جیتے جاگتے زندہ انسانوں کو بھیڑ بکریوں کی طرح غیر قانونی طور پر ملک سے باہر بھیجنا باضابطہ کاروبار کی شکل اختیار کرچکا ہے اورایک مافیا کی شکل میں انسانی اسمگلرزکی چین ایسے گھناؤنے جرائم میں ملوث ہے۔
پاکستانی شہری اپنے وطن سے لیبیا تک ایسے ہی نہیں پہنچ جاتے بلکہ منظم طور پر مختلف ممالک سے ہوتے ہوئے اپنی منزلِ مقصود تک پہنچتے ہیں اور فارن ایجنٹ کے نام پر جو لوگ انسانی اسمگلنگ کے غیر قانونی کاروبار کو فروغ دیتے ہیں، وہ لوگوں کے مال مویشی اور گھر بکوا کر ان سے بھاری بھرکم رقوم وصول کرتے ہیں۔
ایک تلخ حقیقت یہ ہے کہ ہمارے ملک کے بے روزگار نوجوانوں کو یہ علم ہوتا ہے کہ جب وہ غیر قانونی طور پراپنا وطن چھوڑ کر دیارِ غیر دھکے کھانے کیلئے جارہے ہوں گے تو راستے میں سمندر کی بے رحم موجوں کی نذر بھی ہوسکتے ہیں۔ آئے روزغیرقانونی تارکینِ وطن کی کشتیاں ڈوبنے کی خبریں سامنے آتی رہتی ہیں تو یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ جو لوگ خود سفر کرکےناگفتہ بہ حالات سے گزر کر بیرونِ ملک جاتے ہوں،حالاتِ حاضرہ سے بے خبر رہیں؟ اگر وہ اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر دیارِ غیر کا سفر تمام تر خبر ہونے کے باوجود کرتے ہیں، اور درجنوں پاکستانی سمندر کی نذر ہوجانا پسند کر لیں، اگر 298 پاکستانی ڈوب جائیں اور بچ جانے والے 12 پاکستانیوں کی شناخت ہو جو تمام تر جرم کی روداد سنا رہے ہوں، کسی بھی ملک کیلئے اس سے بڑا سانحہ کیا ہوسکتا ہے؟پاکستانی پاسپورٹ کی ویلیو دنیا کے 10 کم ترین اہمیت رکھنے والے ممالک میں آتی ہے۔
اس اندوہناک حادثے میں سب سے زیادہ پاکستانیوں کی جانوں کا ضیاع ہوا، جس پر آج قوم کو یہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں پاکستانی شہری کیوں اپنے وطن سے دور جانے کی خواہش رکھتے ہیں؟ شام اور مصر کے شہری بھی ڈوب جانے والی کشتی پر سوار تھے جبکہ ان تینوں ممالک میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں، غربت اور بدحالی عوام کا مقدر بن چکی ہے۔ موروثی سیاست ، ڈکٹیٹر شپ اور طبقاتی ناہمواریاں ملک کے سیاسی، سماجی اور معاشی حالات کو اس قدر مخدوش کردیتی ہیں کہ ہمارے ملک کے نوجوان شہری وطن سے دور جانے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ یوں غریب اور متوسط طبقہ سوچتا ہے کہ آئندہ بھی صدیوں تک اگر ہم اس ملک میں رہے تو ہمارے حالات بدلنے کا نام نہیں لیں گے، اس لیے وہ بہتر زندگی کی تمنا کرنا شروع کردیتے ہیں اور غیر قانونی طور پر ملک سے باہر جانے کیلئے اپنا سب کچھ لٹا دیتے ہیں۔
ہمارے ملک میں غربت، بے روزگاری اور شدید مہنگائی نے بھی عوام کا جینا دوبھر کر رکھا ہے، یہی وجہ ہے کہ لوگ اپنا گھر بار بیچ کر اور اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر بھی دیارِ غیر میں سیٹل ہونے کا خواب آنکھوں میں لیے اس دنیا سے رخصت ہوجایا کرتے ہیں ، جس سے پتہ چلتا ہے کہ ملک کیلئے عوام کے دلوں میں وطن سے محبت کا فقدان پیدا ہورہا ہے۔ رسول اللہ ﷺ کی حدیثِ مبارکہ ہے کہ قریب ہے کہ مفلسی کفر تک پہنچا دے۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اگرغریبی انسان سے اس کا ایمان چھین سکتی ہے تو پھر حب الوطنی تودوسرے درجے کی بات بن جاتی ہے۔
یونان کے قریب ہونے والے المناک کشتی حادثے کے نتیجے میں 12پاکستانیوں سمیت 104افراد کو بچایا گیا ہے۔ بچائے گئے افراد کا کہنا ہے کہ اٹلی اور یونان جانے کیلئے انسانی اسمگلر کو فی بندہ 4500ڈالر ز( کم و بیش13 لاکھ 50 ہزارروپے) دئیے گئے تھے۔ اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ لاپتہ افراد میں سے کسی بھی شخص کے زندہ بچ جانے کا امکان انتہائی کم ہے۔ ڈو ب جانے والی کشتی میں 310 پاکستانیوں سمیت 750افراد سوار تھے۔ گویا اگر یہ کہا جائے کہ بحیرۂ روم میں کم و بیش 300پاکستانی خاندانوں کی امیدیں ، زندگیاں بلکہ کل کائنات غرق ہوگئی، تو بے جا نہ ہوگا۔
یہ بد قسمت کشتی لیبیا کے قصبے تبروک سے یورپ کے سفر پر روانہ ہوئی تھی۔ بیشتر افراد کا تعلق پاکستان، شام اور مصر سمیت دیگر ممالک سے تھا۔ 79 لاشیں نکال لی گئی ہیں۔ کشتی پر سوار پاکستانیوں کا تعلق ملک کے مختلف شہروں بشمول گجرات، منڈی بہاؤ الدین، گجرانوالہ، سیالکوٹ اور کوٹلی (آزاد کشمیر) سے ہے۔ 298 پاکستانی زندہ ہیں یا نہیں، 3روز بعد بھی واضح نہیں ہوسکا۔ بچ جانے والے تارکینِ وطن کا کہنا ہے کہ ووڈ کشتی کو بڑے جہاز نے رسی ڈال کر جھٹکا مارا جس کی وجہ سے کشتی الٹ گئی۔ اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ یہ ایک افسوسناک واقعہ ہے۔ چونکہ یہ واقعہ گہرے سمندر میں ہوا، اس لیے مزید کسی کے بچنے کے امکانات بے حد کم ہیں۔
یہ اپنی نوعیت کاکوئی پہلا واقعہ نہیں ہے۔ ہر سال درجنوں بلکہ سیکڑوں پاکستانی شہری اسی طرح بیرونِ ملک جانے اور سیٹل ہونے کی خواہش میں سمندر کی موجوں کی نذر ہوجاتے ہیں، جس پر احبابِ اقتدار کو سوچ بچار اور اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے، چند مجوّزہ اقدامات مندرجہ ذیل ہیں:
سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ حکومت پاکستان کے اندر روزگار کے مزید مواقع پیدا کرنے کے لیے قومی صنعتوں اور جاب مارکیٹ کو ترقی دینے پر توجہ دے سکتی ہے۔ یہ مقصد انفراسٹرکچر، ٹیکنالوجی، اور مختلف شعبوں جیسے مینوفیکچرنگ، زراعت، خدمات، اور انٹرپرینیورشپ میں سرمایہ کاری کے ذریعے حاصل کیا جا سکتا ہے۔ اندرون ملک ملازمت کے امکانات کو بہتر بنانے سے پاکستانیوں کا بیرون ِملک ملازمت کی طرف رجحان کم ہو سکتا ہے۔
دوسری بات یہ ہے کہ پاکستان اپنے شہریوں کو مختلف شعبوں میں ملازمت کے لیے ضروری مہارتوں سے آراستہ کرنے کے لیے ہنر مندی کے فروغ کے پروگراموں اور پیشہ ورانہ تربیت کے اداروں میں سرمایہ کاری کر سکتا ہے۔ ملک میں موجود 1400 سے زائد ووکیشنل ٹریننگ سینٹرز میں اگر قلیل المدت کورسز کروائے جائیں تو قانونی طور پر ملک سے باہر جانے کی راہیں ہموار کی جاسکتی ہیں۔ جن شعبہ جات کی طلب زیادہ ہے، ان میں تربیت فراہم کر کے پاکستان کے نوجوان افراد ایسی قابل قدر مہارتیں حاصل کر سکتے ہیں جو پاکستان کے اندر اور بیرونِ ملک روزگار کے حصول میں معاون ثابت ہوسکیں۔
تیسری بات یہ ہے کہ انٹرپرینیورشپ یعنی ذاتی کاروبار کی حوصلہ افزائی مزید افرادی قوت کیلئے روزگار کی تخلیق اور معاشی ترقی کا باعث بن سکتی ہے۔ حکومت خواہشمند کاروباری افراد کو قرض ، کاروباری ترقی کی خدمات اور رہنمائی دینے والے پروگراموں تک رسائی فراہم کر کے ان کی مدد کر سکتی ہے۔ انٹرپرینیورشپ کے لیے سازگار ماحول کو فروغ دینے سے نوجوان بیرون ملک مواقع تلاش کرنے کی بجائے پاکستان کے اندر کاروبار شروع کرنے کی طرف مائل ہو سکتے ہیں۔
چوتھی بات یہ ہے کہ پاکستان اپنے مزدوروں کے تحفظ اور حقوق کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے اپنے لیبر قوانین اور ضوابط کو بہتر بنانے پر کام کر سکتا ہے۔ اس میں کم از کم اجرت کے معیارات کو نافذ کرنا، کام کے محفوظ حالات فراہم کرنا، اور کارکنوں کے استحصال اور انسانی اسمگلنگ سے متعلق مسائل کو حل کرنا شامل ہے۔ اپنے کارکنوں کی فلاح و بہبود اور حقوق کو ترجیح دے کر پاکستان شہریوں کو بیرون ملک غیر محفوظ حالات میں ملازمت حاصل کرنے کے پریشان کن رجحانات کی حوصلہ شکنی کر سکتا ہے۔
پانچویں بات یہ ہے کہ حکومت غیر قانونی نقل مکانی اور روزگار کے خطرناک حالات سے وابستہ خطرات کے بارے میں بیداری پیدا کرنے کے لیے مہم شروع کر سکتی ہے۔ ہجرت کے قانونی راستوں، ممکنہ ملازمت کے مواقع اور اس میں شامل خطرات کے بارے میں درست اور تازہ ترین معلومات فراہم کرنے سے نوجوانانِ ملت کو اپنے روزگار کے انتخاب کے بارے میں درست فیصلے کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
چھٹی بات یہ ہے کہ حکومت بیرون ملک اپنے شہریوں کو بہتر مدد فراہم کرکے اپنی قونصلر خدمات کو مضبوط بنا سکتی ہے۔ اس میں ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے مضبوط نظام قائم کرنا، قانونی امداد فراہم کرنا اور محفوظ نقل مکانی کے طریقوں کو اجاگر کرنا شامل ہے۔ بیرون ملک پاکستانی شہریوں کی حفاظت اور بہبود کو یقینی بنانے سے خدشات کو دور کرنے اور غیر قانونی ترکِ وطن کی کوششوں کی حوصلہ شکنی میں مدد ملے گی۔
ساتویں بات یہ ہے کہ پاکستان تارکین وطن کو درپیش چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے ایسے ممالک، بین الاقوامی تنظیموں اور این جی اوز کے ساتھ تعاون کر سکتا ہے جہاں پاکستانی شہری جانا چاہتے ہیں ۔ مشترکہ کوششوں کے طور پر معلومات کا اشتراک، ہم آہنگی کی پالیسیاں اور تارکین کے حقوق اور تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کا نفاذ بھی عمل میں لایا جاسکتا ہے۔
اس سے قبل بھی کئی حادثے ہوئےتاہم موجودہ حادثہ رونما ہونے کے بعد ہی ہماری حکومت ہوش میں آئی اور ایک تحقیقاتی کمیشن تشکیل دیا گیا ہے، تاہم اس کمیشن میں اگر وقت کا تعین کردیا جائے کہ ایک ہفتے یا 15روز میں اس کی رپورٹ مرتب کی جائے اور مزید 1 ماہ میں ایسے ایکشن لیے جائیں جس کے نتیجے میں وہ مافیا جو پاکستانی قانون کی زد میں آتا ہے اس کے خلاف کارروائی کی جائے جبکہ اس سلسلے میں عالمی قوانین بھی بڑے سخت ہیں جس کیلئے پاکستان وزارتِ خارجہ کے ذریعے دیگر ممالک سے معاونت لیتے ہوئے تمام مافیاؤں کا سراغ لگا کر انہیں متعلقہ ممالک میں سزا دلوا سکتا ہے۔
اسی طرح یورپ میں کچھ عرصہ قبل چند ممالک نے مل کرعالمی قانون کے تحت ایک مافیا کو پکڑا تھا، تو کیا وجہ ہے کہ پاکستان بھی ایسا ہی سخت ایکشن نہ لے جس کے کتنے ہی اَن گنت سپوت انسانی اسمگلرز کے ہاتھوں میں کھلونا بن کر سمندر برد ہو گئے؟ ضروری ہے کہ موجودہ حکومت اس ایکشن کا آغاز کرے اور مختلف ممالک جن سے ہوتے ہوئے یہ نوجوان ملک سے باہر جاتے ہیں، وہاں موجود مافیا کے تمام کارندوں کو کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے، اس کیلئے پاکستان کو بین الاقوامی قوانین کا بھی سہارا لینا چاہئے ،کیونکہ اگر ایسا نہیں کیا تو پھر یہ تمام معاملات سرد مہری کا شکار ہو جائیں گے ور قوم کو مستقبل میں بھی ایسے ہی کئی حادثات کا سامنا ہوسکتا ہے، جس سے بچنے کی ہمیشہ دعا کرنی چاہئے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں