روس کے صدارتی انتخابات کیلئے پولنگ شروع، کس کا پلڑا بھاری؟

تازہ ترین

تازہ ترین

Polls open in Russian presidential election
VOI

ماسکو: روسی ووٹرز نے 2024 کے صدارتی انتخابات کے لیے مشرق بعید کے علاقے بشمول کامچٹکا، چوکوٹکا اور دیگر علاقوں میں مقامی وقت کے مطابق جمعہ کی صبح 8 بجے سے ووٹ ڈالنا شروع کر دئیے ہیں۔

صدر کے عہدے کے لیے چار امیدوار مدمقابل ہوں گے، جن میں لبرل ڈیموکریٹک پارٹی کے لیونیڈ سلٹسکی، روسی کمیونسٹ پارٹی کے نکولائی کھریٹونوف، نیو پیپلز پارٹی کے ولادیسلاو داوانکوف اور موجودہ صدر اور آزاد امیدوار ولادیمیر پیوٹن شامل ہیں۔

روس نے 15 سے 17 مارچ کے درمیان مقامی وقت کے مطابق صبح 8 بجے سے شام 8 بجے تک 90 ہزار سے زائد پولنگ اسٹیشن قائم کیے ہیں۔

متعدد ٹائم زونز میں روس کے وسیع پھیلاؤ کو دیکھتے ہوئے مشرق بعید کے علاقے میں واقع کامچٹکا اور چکوٹکاووٹنگ شروع کرنے والے پہلے علاقے ہیں۔ روس کے مغربی سرے پر واقع کیلینن گراڈ کے پولنگ اسٹیشن ووٹنگ شروع کرنے کے لیے آخری علاقے ہوں گے۔

روس کے مرکزی الیکشن کمیشن کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق تقریباً 110 ملین روسی شہری ووٹ ڈالنے کے اہل ہیں جن میں سے 18 لاکھ سے زائد بیرون ملک مقیم ہیں۔

روسی صدارتی انتخابی ضوابط کے تحت جو امیدوار 50 فیصد سے زیادہ ووٹ حاصل کرتا ہے وہ فتح حاصل کرے گا۔ ایسے معاملات میں جہاں دو سے زیادہ امیدوار ہوں اور کوئی بھی 50 فیصد ووٹ حاصل نہ کر سکے، مرکزی الیکشن کمیشن سرفہرست دو امیدواروں کے لیے ووٹنگ کے دوسرے دور کا اعلان کرے گا۔ دوسرے مرحلے میں سب سے زیادہ ووٹ لینے والا امیدوار صدر منتخب ہو گا۔

روس کا مرکزی الیکشن کمیشن 28 مارچ کے بعد انتخابی نتائج کی تصدیق کرے گا اور بعد ازاں تصدیق کے تین دن کے اندر نتائج کا اعلان کرے گا۔روس سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق روسی عوام کے جوش و خروش سے یوں محسوس ہوتا ہے کہ شائد عوام موجودہ ولادیمیر پیوٹن کو ہی دوبارہ صدر منتخب کرینگے۔

Related Posts