طلبہ تنظیموں سے پابندی ہٹانے کا عندیہ

تازہ ترین

تازہ ترین

وزیراعظم پاکستان عمران خان نے ملک میں طلبہ تنظیموں سے پابندی ہٹانے کا عندیہ دیدیا ہے، وزیراعظم کہنا ہے ہم بین الاقوامی جامعات میں جاری بہترین مثالوں سے استفادہ کرتے ہوئے ایک جامع اور قابلِ عمل ضابطہ اخلاق متعارف کرائیں گے تاکہ پاکستان میں طلبا یونین کی بحالی اور سرگرمی شروع ہو اور وہ ملک کی نوجوان نسل کو سنوارنے اور مستقبل کے رہنماؤں کی فراہم میں اپنا مثبت کردار ادا کرسکے۔

سندھ میں بھی طلبہ تنظیموں سے مشاورت شروع ہوچکی ہے، وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے طلبہ یونینز پر پابندی ختم کرنے کی منظوری دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسٹوڈنٹس یونینزکی بحالی سے متعلق قانون سازی کریں گے جبکہ سابق وزیر اعظم یوسف رضاگیلانی نے یونین بحالی کا اعلان کیا تھا، جبکہ سندھ حکومت قرارداد بھی پاس کرچکی ہے۔

9 ؍ فروری 1984ء کو جنرل ضیاء الحق نے مارشل لاء کے ضابطہ 60کے تحت پابندی عائد کرکے طلبہ کو جمہوری عمل سے باہر کردیا تھا ۔اس غیر آئینی اقدام کے باعث ہم تعلیمی اداروں میں تعلیم کے ساتھ تربیت اور نوجوانوں کی غیر تدریسی مثبت سرگرمیوں میں شمولیت سے محرومی کا بحیثیت قوم نقصان اٹھارہے ہیں۔

ڈکٹیٹر ضیاء الحق کی جانب سے لگائی جانے والی پابندی کو جمہوریت کے چیمپئن حکمرانوں نے وعدوں کے باوجود ختم نہ کیا۔ملک میں ٹھیلہ لگانے والا ووٹ دے سکتا ہے لیکن طلبہ کو اپنے نمائندے منتخب کرنے کا حق حاصل نہیں۔

پاکستان میں ضیا آمریت کے دوران ٹریڈ یونینز پر بدترین جبر روا رکھا گیا، کالونی ٹیکسٹائل مل کے محنت کشوں کو حقوق مانگنے کی پاداش میں گولیوں سے چھلنی کر دیا گیا اور وحشت پر مبنی اس طرح کے دوسرے اقدامات کے ذریعے مزدور تحریک کو کچلنے کی ہر ممکن کوشش کی گئی،طلبہ یونین پر پابندی بھی اسی بربریت کا حصہ تھی۔

اس کا مقصد طلبہ تحریکوں کی شکل میں ابھرنے والے بغاوت کے ریلوں کو دبانا اور غیر نظریاتی سیاست کو پروان چڑھانا تھا۔طلبہ یونینز پر پابندی کے بعد تعلیمی ادارے بالخصوص جامعات کی فضا میں بے چینی، انتہاپسندی، عدم برداشت، لسانیت، صوبائیت پر مبنی پُرتشدد رویوں نے جنم لیا۔

گزشتہ ہفتے ملک کے تمام بڑے شہروں میں طلبا و طالبات نے طلبہ یونینز کی بحالی کے لیے ملک گیر مظاہرے کیے۔ ان مظاہروں میں طالبعلموں کے ساتھ وکلاء صحافی، سول سوسائٹی اور ترقی پسند دانشوروں نے بھی بھرپور شرکت کی۔

یونینزپر پابندی کے خاتمے کے ساتھ ساتھ یونیورسٹیوں کی فیسوں اور ٹرانسپورٹ کی سہولت کے فقدان کے خلاف بھی خوب نعرے بازی ہوئی اور ہائر ایجوکیشن کمیشن کے فنڈ میں کی جانیوالی کمی کے خلاف بھی بڑی تعداد میں پلے کارڈ نظر آئے۔

ہر جمہوری معاشرے میں طلبہ یونین کی اہمیت اپنی جگہ برقرار ہے لیکن بد قسمتی سے پاکستان میں طلبہ یونینز کو بہت زیادہ سیاسی بنادیا گیا ہے۔دیگر ممالک میں طلبہ یونین میں سیاسی جماعتوں کا عمل دخل بالکل نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے جبکہ پاکستان میں طلبہ یونین کو سیاسی پارٹیاں اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرتی ہیں جس سے تعلیمی ماحول خراب ہوجاتا ہے۔

یونینز کی بحالی کے لیے حکومت ہوم ورک کرے اور اس کے لیے ایک ضابطہ اخلاق وضع کیا جائے جس کی مدد سے طلبہ تنظیموں کے مابین لڑائی جھگڑوں کو کنٹرول کرکے یونینز کو ایک بہتر مقصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

Related Posts