تازہ ترین

تازہ ترین

امریکا کی اندرونی سیاست میں ان دنوں ایک ہلچل سی مچی ہوئی ہے اور ہر گزرتے دن کے ساتھ امریکا کا سیاسی درجہ حرارت بھی تبدیل ہو رہا ہے۔ اس وقت دنیا کے طاقتور ترین صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو مواخذے کی نہ رکنے والی کارروائی کا سامنا ہے ۔صدر ٹرمپ کے خلاف یہ کارروائی اپنے ایک سیاسی حریف کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کے لئے دوسرے ملک پر دباؤ ڈالنے کے الزام کے تحت کی جا رہی ہے۔

مواخذے کی کارروائی کی سماعت کرنیوالی جوڈیشری کمیٹی نے ڈونلڈٹرمپ کے مواخذے کی منظوری دے دی ہے جس کے بعد بدھ کو مواخذے کی قرار داد ایوان نمائندگان میں پیش کی جائے گی اور امریکی صدرکیخلاف باضابطہ کارروائی کا آغاز ہوجائے گا۔

ملک میں صدور کواپنے اختیارات کے ناجائز استعمال سے روکنے کیلئے مواخذے کو آئین میں شامل کیا گیا جس کے تحت صدر مملکت کو ‘غداری، رشوت ستانی، یا دیگر اعلیٰ جرائم اور بدانتظامی کے الزام میں عہدے سے ہٹایا جاسکتا ہے۔

امریکی ایوان نمائندگان کی عدالتی کمیٹی کے سربراہ جیری نیڈلر کاکہنا ہے کہ کہ اگر ٹرمپ کے مواخذے کا معاملہ کسی عدالت کے سامنے پیش کیا جائے تووہ تین منٹ سے بھی کم وقت میں امریکی صدر کی مذمت میں فیصلہ سنا دے گی۔ ان کا کہنا ہے کہ یوکرین گیٹ اسکینڈل میں ٹرمپ کے خلاف ٹھوس ثبوت و شواہد موجود ہیں۔

امریکا کے پانچ سو وکلا اور قانون دانوں نے بھی صدر ٹرمپ کے رویّے اور اقدامات کو خیانت قراردیتے ہوئے ان کا مواخذہ کئے جانے کا مطالبہ کیا ہے۔ ٹرمپ اور یوکرین کے صدر کے ٹیلی فونی مکالمے کا رازش فاش ہوجانے کے بعد امریکی ایوان نمائندگان کی اسپیکر نینسی پیلوسی نے صدر کے خلاف تحریک مواخذہ کا حکم دیا تھا۔

واضح رہے کہ صدر ڈونلڈٹرمپ پر ایک سیکورٹی اہلکار نے الزام عائد کیا تھا کہ انہوں نے یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی پر ڈیمو کریٹک پارٹی کے رہنما جو بائیڈن کو قانون کے شکنجے میں لانے کیلئے دباؤ ڈالا تھا۔

اگر ایوان نمائندگان سے قرارداد منظور ہوجاتی ہے تو سابق صدربل کلنٹن اور اینڈریو جانسن کے بعد ڈونلڈٹرمپ امریکا کے تیسرے صدر ہوں گے جن کا مواخذہ کیا جائیگا۔

ایوان نمائندگان سے مواخذے کے متن کی منظوری کے بعد سینیٹ میں ایک مقدمہ چلے گا۔ایوان کے ممبران پراسیکیوٹرز کی حیثیت سے کام کریں گے اور سینیٹرز بطور جج اور امریکا کے چیف جسٹس صدارت کریں گے تاہم صدرٹرمپ کو اجازت ہوگی کہ وہ اپنا وکلا ساتھ لائیں جو گواہ اور دستاویزات کی درخواست کرسکتے ہیں ۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس بات کا اعتراف کرچکے ہیں کہ انہوں نے یوکرائن کے صدر سے جو بائیڈن کے بارے میں بات کی لیکن ٹرمپ نے ’کچھ لو اور کچھ دو‘ کے سمجھوتے کی تردید کی ہے۔

انہوں نے یوکرائن کے لیے امداد کی فراہمی میں تاخیر کا بھی اعتراف کیا ہے لیکن کہا ہے کہ یورپی ممالک اس امداد میں اپنا حصہ ڈالنے کے لیے تیار نہیں ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ یورپی ملک اس حوالے سے مزید اقدامات اٹھائیں۔

اگر سینیٹ ڈونلڈٹرمپ کے خلاف سزا کا اعلان کرتا ہے تو ایسی صورت میں نائب صدر مائیک پینس بقیہ مدت کے لیے امریکا کے صدر بنیں گے جو 20 جنوری 2021 کو ختم ہوگی۔

Related Posts