پاکستان کرکٹ ٹیم اپنی بدترین کارکردگی کے باعث ورلڈ کپ 2023 سے باہر ہوگئی۔ پچھلی تقریباً ایک دہائی سے پاکستان کرکٹ ٹیم اسی تباہ حالی سے دوچار ہے۔ بالخصوص 2007 میں ٹی ٹوینٹی کرکٹ کی آمد کے بعد سے تو ایسا لگ رہا ہے کہ پاکستان ٹیم او ڈی آئی کھیلنا ہی بھول گئی ہے اور ٹیم کیلئے 50 اوورز کھیلنا کے ٹو سر کرنے جیسا بن کر رہ گیا ہے۔
کرکٹ کے اس مختصر فارمیٹ نے نہ صرف یہ کہ کھیل کا ذوق ہی بدل دیا ہے بلکہ دوسرے دو فارمیٹس ون ڈے اور ٹیسٹ میچز کو بھی غیر اہم بناکر رکھ دیا ہے، یہی نہیں بلکہ مجموعی کرکٹنگ نقطہ نظر بھی اب ‘ماڈرن ڈے کرکٹ’ کے تصور میں ڈھل گیا ہے۔
چنانچہ مختصر فارمیٹ کی کرکٹ کی سائنس کے سامنے ہماری قومی کرکٹ کی نفسیات پامال ہوکر رہ گئی ہے، جس کا اثر مجموعی طور پر او ڈی آئی کرکٹ میں ظاہر ہوا ہے اور ظاہر ہے یہ اثر مثبت نہیں، منفی ہے۔
2015 کے ورلڈ کپ کے بعد ون ڈے کرکٹ ایک مکمل طور پر مختلف کھیل بن گئی ہے اور اس میں مختصر فارمیٹ کا انداز اس قدر اثر کر گیا ہے کہ اب او ڈی آئی میں 350-400 سے زیادہ کا اسکور ایک معمول ہے۔
مختصر فارمیٹ کی کرکٹ نے ٹیسٹ میچز کے میدانوں کو بھی شدید متاثر کیا ہے، یہی وجہ ہے کہ آج کلاسک کرکٹ کا یہ نمائندہ فارمیٹ بڑی حد تک لا تعلقی کا شکار ہوچکا ہے اور کچھ لوگ تو ریڈ بال کرکٹ کا باب ہمیشہ کیلئے بند کرنے کی بات کرنے لگے ہیں۔
نئے دور کی کرکٹ کے نئے تقاضوں کو سامنے رکھ کر دیکھا جائے تو بد قسمتی سے پاکستان کرکٹ ٹیم میں واضح خامیاں دکھائی دیتی ہیں۔ جاری ورلڈ کپ کے اس اہم ترین ایونٹ میں ٹیم کی انتہائی مایوس کن کارکردگی اس کی واضح مثال ہے۔
کپتان بابر اعظم کے بارے میں ہمیشہ بات کی جاتی ہے، ان کی ذاتی کارکردگی کی تعریف بھی کی جاتی ہے، تاہم اس اہم ایونٹ نے یہ بات بھی ثابت کردی کہ ان میں ٹیم کو لڑانے اور کامیاب کرنے کی قائدانہ صلاحیتیں موجود نہیں ہیں۔ علاوہ ازیں کرکٹ تجزیہ کاروں کے نزدیک اس سے بھی زیادہ تشویشناک نکتہ یہ ہے کہ ٹیم میں کرکٹ کے جدید شعور کی شدید کمی ہے اور جب تک یہ کمی برقرار ہے کپتان بدلنے سے بھی ٹیم کی کارکردگی میں کوئی خاطر خواہ تبدیلی نہیں آئے گی۔
اگر آپ بہترین صلاحیتوں کے ساتھ کھیل کر میچ ہار جاتے ہیں تو یہ کوئی بڑی بات نہیں کہ ہار جیت کھیل کا حصہ ہے، تاہم نیٹ رن ریٹ کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے نہ کھیلنا بہر صورت قابل تشویش امر ہے، چنانچہ فرسٹ آف آل اس مسئلے کو جڑ بن سے اکھیڑ ڈالنا بہت ضروری ہے۔
بدقسمتی سے بابر الیون نے جس طرح نیٹ رن ریٹ آپشن کو نظر انداز کر کے ٹورنامنٹ کھیلا اس نے پوری ٹیم اور ٹیم کیپٹن کی ذہانت پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ نیوزی لینڈ بھی پاکستان کی طرح مسلسل کئی میچ ہارا، لیکن گرین شرٹس کے مقابلے میں انہوں نے نیٹ رن ریٹ سائنس کو سمجھا اور اس کے مطابق اسٹریٹجی بنائی، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ وہ اب سیمی فائنل کھیلیں گے۔
پاکستان ٹیم کو بنیادوں سے مضبوط بنانے پر توجہ دینے کی ضرورت ہے ورنہ ہم آئندہ بھی محض تکوں اور دعاؤں کے ذریعے ٹیم کی کامیابی کے سہارے ڈھونڈتے رہیں گے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں