کراچی کے قریب سمندر میں 5مارچ کو ڈوبنے والے مزید 3ماہی گیروں کی لاشیں برآمد کی گئی ہیں جس سے حادثے میں جاں بحق افراد 13ہوگئے۔
ایکسپریس نیوز کی رپورٹ کے مطابق فشر مینز ذرائع کا کہنا ہے کہ مزید 3 ماہی گیروں کی لاشیں برآمد ہوئیں، 1 لاش کو کیٹی بندر منتقل کیے جانے کے بعد مزید 2 لاشیں آج شام تک منتقل ہوجائیں گی۔ رات گئے تک ایدھی ایمبولینسز ماہی گیروں کی میتیں کراچی پہنچائیں گی۔
آج سے 7روز قبل جب 5مارچ کوحجامڑو کریک کے نزدیک خراب موسم کے باعث ماہی گیروں کی کشتی الاسد علی (233377-بی) مبینہ تکنیکی وجوہات کے باعث ڈوبی جس کے نتیجے میں 35 ماہی گیر کھلے سمندر میں جاگرے، حکام کو 21 ماہی گیروں کو ریسکیو کرنے میں کامیابی ملی تھی۔
حکام کا کہنا ہے کہ سمندر میں لاپتہ ہونے والے 14 میں سے 13 کی لاشیں برآمد ہوچکی ہیں، ایک لاپتہ ماہی گیر کی تلاش تاحال جاری ہے۔ گزشتہ روز بھی 6 ماہی گیروں کی لاشیں نکالی گئیں جبکہ لاپتہ ہونے والے ماہی گیر کی زندگی کی امیدیں دم توڑ چکی ہیں۔
یاد رہے کہ اس سے قبل سمندر میں شکار کیلئے جانے والے ماہی گیروں کی کشتی کھلے سمندر میں ڈوب گئی، حادثے میں ابتدائی طور پر 50ماہی گیر لا پتہ ہوگئے تھے جن کی تلاش شروع کردی گئی۔
ترجمان کوسٹل میڈیا سینٹر کمال شاہ نے حادثے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ کشتی حجاموکری کےقریب کھلے سمندرمیں ڈوب گئی، کشتی میں 50 ماہی گیرسوارتھے، ماہی گیروں کاتعلق ابراہیم حیدری سےہے جو مچھلی کے شکار پر گئے تھے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








