بانی پی ٹی آئی نے زندگی کی 72 بہاریں دیکھ لیں جبکہ تحریکِ انصاف سابق وزیراعظم کو جیل سے نکالنے کیلئے احتجاج کر رہی ہے، سوال یہ ہے کہ کیا عمران خان جیل سے باہر آئیں گے؟ اور ایسا ہوا تو کب ہوگا؟
ماضی کے وزیراعظم عمران خان کے دورِ اقتدار میں کورونا وائرس نے دُنیا بھر میں ہلچل مچائی جس سے کھربوں ڈالرز کا نقصان ہوا جو بہت کم پیمانے پر سہی، لیکن آج بھی جاری ہے۔ سابق وزیرِ اعظم عمران خان نے اسمارٹ لاک ڈاؤن کی پالیسی اپنائی جسے عالمی سطح پر پذیرائی ملی۔
ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال تحریکِ انصاف کے حق میں نظر نہیں آتی کیونکہ عمران خان سمیت پی ٹی آئی کے متعدد رہنما یا تو جیلوں میں قید ہیں یا پھر ان کے خلاف مقدمات قائم ہیں اور وہ گرفتاریوں، پیشیوں اور قانونی کارروائی کا سامنا کر رہے ہیں۔ یہ سب کیسے ہوا اور کیا عمران خان کب جیل سے باہر آئیں گے؟ آئیے حقائق کا جائزہ لیتے ہیں:
تحریکِ انصاف کی جدوجہد اور عمران خان
سابق وزیراعظم عمران خان نے تحریکِ انصاف نامی سیاسی جماعت کا آغاز 25 اپریل 1996ء کو کیا۔ عمران خان وزیرِ اعظم بننے سے قبل براڈ فورڈ یونیورسٹی کے چانسلر اور شوکت خانم کینسر ہسپتال کے بانی بھی تھے تاہم سیاست میں داخلے کے فیصلے نے ان کی زندگی بدل ڈالی۔
ماضی میں 2018 کے عام انتخابات میں وزیر اعظم بننے والے عمران خان نے ایک کرکٹر کے طور پر شاندار زندگی گزاری اور 1992ء میں پاکستان کو ورلڈ کپ بھی جتوایا، جس کے بعد سے آج تک یہ کارنامہ کوئی اور کرکٹر سرانجام نہیں دے سکا جس کا محض خواب ہی دیکھا جارہا ہے۔
تعلیمی اعتبار سے بانی پی ٹی آئی نے معاشیات، فلسفہ اور پولیٹیکل سائنس میں ماسٹرز کیا ہے۔ اگر سیاسی نظریات کی بات کی جائے تو عمران خان کے نزدیک آزاد احتساب بیورو، آزاد عدلیہ اور آزاد الیکشن کمیشن پاکستان کے مسائل کا واحد حل ہے۔وہ متعدد مواقع پر مینڈیٹ چوری کی بھی شکایت کرچکے ہیں۔
الیکشن سے قبل اقتدار اور سیاست کیلئے تحریکِ انصاف 17 سالہ جدوجہد کے بعد ایک مضبوط سیاسی پارٹی بنی جس نے خیبر پختونخوا میں اپنی صوبائی حکومت بنا لی۔ ووٹوں کے لحاظ سے پی ٹی آئی ملک کی دوسری اور سیٹوں کے لحاظ سے تیسری بڑی سیاسی پارٹی بن گئی جو ایک اچھا آغاز کہا جاسکتا ہے۔
پھر 2018ء کے انتخابات میں تحریکِ انصاف نے ملک بھر سے شاندار کامیابی حاصل کی اور خیبر پختونخوا کے ساتھ ساتھ دیگر صوبوں اور وفاق میں اہم نشستیں حاصل کیں۔ 2018ء سے 2022 تک وفاقی کابینہ کے وزراء اور وزیرِ اعظم عمران خان کے ساتھ ساتھ صدرِ پاکستان ڈاکٹر عارف علوی اور گورنر سندھ عمران اسماعیل بھی تحریکِ انصاف کا حصہ رہے ہیں۔
وزارتِ عظمیٰ سے علیحدگی
آگے چل کر اپریل 2022میں عمران خان ملک کے وہ پہلے وزیر اعظم بنے جنہیں قانونی طریقے سے تحریکِ عدم اعتماد کامیاب کروا کر اقتدار سے الگ کردیا گیا اور یوں وہ 100 روز کا وعدہ، احساس پروگرام اور انصاف کارڈ سمیت دیگر سہولیات دینے والا عمران خان وزیر اعظم ہاؤس کو الوداع کہنے پر مجبور ہوگیا۔
