عمران خان آؤٹ

تازہ ترین

تازہ ترین

پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان کو ریاستی تحائف فروخت کرنے کے مقدمے میں سزا سنائی گئی اور گرفتار کر لیا گیا۔ حکومت کی مدت پوری ہونے سے چند روز قبل ضلعی عدالت نے سابق وزیراعظم کو پانچ سال کے لیے نااہل قرار دیتے ہوئے انہیں سیاسی میدان سے باہر کرنے کا فوری فیصلہ سنا دیا اور جس کی فوری تعمیل بھی کر دی گئی ہے۔

جس انداز میں فیصلہ سنایا گیا، اس کیس کی سماعتوں کے دوران ہی رخ بتا رہا تھا کہ اس کا انجام کیا ہوگا۔ سبھی کو اسی فیصلے کی توقع تھی، جو اب عدالت کی مہر کے ساتھ سامنے آگیا ہے۔

عدالت کی جانب سے فیصلے کے اعلان سے قبل ہی پولیس کے دستے لاہور میں عمران خان کی رہائش گاہ کے باہر پہنچ گئے تھے، جس نے فیصلے پر مزید شکوک و شبہات کو جنم دیا ہے، چنانچہ اپنے ردعمل میں پی ٹی آئی نے کہا ہے کہ فیصلہ طے شدہ تھا اور یہ سب نام نہاد “لیول پلیئنگ گراونڈ” بنانے کی منصوبہ بندی کے تحت ہوا۔

یہ فیصلہ تعجب انگیز ہرگز نہیں ہے۔ پی ٹی آئی کے سربراہ بار بار یہ دعویٰ کرتے رہے ہیں کہ حکومت اور اسٹیبلشمنٹ انہیں جیل میں دیکھنا چاہتی ہیں، چنانچہ عمران خان نے اپنی گرفتاری سے ایک دن پہلے ان خدشات کا اظہار کیا تھا کہ انہیں کسی بھی وقت گرفتار کیا جا سکتا ہے۔

پی ٹی آئی کے سربراہ کو توشہ خانہ کیس کے علاوہ بھی مختلف مقدمات کا سامنا ہے، چنانچہ وہ کسی مقدمے میں ضمانت کے حصول اور کسی مقدمے کی عدالتی سماعت میں شرکت کے لیے ایک سے دوسری عدالت کی طرف بھاگتے دوڑتے دکھائی دیتے رہے ہیں۔ سب سے اہم توشہ خانہ کیس تھا جس میں عمران خان کو سزا سنائی گئی ہے، جس پر پی ٹی آئی کے حلقوں کا کہنا ہے کہ مقدمے کی کارروائی منصفانہ نہیں ہوئی، مقدمے میں گواہ بھی پیش نہیں ہوئے۔ پی ٹی آئی کے سربراہ کے وکیل کی جانب سے متنازعہ فیس بک پوسٹس کا حوالہ دیتے ہوئے جج کے کردار پر تحفظات کا اظہار بھی کیا، تاہم اس سب کے باوجود عدالت نے بڑی عجلت کا مظاہرہ کیا۔

اب سوال یہ ہے کہ آیا اس بندوبست کے ذریعے عمران خان کی عوامی مقبولیت میں کمی لائی جا سکتی ہے؟ بظاہر ایسا ہوتا نظر نہیں آ رہا، ایسا لگتا ہے کہ عمران خان ابھی صرف ایک اننگ میں ہی آؤٹ ہوئے ہیں، جبکہ اس طویل کھیل کی ابھی کئی اننگز ہونا باقی ہیں۔ یہ آنے والا وقت ہی درست بتا سکتا ہے کہ باقی اننگز میں عمران خان کی کیا کارکردگی سامنے آتی ہے؟

Related Posts