کئی دن کے شدید محاصرے، وحشیانہ بمباری اور زمینی حملوں کے سائے میں اسرائیلی وحشی فوج غزہ کے سب سے بڑے مرکز صحت الشفا اسپتال میں ٹینکوں سمیت داخل ہو گئی ہے اور اطلاع ہے کہ حماس کے ہتھیار نہ ملنے پر اپنی خفت مٹانے کیلئے اسرائیلی قابض فوج اس اسپتال کو اب خود فوجی مقاصد کیلئے استعمال کرنے لگی ہے۔
غزہ کے اس سب سے بڑے اور قدیم شفا خانے سے عینی شاہدین کے مطابق اسپتال کے اندر بیسیوں اسرائیلی فوجی ٹینکوں کے ساتھ داخل ہوگئے اور اسپتال میں گھس کر اندھا دھند مریضوں، زخمیوں، نرسز اور ڈاکٹروں کی پکڑدھکڑ شروع کر دی۔
دوسری طرف اسرائیل کے شریک جرم امریکا نے منافقانہ بیان دیتے ہوئے کہا کہ ہم اسپتال میں فائرنگ اور مسلح لڑائی نہیں دیکھنا چاہتے، جبکہ اگلی ہی سانس میں امریکا نے اپنے لے پالک اسرائیل کے اس جھوٹ کی حمایت کی ہے کہ الشفا اسپتال کے نیچے حماس کا کمانڈ سینٹر اور اسلحہ خانہ موجود تھا، جس کی قلعی اس شفاخانے پر اسرائیل کے جارحانہ قبضے کے بعد کھل گئی اور دنیا نے دیکھ لیا کہ اسرائیل نے اس اسپتال کو نشانہ بنانے کیلئے وہی جھوٹا بیانیہ تراشا جو اس کے بڑوں امریکا اور برطانیہ نے عراق پر حملے کیلئے تراشا تھا۔
یہ بات واضح ہے کہ سات اکتوبر کو حماس کے جانبازوں نے پون صدی سے جاری قابض گروہ اسرائیل کے ناجائز قبضوں، فلسطینیوں پر بدترین مظالم اور یکطرفہ جارحیت کے رد عمل میں صہیونی قابض کے پندرہ سالہ بدترین محاصرے کے آہنی جال کو کاٹ کر اور اس کے افسانوی شہرت کے حامل میزائل دفاعی نظام آہنی گنبد (آئرن ڈوم) کو اندھا کرکے مقبوضہ علاقوں میں گھس کر کامیاب گوریلا کارروائی کی جو جرات مندانہ تاریخ رقم کی، اس نے اسرائیل کو ایسا حواس باختہ کر دیا ہے کہ وہ اس کی چوٹ اورگھاو کی کسک، درد اور خفت مٹانے کیلئے ایک مہینے سے زیادہ عرصے سے اپنی تمام تر قوت قاہرہ کے ساتھ غزہ کے نہتے مسلمانوں، غیر متحارب عوام، بوڑھوں، بچوں، خواتین اور سول آبادی پر جنونِ سفاکیت کے ساتھ حملہ آور ہے۔
اسرائیل آتش انتقام میں اندھا ہوکر اب تک غزہ کی پٹی کے مختصر علاقے میں جس قدر بم اور بارود برسا چکا ہے، ماہرین کے مطابق وہ کئی ایٹم بموں کے برابر ہے۔ یکطرفہ طور پر جاری ان وحشیانہ حملوں کے نتیجے میں تئیس لاکھ کی گنجان آبادی کا شہر غزہ کھنڈر میں تبدیل ہوچکا ہے، وحشی صہیونی قابض نے عمارتوں کی عمارتیں ملبے کے ڈھیر میں تبدیل کر دیے ہیں۔ حماس کے جانبازوں کو ختم کرنے کی دھن میں اسرائیل غزہ کی پوری بستی کو ملیامیٹ کرنے کے درپے ہے، کیونکہ حماس اس کیلئے ایک ڈراونا خواب اور ایسا چھلاوا بن چکی ہے، جس کے تعاقب اور تلاش میں وہ زخمی اژدھے کی طرح ادھر ادھرپھنکارتا پھر رہا ہے اور سامنے آنے والی ہر چیز کو تباہ کیے جا رہا ہے، تاہم کئی ایٹم بموں کی طاقت جتنی بدترین بمباری کے باوجود آج 40 دن بعد بھی حماس پہلے دن کی طرح اس کیلئے ناقابل شکست ہے۔
حماس نے بجا طور پر الشفا اسپتال کے اسرائیلی فوج کی طرف سے محاصرے کےلئے امریکی صدر جو بائیڈن کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ حماس نے بجا کہا ہے کہ اس اسرائیلی اقدام کے امریکی صدر واحد ذمہ دار شخص ہیں۔
اس میں دوسری رائے نہیں کہ الشفا اسپتال کے محاصرے اور پورے غزہ پر وحشیانہ صہیونی حملوں کا ذمے دار براہ راست امریکی صدر ہے، جس پر ان کیخلاف فوجداری مقدمہ کیا جانا چاہیے۔ دوسری طرف عالم اسلام کی طرف سے مجرمانہ خاموشی، غفلت اور بے شرمی و بے حسی کی حد ہوگئی ہے۔ سعودی عرب اور پاکستان سے لیکر ایران و ترکیہ تک تمام مسلمان ممالک اور سربراہان بھی مظلومین غزہ کے اس قتل عام کے مجرم ہیں، جن کی دیکھتی آنکھوں اسرائیل ان کے بے بس و مظلوم بھائیوں کی نسل کشی کر رہا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں