کوئٹہ: گزشتہ حکومت کی مشترکہ مفادات کونسل کی جانب سے مردم شماری کی منظوری کے بعد بلوچستان کی آبادی کم دکھائے جانے کا معاملہ ہائیکورٹ میں چیلنج کیا گیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ نعیم اختر افغان نے ڈویژن بینچ کی سربراہی کرتے ہوئے بلوچستان کی آبادی کم دکھانے کے خلاف دائر کی گئی درخواست کی سماعت کی۔
عمران خان کی توشہ خانہ کیس میں اپیلوں کی سماعت آج ہوگی
درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ ڈیجیٹل مردم شماری میں بلوچستان کی آبادی 2 کروڑ 17 لاکھ ظاہر کی گئی۔ مشترکہ مفادات کونسل کا صوبے کی آبادی 70 لاکھ تک کم دکھانا غیر قانونی ہے۔
عدالت میں دائر درخواست میں مدعی مقدمہ کا کہنا ہے کہ مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس میں منتخب وزیر اعلیٰ کی موجودگی ضروری تھی۔ ہائیکورٹ نے استفسار کیا کہ مشترکہ مفادات کونسل کا فیصلہ صوبائی حکومت نے چیلنج کیوں نہیں کیا؟
وکیلِ استغاثہ کامران مرتضیٰ ایڈووکیٹ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ درخواست گزار نے صوبے کا شہری ہونے کے ناطے فیصلے سے متاثر ہونے کی بنیاد پر مشترکہ مفادات کونسل کا فیصلہ چیلنج کیا ہے۔
بعد ازاں بلوچستان ہائیکورٹ نے درخواست کے قابلِ سماعت ہونے یا نہ ہونے سے متعلق اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا۔ عدالت نے متعلقہ حکام سے جواب طلبی کیلئے نوٹسز بھی جاری کیے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








