معروف پنجابی گلوکار اے پی ڈھلوں نے کہا ہے کہ کیریئر کے آغاز میں کریڈٹ کارڈ نہ ہونے کی وجہ سے مجھے ہوٹل میں داخل ہونے سے روک دیا گیا تھا۔
بھارتی نژاد کینیڈین گلوکار اے پی ڈھلوں ان دنوں اپنی دستاویزی فلم “اے پی ڈھلوں: فرسٹ آف اے کائنڈ” کی کامیابی میں مصروف ہیں۔ گزشتہ دنوں ایک انٹرویو میں انہوں نے کیریئر کے آغاز کے حوالے سے گفتگو کی۔
اے پی ڈھلوں نے کہا کہ مجھے ایک مرتبہ کریڈٹ کارڈ نہ ہونے کی وجہ سے ہوٹل میں داخل ہونے سے روک دیا گیا تھا، اس وقت میرے پاس دو سوٹ کیس تھے، میں نے انھیں ہوٹل کے لاؤنج میں رکھ کر سونے کی کوشش کی۔
گلوکار کے مطابق جس وقت وہ یہ کررہے تھے اسی وقت ایک لڑکی میرے پاس آئی اور اس نے پوچھا کہ تم اتنے مجبور نہیں لگتے پھر ایسے کیوں سورہے ہو، جس پر میں نے اسے تمام کہانی سنادی۔ میری پریشانی سننے کے بعد وہ لڑکی اپنے منگیتر کے پاس گئی اور اس سے میری مدد کرنے کو کہا۔
انہوں نے بتایا کہ لڑکی کے ساتھ موجود لڑکے نے ہوٹل کا بل ادا کرکے میری مدد کی۔ جس کے بعد میرے دل میں یہ خیال آیا کہ اس دنیا میں اچھے لوگ بھی موجود ہیں۔
اے پی ڈھلون کی دستاویزی فلم
فرسٹ آف اے کائنڈ چار حصوں پر مشتمل دستاویزی سیریز ہے جس کی ہدایت کاری جے احمد نے کی ہے اور اس سیریز کا نام اے پی ڈھلن: فرسٹ آف اے کائنڈ ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








