پاکستان کی سب سے بڑی عدالت سپریم کورٹ میں چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں فل کورٹ بینچ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ سے متعلق کیس کی سماعت کررہا ہے۔
تکنیکی اعتبار سے سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ ایک ایسا قانون ہے جو چیف جسٹس آف پاکستان کے اختیارات سے بحث کرتا ہے۔ ایک ایسی کمیٹی کی تشکیل کا باعث بنتا ہے جس کی سربراہی تو چیف جسٹس کرتے ہیں تاہم کمیٹی سوموٹو ایکشن اور سپریم کورٹ بینچ تشکیل دینے سے متعلق اہم اختیارات رکھتی ہے۔
آج سے 2 روز قبل چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس منیب اختر اور جسٹس عائشہ ملک سمیت سپریم کورٹ کے ججز کو وکیل سے سوالات کرنے سے روک دیا جس پر سوشل میڈیا اور ٹی وی چینلز پر خوب بحث ہوئی۔
چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اس اعتبار سے ہمیشہ یاد کیے جائیں گے کہ انہوں نے سپریم کورٹ کی کارروائی کو ٹی وی چینلز پر لائیو ٹیلی کاسٹ کروا کر عوام کے سامنے رکھ دیا جو اس سے قبل یہ نہیں جانتے تھے کہ ملک کی سب سے بڑی عدالت کس طرح کام کرتی ہے۔
تشویشناک بات یہ ہے کہ پاکستان نے اردو کواپنی قومی زبان تو قرار دیا، تاہم سپریم کورٹ سمیت دیگر اداروں میں آج تک اردو کا نفاذ حقیقی معنوں میں عمل میں نہیں لایا جاسکا اور یہی وجہ ہے کہ سپریم کورٹ کی کارروائی زیادہ تر عوام کی سمجھ سے بالاتر ہی رہی۔
گزشتہ روز کیس کی سماعت کے دوران جسٹس منیب اختر نے مزید سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ 1956 کے آئین کے مطابق رولز کی منظوری صدر یا گورنر جنرل دیتے تھے، آپ کہتے ہیں کہ پارلیمنٹ رولز تبدیل کرسکتی ہے، یہ بات مان لی جائے تو سپریم کورٹ رولز کی منظوری اس سے قبل پارلیمنٹ نے کیوں نہ دی؟
اٹارنی جنرل عثمان انور نے کہا کہ پارلیمنٹ کا یہ اختیار ہے جسے وہ استعمال نہیں کررہی تھی، استعمال نہ کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ وہ اختیار ختم ہوگیا۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ اس قانون سے عدلیہ کی آزادی متاثر ہوتی ہے۔ قانون کا لفظ آئین میں 200 بار استعمال ہوا ہو، تو کیا اس کا ایک ہی مطلب لیا جائے گا؟
عثمان انور نے کہا کہ قانون یا تو پارلیمنت بناتی ہے یا پھر جج میڈ لاہوتا ہے۔ جسٹس منیب اختر نے کہا کہ آرٹیکل 8 کہتا ہے اس طرح قانون نہیں بنایا جاسکتا جو بنیادی حقوق واپس لے لے۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ پارلیمنٹ کو آرٹیکل 191 قانون سازی کا اختیار دیتا ہے تاہم عدلیہ کی آزادی کے خلاف قانون سازی نہیں ہوسکتی۔
چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے بقول سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ آئین کے خلاف ہے، یہ درخواست گزاروں کو ثابت کرنا ہے جبکہ موجودہ چیف جسٹس اپنے ہی اختیارات سے متعلق کیس میں عدلیہ کی بجائے پارلیمنٹ کے حامی نظر آتے ہیں۔ کیس کا فیصلہ سامنے آنے کے بعد ہی اس پر مزید رائے زنی کی جاسکتی ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں