امریکا اور سعودی عرب کے درمیان ایک واقعے کے نتیجے میں سفارتی تنازع کھڑا ہوگیا ہے۔
سعودی عرب میں ایک واقعے کی وجہ سے مذہبی آزادی سے متعلق امریکی وفد نے اپنا سعودی عرب کا دورہ مختصر کرکے واپس امریکا روانہ ہوگیا۔
واقعہ وفد کے ایک یہودی رکن کے ساتھ پیش آیا جب انہیں ایک مقام کے دورے کے موقع پر مقامی سعودی حکام کی جانب سے اپنی مذہبی ٹوپی سر سے اتارنے کو کہا گیا، جس پر یہودی رکن نے ٹوپی اتارنے سے انکار کردیا اور اسے یہود دشمنی سے تعبیر کرنا شروع کردیا۔
موقر معاصر آج نیوز کی رپورٹ کے مطابق امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی (یو ایس سی آئی آر ایف) کا کہنا ہے کہ ان کا وفد ریاض کے قریب ایک تاریخی قصبے اور یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے کے مقام دیریہ کا دورہ کر رہا تھا جب کمیشن کے سربراہ آرتھوڈوکس ربی ابراہم کوپر نے اپنا kippah اتارنے سے متعلق ان کی بات ماننے سے انکار کردیا۔
کوپر نے اس حوالے سے اپنے ایک بیان میں کہا کہ کسی کو بھی ثقافتی ورثے تک رسائی سے انکار نہیں کیا جانا چاہئے، خاص طور پر جس کا مقصد اتحاد اور ترقی کو اجاگر کرنا ہے۔
یو ایس سی آئی آر ایف کا کہنا ہے کہ کوپر اور اس کے نائب صدر ریورنڈ فریڈرک ڈیوی کو گزشتہ منگل کو اپنے سرکاری دورے کے حصے کے طور پر سائٹ کا دورہ کرنے کی دعوت دی گئی تھی جب دورے میں کئی بار تاخیر کے بعد حکام نے درخواست کی تھی کہ کوپر اس مقام پر رہتے ہوئے اور جب بھی وہ عوامی طور پر موجود ہوں تو اپنا کپہ (یہودیوں کی مذہبی ٹوپی) ہٹا دیں، حالانکہ اس سائٹ کے دورے کی منظوری سعودی وزارت خارجہ نے دی تھی۔
ربی ابراہم کوپر نے ان کے تحفظ کے متعلق سعودی حکام کی ہدایت کو نظر انداز کرتے ہوئے اس کو یہود دشمنی سے جوڑا اور کہاکہ سعودی عرب اپنے 2030 وژن کے تحت حوصلہ افزا تبدیلیوں کے درمیان میں ہے، تاہم خاص طور پر اس وقت جب یہود دشمنی میں اضافہ ہو رہا ہے، میرے کپہ کو ہٹانے کے لیے کہا گیا جس کی وجہ سے ہمارے لیے یو ایس سی آئی آر ایف سے اپنا دورہ جاری رکھنا ناممکن ہو گیا۔‘
یہودیوں میں ٹوپی کی اہمیت
امریکی وفد کے یہودی رکن کا کہنا ہے کہ ان کی ٹوپی کو یہودی مذہب سے منسوب ہونے کی بنا پر اتارنے کا کہا گیا۔ آئیے ہم آپ کو بتاتے ہیں یہودیوں کی مخصوص ٹوپی کا کیا پس منظر ہے؟
یہودیوں میں کئی صدیوں سے یہ رواج رہا ہے کہ مرد مخصوص اوقات میں اپنے سروں کو خدا کی تعظیم کے جذبے سے ڈھانپ کر رکھتے ہیں، جبکہ ایسے یہودی بھی ہیں جو اسی جذبے سے ہر وقت مخصوص ٹوپی سے اپنا سر ڈھانپ کر رکھتے ہیں۔
قدامت پسند یہودی ہر وقت ایک مخصوص ٹوپی پہنے رکھتے ہیں، یہ ٹوپی سر کی کھوپڑی پر ہی دھری جاتی ہے، جسے کِپاہ یا یرملکے کہتے ہیں۔
کسی کے سر کو ڈھانپنے کے لیے مرکزی اور سب سے زیادہ دیکھی جانے والی جگہیں عبادت گاہ یا مقبرے ہیں، عموما مذہبی یہودی عبادت، مذہبی تعلیم اور کھانا کھانے کے دوران کپاہ سر پر رکھتے ہیں۔ ایسے لوگ بھی ہیں جو عبادت گاہ کی عمارت میں داخل ہوتے وقت سر ڈھانپ لیتے ہیں۔
کپاہ پہننا ایک روایت ہے جس کی پریکٹس کی طویل نسلوں سے تقدیس کی گئی ہے، آج بہت سے یہودی یہ محسوس کرتے ہیں کہ روایت نے نیم قانونی حیثیت حاصل کر لی ہے۔
مذہبی یہود کا خیال ہے کہ ایسا کرنے سے خدا کے لیے دل میں تعظیم پیدا ہوتی ہے اور یہودی لوگوں کے ساتھ تعلق کے احساس کو تقویت ملتی ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








