پاکستان میں گھریلو تشدد ایک المیہ

تازہ ترین

تازہ ترین

اداکار محسن عباس نے گھریلو تنازعات کے باعث کچھ عرصہ شوبز انڈسٹری سے دور رہنے کے بعد ایک بار پھرشوبز میں واپسی کی تیاری شروع کردی ہے۔ چند ماہ قبل محسن عباس اور ان کی سابقہ اہلیہ فاطمہ سہیل کے درمیان تنازع سامنے آیا تھا جس کے بعد دونوں کے درمیان علیحدگی ہوگئی تھی اس واقعے کی وجہ سے نہ صرف محسن عباس کی نجی زندگی متاثر ہوئی بلکہ ان کے ابھرتے ہوئے کیریئر کو بھی بڑا دھچکا لگا تھا۔

محسن عباس سے قبل پاکستان فلم انڈسٹری کے کئی نامور فنکار ساتھی خواتین فنکاروں کے ساتھ ہراسانی اور تشدد کے واقعات میں ملوث رہے ہیں۔محسن عباس بلاشبہ ایک اچھے فنکار ہونگے لیکن گھریلو تشدد کا اقدام ہرصورت قابل مذمت ہے۔

پاکستان میں جہاں  گھریلو تشدد کی سب سے بڑی وجہ وہ دقیانوسی روایتیں ہیں، جن کے تحت مرد کو لامحدود اختیارات سونپ دیے جاتے ہیں تو وہیں مغربی ممالک میں شراب کے نشے میں دُھت کسی پرانے بوائے فرینڈزکے ہاتھوں لڑکیوں کا قتل ہونا بھی معمول بن چکا ہے۔

ایشیا میں جہیز کا کم اور غیرت کا زیادہ ہونا عورتوں کے قتل پر اکساتا ہے تو افریقا میں جادوگری کے الزام میں عورتوں کے جان سے جانے کی شرح بھی کم نہیں۔ دلچسپ بات تو یہ ہے کہ بعض ممالک میں غیرت کے نام پر ہونے والے قتل میں تو مردوں کے ساتھ عورتیں بھی شامل ہوکر ثواب کماتی ہیں ۔

عورتوں پر تشدد اس معاشرے کا انتہائی دردناک المیہ ہے اوراس سے زیادہ دردناک بات یہ ہے کہ اس تشدد کی ابتدا گھر کے ہی منفی رویوں سے ہوتی ہے۔ عورت جو ماں ہے ، بہن ہے، بیوی ہے، بیٹی ہے ، اس کے وجود کو پرانے اور بے بنیاد نظریات کی بنا پر ظلم کانشانہ بنا دیا جاتا ہے۔

بے جا پابندیاں اور قیود ،جذباتی اور ذہنی دباؤ بنیادی ضروریات کی غیر فراہمی لڑائی جھگڑے، زبردستی شادی، گھریلو تشدد کے زمرے میں آتی ہیں۔افسوس کہ یہ ہمارے معاشرے کا شیوہ بن چکا ہے۔

سربازار عورتوں پر پھبتیاں کسنے والے، عورتوں کو نادان اورکم فہم ثابت کرنے کے لیے وقت اورصلاحیتیں صَرف کرنے والے، نازک ہاتھوں میں گاڑی کا اسٹیئرنگ دیکھ کر ٹھٹھا اڑانے والے،کسی اونچے منصب پر براجمان عورت کے حوصلے بے جا تنقید سے پست کرنے والے اور عورت کو تمام معاشرتی عوارض کی جڑ گرداننے والے مرد کب تک اس حقیقت سے آنکھیں چُراتے رہیں گے کہ ان کی حاکمیت میں گھری، ہر تین میں سے ایک عورت جسمانی تشدد کا شکار ہورہی ہے، لیکن افسوس ! انھیں یہ بات بُری توکجا بڑی بھی نہیں لگتی۔

Related Posts