار دے کر دنیا بھر کے اخبارات میں اشتہارات چلوائے گئے اور بعد ازاں اس کی بنیاد پر انہیں اغوا کیا گیا، وقت آنے پر جب عدالتی ڈھونگ رچاکر سزا دینے کی باری آئی تو نئی کہانی فوجی پر حملے کی کوشش کی گھڑی گئی، جس سے وہ الزام ہی لغو ہوجاتا ہے جس کی بنیاد پر عافیہ صدیقی کو 2003 میں تین بچوں جن میں ایک چھ ماہ کا دودھ پیتا بیٹا بھی شامل تھا، کے ہمراہ پوری دنیا میں ہانکا لگا کر اٹھایا گیا تھا۔ اسی سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ امریکا نے ایک کمزور، نہتی اور بے گناہ خاتون کو کیسے ظالمانہ طریقے گرفتار کر رکھا ہے اور ایک خاتون پر اپنا قہر برسا کر اپنی “طاقت” کا اظہار کر رہا ہے۔

میری رائے میں عافیہ صدیقی کا کیس 2010 میں امریکی جیوری کے ہاتھوں ان کی 86 سال کی سزا کی چارج شیٹ سے ہی لغو ہوجاتا ہے اور وہ بالکل بے قصور اور بے گناہ قرار پاتی ہیں۔ یہ سزا ثابت کرتی ہے کہ امریکا کے پاس عافیہ صدیقی کو سزا دینے کیلئے سوائے اپنی طاقت کے اظہار کے کوئی جواز موجود نہیں ہے اور وہ بالکل بے قصور ہیں۔

اس سے یہ اندازہ بھی لگایا جاسکتا ہے کہ قانون و انصاف کی نگاہ میں عافیہ کا کیس کس قدر کمزور ہے اور اگر حکومت پاکستان دل سے چاہے اور کوشش کرے تو ناکردہ جرم کی سزا سے عافیہ صدیقی کو رہا کروانا چنداں مشکل نہیں۔

جب سے وفد عافیہ صدیقی سے ملنے امریکا گیا ہے، پاکستان میں بعض جماعتوں کے درمیان کریڈٹ کی جنگ بھی چل رہی ہے۔ بالخصوص جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد کے کردار کی وجہ سے حکمران اتحاد کی بعض جماعتیں اپنا ماضی کا کوئی کردار بھی پیش کرنے لگی ہیں اور اس کی بنیاد پر دعویٰ کر رہی ہیں کہ یہ تنہا جماعت اسلامی کا کریڈٹ نہیں، ہم بھی اس تحریک میں شامل رہے ہیں۔

سینیٹر مشتاق احمد نے عافیہ کے حالات اور کیس کے جائزے کے بعد اپنی آبزرویشن میں کہا ہے کہ اس مسئلے کے حل کی چابی واشنگٹن میں نہیں اسلام آباد میں ہے، لہٰذا جو حکمران جماعتیں ماضی کے کردار کی بنیاد پر کریڈٹ میں حصہ داری کی متمنی ہیں، انہیں چاہئے کہ یہ کریڈٹ سارے کا سارا خود لینے کیلئے اپنی حکومت کو متحرک کریں اور حکومتی فورس کو بروئے کار لاتے ہوئے قوم کی بیٹی کو امریکا کی غیر قانونی قید سے رہا کروانے میں کردار ادا کریں۔ حکومت میں ہوتے ہوئے ایک غیر سرکاری کوشش پر طنز کے تیر برسانا بدترین بے حسی ہے!

Related Posts