حکومتِ وقت جس کے پاس اقتدار کے اب چند ہی دن بچے ہیں، آخری فیصلوں کے طور پر کچھ ایسے اقدامات اٹھانا چاہتی ہے جو بظاہر بے حد خوشگوار محسوس ہوتے ہیں تاہم حقیقت اس کے برعکس ہے۔
مثال کے طور پر عمران خان پر 9 مئی کے انتہائی شر انگیز واقعات کی منصوبہ بندی اور دہشت گردی جیسے الزامات کو سچ بھی مان لیا جائے تو چیئرمین پی ٹی آئی کے خلاف گزشتہ 3 ماہ میں بھی اقدامات اٹھائے جاسکتے تھے، لیکن ایسا نہیں ہوا۔
اقدامات اٹھانے کیلئے اگست کا مہینہ اور حکومت کے آخری دنوں کا انتخاب کتنا تشویشناک ہوسکتا ہے، شاید موجودہ حکومت کو اس کا ادراک ہی نہیں کیونکہ بلاشبہ عمران خان نے جو فصل بوئی تھی، شاید اسے وہ کاٹنی پڑ گئی لیکن حکومت کا عمل بھی اس سے مختلف نہیں ہے۔
عمران خان کے دورِ حکومت میں جس طرح ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے سابق وزرا پیشیاں بھگتتے اور گرفتاریوں سے نمٹتے پھر رہے تھے، وہی حال عمران خان کا بھی ہوا ہے۔ اس لیے ایک طرح سے اگر یہ مان لیا جائے کہ عمران خان کی گرفتاری انہی کی پالیسیوں کا ردِ عمل ہے تو بے جا نہ ہوگا۔
پہلے جس طرح عمران خان کے وزیرِ اطلاعات فواد چوہدری اور دیگر کہا کرتے تھے کہ گرفتاری یا احتساب کا عمل سیاسی نہیں ہے بلکہ قانون اپنا راستہ خود چن رہا ہے، کچھ ایسا ہی بیان گزشتہ روز مریم اورنگزیب کی جانب سے بھی سامنے آیا کہ عمران خان کی گرفتاری سیاسی نہیں۔
چلیے مان لیتے ہیں گرفتاری سیاسی نہیں تو قانونی بھی نہیں تھی کیونکہ جس عجلت کے ساتھ جج نے فیصلہ سنایا اور پھر جج کی ہی سکیورٹی میں اضافہ کردیا گیا، اس سے واضح ہے کہ عدالت کو انصاف کرنے اور پھر اس کے بعد اس کے نتائج سے خوفزدہ ہونے کی بھی جلدی تھی۔
جلدی پولیس کو بھی تھی جو عدالت کا فیصلہ سامنے آنے سے قبل ہی لاہور اور پھر زمان پارک پہنچ چکی تھی اور جیسے ہی فیصلہ سامنے آیا، باوردی اہلکاروں نے عمران خان کو دبوچا اور ائیرپورٹ لے گئے تاکہ ان کو اسلام آباد لے جایا جاسکے۔
میڈیا پر بڑی پابندیاں لگیں کہ عمران خان کا نام بھی مت لکھو بلکہ اسے چیئرمین پی ٹی آئی کہا کرو لیکن جب جب اس شخص کی گرفتاری کی بات آئی، میڈیا بھاگم بھاگ اس کی کوریج کیلئے جا پہنچا۔ گزشتہ کچھ عرصے سے عمران خان کی ریٹنگ گر بھی گئی تھی، لیکن گزشتہ روز حکومت کی کاوشوں سے یہ عبور کیا گیا سنگِ میل بھی اپنے ہی ماتھے پر آلگنے والا سنگ ثابت ہوا۔
سو عمران خان عرف چیئرمین پی ٹی آئی کی گرفتاری موجودہ حکومت عرف پی ڈی ایم کی کامیابی نہیں بلکہ ناکامی ہی کہی جاسکتی ہے جو انتخابات کے میدان میں اترنے سے قبل ہی اپنی ناکامی سے خوفزدہ ہے۔ جناب! آپ الیکشن کے میدان میں اتر کر تو دیکھیں۔ ہوسکتا ہے کہ عوام ووٹ ڈال کر آپ کو ایک بار پھر اپنے سروں پر مسلط کر لیں۔ پاکستان میں کیا نہیں ہوسکتا؟
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں