غزہ پر حملہ آور اسرائیل کیلئے خوف کی علامت حوثی کمانڈر عبدالمالک یمن کے حوثی جنگجوؤں کے سرکردہ رہنما ہیں جن کے بحیرۂ احمر میں حملوں سے امریکا اور برطانیہ بھڑک اٹھے۔
حوثیوں کے اعلانِ جنگ کے باعث متعدد شپنگ لائنز نے بحیرۂ احمر میں کارروائیاں معطل کردیں یا پھر افریقہ کے گرد ہوتا ہوا طویل راستہ اختیار کرلیا جبکہ حوثی سعودی عرب کی جانب سے سخت مشکلات جھیلنے کے بعد یمن کے بیشتر حصوں پر حکمران ہیں۔
ایران کے حمایت یافتہ عسکریت پسند حوثی عالمی جہاز رانی کی تجارت پر دباؤ برقرار رکھنے کا فیصلہ کرچکے ہیں، جس سے عالمی معیشت کو نقصان ہوسکتا ہے۔ جب تک اسرائیل غزہ پر بمباری روک نہ دے، حوثیوں نے اپنے حملے جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔
اپنے حالیہ بیان میں حوثی کمانڈر عبدالمالک نے کہا کہ امتِ مسلمہ کو دشمنوں کی جانب سے چیلنجز درپیش ہیں جن میں صیہونی لابی پیش پیش ہے۔ اسلام دشمنی کیلئے مسجدِ اقصیٰ کو نشانہ بنایا گیا۔ صیہونی فلسطینیوں سمیت پوری امت کے دشمن ہیں۔
حوثی کمانڈر نے کہا کہ فلسطینیوں کے ساتھ جرائم اسلام اور مسلمانوں سے دشمنی کی علامت ہیں۔ تاریخ میں جس نے بھی یہودیوں سے وفاداری کی، ضرورت ختم ہونے پر امریکا اور اسرائیل نے ان سے منہ موڑ لیا اور گزشتہ 75سال میں بد ترین جرائم کیے۔
عبدالمالک الحوثی کا کہنا ہے کہ دنیا کے مختلف خطوں میں صیہونیوں کے خلاف مظاہرے ہوئے۔ مغربی ممالک غزہ کے عوام پر مظالم ڈھانے کیلئے صیہونی حکومت کی مدد کے شرمناک اقدام میں ملوث ہیں۔ عربوں کا حافظہ کمزور ہے، جو یہ واقعات بھول بیٹھتے ہیں۔
الحوثی کا کہنا ہے کہ ہم طوفان الاقصیٰ کے بعد 3 ماہ سے کافی ظلم و ستم دیکھنے پر مجبور ہیں، اس کے باوجود مغرب کی 7اکتوبر کی تکرار کا مقصد حماس کو جنگ کا ذمہ دار قرار دینا ہے۔ حالانکہ فلسطین پر 75سال سے ظلم کے پہاڑ توڑے جارہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں فلسطینی عوام کے حوالے سے اپنی ذمہ داریوں کو قبول کرنا ہوگا۔ یمنی عوام نے بہت مظاہرے کیے جس کی مثال نہیں ملتی۔ عرب عوام کی بڑی کمزوری جلد حوصلہ ہار جانا ہے۔ ہمیشہ کام شروع کرنے کے بعد اسے جلد ہی چھوڑ دیا جاتا ہے۔
سربراہ انصار اللہ نے کہا کہ امریکا بھی فلسطینیوں پر ہونے والے صیہونی مظالم میں برابر کا شریک ہے، جبکہ جنگ بندی کی مسلسل مخالفت اور اسلحے کی فراہمی امریکا کے جرائم ہیں۔ امریکا، برطانیہ اور اسرائیل عالمی صیہونیت کا حصہ بن چکے ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