لیکن یہ سب کچھ اتنی آسانی سے نہیں ہوا۔ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری نے تحریکِ عدم اعتماد کو مسترد کردیا تھا، اس وقت کے وزیر اعظم عمران خان نے قومی اسمبلی تحلیل کرنے کی سمری بھیجی اور صدرِ مملکت نے قومی اسمبلی تحلیل بھی کرڈالی تاہم سپریم کورٹ نے قاسم سوری کی رولنگ غیر قانونی قرار دے دی اور پھر قومی اسمبلی بحال ہوگئی۔
یوں بانی پی ٹی آئی کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد بحال کی گئی قومی اسمبلی میں پیش ہوئی جس کی اراکین نے توثیق کردی اور پھر عمران خان جو وزارتِ عظمیٰ کے ساتھ ساتھ قومی اسمبلی بھی تحلیل کرچکے تھے، قانونی طریقے سے بے دخل ہوئے،
بقول شاعر: اے محبت ترے انجام پہ رونا آیا۔
بے فائدہ احتساب اور سیاسی خلفشار
اس میں کوئی شک نہیں کہ عمران خان کا یہ خواب تھا کہ وہ سابق وزیرِ اعظم نواز شریف، سابق صدر آصف زرداری اور اپوزیشن جماعتوں کے دیگر بدعنوان سیاستدانوں کو کیفرِ کردار تک پہنچائیں گے، لیکن احتساب کا یہ نعرہ محض نعرہ ہی رہ گیا جس پر بوجوہ عملدرآمد نہیں ہوسکا۔
دیکھا جائے تو آج عدلیہ کے فیصلوں، نیب کی ناکامیوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی قوم کے سامنے ہے۔ سیاسی خلفشار ایک الگ مسئلہ ہے۔ موجودہ سیاسی منظر نامے میں عمران خان کی آمد کے بظاہر دور دور تک کوئی آثار نہیں لیکن سیاست میں حرفِ آخر کچھ نہیں ہوسکتا، اس لیے کچھ بھی نہیں کہاجاسکتا کہ مستقبل کیسا ہوگا۔
تحریکِ انصاف کا اختتام؟
پی ٹی آئی کے سابق وفاقی وزرا اور سابق معاونینِ خصوصی سمیت اکا دکا نہیں، درجنوں نہیں بلکہ سیکڑوں پی ٹی آئی رہنماؤں، عہدیداران اور کارکنان نے پارٹی اور سیاست چھوڑ دی ہے۔ درجنوں کی پریس کانفرنسز ٹی وی پر نشر ہوئیں اور انہوں نے 9مئی واقعات کا ذمہ دار پی ٹی آئی کو ٹھہرایا۔
محسوس ایسا ہوتا ہے کہ جیسے پی ٹی آئی کا اختتام ہوچکا ہے کیونکہ وہ عمران خان جسے تحریکِ انصاف کا روحِ رواں سمجھا جاتا تھا، پہلے اٹک جیل اور پھر اڈیالہ جیل میں قید ہے۔ پھر بھی پی ٹی آئی کی بچی کھچی قیادت کا اصرار ہے کہ تحریکِ انصاف انتخابات میں حصہ لے گی اور نہ صرف عمران خان جیل سے باہر آئیں گے بلکہ وہی اگلے وزیر اعظم ہوں گے۔
عمران خان اگلا وزیر اعظم؟
جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا، سیاست میں حرفِ آخر کچھ نہیں ہے۔ ایک طرف تو پی ٹی آئی قیادت عتاب کا شکار ہے اور پی ٹی آئی رہنما بالکل اسی طرح مقدمات بھگتتے پھر رہے ہیں جیسا کہ عمران خان کے دور میں اپوزیشن کے ساتھ سلوک کیا جاتا تھا تو دوسری جانب عمران خان کے وزیر اعظم بننے سے انکار بھی نہیں ہوسکتا۔
بعض تجزیہ کاروں کی رائے یہ ہے کہ عمران خان کی سیاسی جماعت درِ پردہ اسٹیبلشمنٹ سے ڈیل کرکے یا کسی اور طریقے سے اقتدار پر قبضہ جمانے کیلئے کمر کس چکی ہے تاہم ن لیگ اور پیپلز پارٹی کو بھی اس کھیل سے الگ نہیں کیا جاسکتا، اگر مسلم لیگ (ن) اپنا وزیراعظم لانے میں کامیاب رہی ہے تو پیپلز پارٹی نے آصف علی زرداری کو صدر بنانے میں بھی کامیابی حاصل کرلی ہے، یوں آنے والا وقت عمران خان کیلئے زیادہ آسان نظر نہیں آتا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








