صحافی سیف اعوان نے تصویر شیئرکرتے ہوئے لکھا کہ ’’ احمد نورانی نے امریکہ میں دکان پر بطور سیل مین نوکری شروع کردی‘‘۔


اس پر “ڈان نیوز” کی اینکر ابصا کومل نے لکھا کہ ’’احمد نورانی اس ملک کے صف اول کے تحقیقاتی صحافیوں میں شمار ہوتے ہیں، طاقت ور شخصیت کے خلاف رپورٹ کرنے کے بعد  ان کو بیرون ملک رہنا پڑا۔ اب اگر وہ گزر بسر کے لئے محنت کر رہے ہیں تو اس میں شرم نہیں، بلکہ فخر کی بات ہے کیونکہ وہ چاہتے تو یوٹرن لیتےاور ”ڈیل “  کر کے واپس آچکے ہوتے، انہوں نے اپنے اصولوں پر قائم رہنے کو بہتر سمجھا‘‘۔ 

 


وزیرستان سے تعلق رکھنے والے صحافی شیریار محسود نے لکھا کہ ’’ پاکستانی صحافی احمد نورانی کے خلاف  اس تصویر کی بنیاد پر تضحیک آمیز مہم چلائی جارہی ہے ، پاکستانیوں کو ایمان بیچنا گناہ نہیں لگتا،ضمیر بیچنے والے کو کہا جاتا ہے کہ پاکستان ہے سب چلتا ہے،دوسروں کے حق پر ڈاکے ڈالنے والے ان کے  رہنما ہوتے ہیں وہ برائی نہیں۔ احمد نورانی صاحب کو دیکھ کر مجھے انتہائی اچھا لگا کہ وہ محنت کررہے ہیں اور مجھے ان کی ایمانداری پر مزید یقین پختہ ہوا۔ اب تو وہ نورانی کو لفافہ صحافی بھی نہیں کہہ سکیں گے کیونکہ وہ محنت کرتا ہے عزت سے کماتا ہے‘۔
 

اسی طرح عارف حمید بھٹی نے لکھا کہ ’احمد نورانی انویسٹی گیشن صحافی ہیں، مجبور کیا گیا تو وطن کی مٹی چھوڑ کر ان کو جانا پڑا۔ کسی حرام کھانے والے سے مدد لینے کی بجائے وہ رزق حلال کمانے کے لئے محنت کر رہے ہیں، رزق حلال عبادت ہے۔