سارہ انعام قتل کیس میں عدالت نے ملزم شاہنواز امیر کو سزائے موت سناتے ہوئے 10 لاکھ روپے جرمانہ ادا کرنے کا بھی حکم دے دیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ کے جج ناصر جاوید رانا نے سارہ انعام قتل کیس میں قاتل کے طور پر نامزد ملزم شاہنواز امیر کو سزائے موت کا فیصلہ سنایا۔ معزز جج نے یہ فیصلہ اوپن کورٹ میں سنایا جو اس سے قبل رواں ماہ محفوظ کیا گیا تھا۔
[visual-link-preview encoded=”eyJ0eXBlIjoiaW50ZXJuYWwiLCJwb3N0IjoxNTU0MDQsInBvc3RfbGFiZWwiOiJQb3N0IDE1NTQwNCAtINiz2KfYsduBINin2YbYudin2YUg2YLYqtmEINqp24zYs9iMINmF2YTYstmFINi02KfbgdmG2YjYp9iyINmG25Ig2YXbjNix24wg2KjbjNm524wg2qnZiCDZvtmE2KfZhtmG2q8g2LPbkiDZgtiq2YQg2qnbjNin25TZiNin2YTYryIsInVybCI6IiIsImltYWdlX2lkIjoxNTU0MDUsImltYWdlX3VybCI6Imh0dHBzOi8vbW1uZXdzLnR2L3VyZHUvd3AtY29udGVudC91cGxvYWRzLzIwMjMvMDMvU2FyYS1JbmFtLU11cmRlci0zMDB4MjUwLmpwZyIsInRpdGxlIjoi2LPYp9ix24Eg2KfZhti52KfZhSDZgtiq2YQg2qnbjNiz2Iwg2YXZhNiy2YUg2LTYp9uB2YbZiNin2LIg2YbbkiDZhduM2LHbjCDYqNuM2bnbjCDaqdmIINm+2YTYp9mG2YbaryDYs9uSINmC2KrZhCDaqduM2KfblNmI2KfZhNivIiwic3VtbWFyeSI6Itin2LPZhNin2YUg2KLYqNin2K86INiz2KfYsduBINin2YbYudin2YUg2YLYqtmEINqp24zYsyDaqduSINqv2YjYp9uBINin2YjYsSDZhdmC2KrZiNmE24Eg2qnbkiDZiNin2YTYryDYp9mG2KzbjNmG2KbYsSDYp9mG2LnYp9mFINin2YTYsdit24zZhSDZhtuSINin2YTYstin2YUg2LnYp9im2K8g2qnbjNinINuB25Ig2qnbgSDZhdmE2LLZhSDYtNin24HZhtmI2KfYsiDZhtuSINin2YYg2qnbjCDYqNuM2bnbjCDaqdmIINm+2YTYp9mG2YbaryDaqduSINiz2KfYqtq+INmC2KrZhCDaqduM2KfblCAiLCJ0ZW1wbGF0ZSI6InNwb3RsaWdodCJ9″]
اپنے فیصلے میں عدالت نے قرار دیا کہ پولیس نے سارہ انعام قتل کیس میں 2 ملزمان شاہنواز امیر اور ان کی والدہ ثمینہ شاہ کو ملزم نامزد کیا تھا۔ شاہنواز کی والدہ کے خلاف پولیس نے اپنی تفتیش مکمل نہیں کی، جنہیں قتل کے مقدمے سے متعلق الزام سے بری کیا جارہا ہے۔
اس
واضح رہے کہ کینیڈین شہری سارہ انعام ملزم شاہنواز امیر سے شادی سے قبل ابوظہبی میں اعلیٰ عہدے پر ملازمت کر رہی تھیں۔ سارہ انعام کو اسلام آباد کے علاقے چک شہزاد میں واقع ذاتی فارم ہاؤس میں قتل کیا گیا۔ موت کی وجہ سر پر لگنے والی متعدد چوٹیں تھیں۔
مجرم شاہنواز امیرنے اپنی اہلیہ اور مقتولہ سارہ انعام کو ایک شوپیس کے ذریعے تشدد کا نشانہ بنا کر زخمی کیا اور جب مقتولہ نے شور مچایا تو ان کو ایک ڈمبل اٹھا کر متعدد مرتبہ سر پر مارا جس کے باعث سارہ انعام جاں بحق ہوگئی تھیں۔
واقعے کے منظرِ عام پر آنے کے بعد قاتل شاہنواز امیر کے والد اور والدہ کو بھی شاملِ تفتیش کیا گیا۔ شاہنواز نے مقتولہ کی میت کو باتھ روم کے ٹب میں چھپانے کی کوشش کی۔ اسلام آباد پولیس نے مجرم کو گزشتہ برس 23ستمبر کے روز سارہ انعام کے قتل پر گرفتار کیا۔
ملزمان پر 5 دسمبر2022ء کو فردِ جرم عائد کی گئی تھی۔ رواں برس 9دسمبر کو عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا تھا۔ عدالت نے شریک ملزمہ ثمینہ شاہ کو عدم ثبوت کی بنیاد پر بری کردیا۔ عدالت نے ملزم پر 10لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








