فری سپیچ اور امریکی طلبہ

تازہ ترین

تازہ ترین

امریکہ کے پاس سب سے طاقتور چیز اس کا آئین ہے تو اس آئین کا سب سے طاقتور عنصر پہلی ترمیم۔ یہ ترمیم فری سپیچ یعنی اظہار کی آزادی کو بظاہر یقینی بناتی ہے۔

ان کے ہاں فری سپیچ کا معاملہ اس درجے کی حساسیت رکھتا تھا کہ جب یہ سوال پیدا ہوا کہ فری سپیچ میں جھوٹ کی بھی آزادی ہوگی؟ تو معاملہ امریکی سپریم کورٹ جا پہنچا اور سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا کہ ہاں جھوٹ کی بھی آزادی ہے۔ یہ اگلے کا کام ہے کہ وہ اپنی فریچ سے اس جھوٹ کا پردہ چاک کرے۔ جھوٹ صرف اس صورت میں جرم ہوگا جب یہ بیان حلفی کی صورت کہا جائے۔ یوں وہاں قانونی طور پر جھوٹ کو بھی تحفظ حاصل ہے۔ لیکن اخلاقی طور پر اسے معیوب ہی سمجھا جاتا ہے۔

سمجھنے والا نکتہ یہ ہے کہ امریکی سسٹم کے لئے اصل مسئلہ جھوٹ نہیں سچ کی آزادی ہے۔ اور اس کا علاج ان کے پاس ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ کسی بھی سسٹم کے لئے سچ وہ خطرناک ہوتا ہے جو قومی سطح پر پھیل کر رائے عامہ کو متاثر کرنے لگے۔ اور سچ قومی سطح پر بالعموم میڈیا کے ذریعے ہی پھیلتا ہے۔ سو قومی سطح پر پھیلنے کے اس امکان کا مؤثر حل تو ان کے پاس یہ ہے کہ پورا مین سٹریم امریکی میڈیا ”کارپوریٹ میڈیا“ ہے۔ اور کارپوریشنز وال سٹریٹ کی ہیں جہاں بیٹھے میڈیا مالکان صرف میڈیا ہی نہیں پورے امریکی سسٹم کے اصل مالکان ہیں۔ چنانچہ ایسا سچ ان کے میڈیا پر نہیں آسکتا جو سسٹم اور اس کے مالکان کے لئے مسئلہ پیدا کرتا ہو۔

اسے ایک مثال سے سمجھئے۔ امریکہ میں اس وقت نوم چومسکی سے بڑے قد کا دانشور کوئی نہیں۔ آپ کبھی نہیں دیکھیں گے کہ امریکی مین سٹریم میڈیا نوم چومسکی کی تقریر یا لیکچر کا کوئی حصہ نشر کر رہا ہو یا ان کا انٹرویو فرما رہا ہو۔ کیونکہ نوم چومسکی کا مؤقف ہے کہ امریکہ دنیا کی سب سے سفاک اور ظالم ریاست ہے۔ نوم چومسکی کے نزدیک دوسری جنگ عظیم کے دوران اور اس کے بعد سے ایک بھی امریکی صدر ایسا نہیں آیا جو ”جنگی مجرم” نہ ہو۔ وہ عراق اور افغانستان کی جنگوں کے شدید مخالف رہے ہیں۔ اور فلسطین کاز کے حامی ہیں۔اب نوم چومسکی ملاقاتیوں کے سامنے یا دیگر ممالک کے ٹی وی چینلز پر بیشک اپنا سچ بولتے رہیں۔ امریکی میڈیا پر ان کا سچ ممنوع ہے۔ اور ہماری یہ بات لکھ رکھئے کہ جس دن نوم چومسکی دنیا سے رخصت ہوں گے، اس روز مین سٹریم امریکی میڈیا ہی سب سے بڑی ماتمی شام یوں مناتا نظر آئے گا جیسے ان سے زیادہ صدمہ کسی کو پہنچا ہی نہ ہو۔ لبرل منافقت اسی چیز کا نام ہے، اور یہ منافقت آپ بچشم سر دیکھیں گے۔

ہم نے کہا کہ اس جدید دنیا میں سچ بالعموم میڈیا کے توسط سے پھیلتا ہے۔ مگر سچ پھیلنے کی ایک صورت اور بھی ہے۔ وہ یہ کہ ایک آدمی تحریک کی صورت اپنے سچ سے رائے عامہ پر اثر انداز ہونے لگے۔ اور رائے عامہ پر یہ اثر اس حد تک پڑنے لگے کہ ”سسٹم” کے لئے ہی خطرہ بنتا نظر آئے۔ ایسے سچ کا امریکی سسٹم کے پاس کیا حل ہے؟ اس کا اندازہ آپ مارٹن لوتھر کنگ اور مالکم ایکس کے انجام سے لگا لیجئے۔یہ دونوں اپنے سچ کی وجہ سے ”ڈیپ سٹیٹ” کے ہاتھوں اسی امریکہ میں قتل ہوئے جس کا آئین اپنی پہلی ترمیم کی صورت جھوٹ بولنے کی بھی آزادی دیتا ہے۔

اگر آپ امریکی ہیں تو اپنی تقاریر، لیکچرز یا انٹرویوز میں جھوٹ آپ ٹکا کر بولئے۔ اگر آپ بڑے قد کے مالک ہیں تو زیادہ سے زیادہ یہ ہوگا کہ مین سٹریم میڈیا ”فیکٹ چیک” کی مدد سے دو منٹ کی ایک خبر چلا دے گا کہ حقیقت وہ نہیں جو آپ نے کہی بلکہ یہ یہ ہے، مگر ایکشن کوئی نہیں ہوگا۔ اس کی بھی مثال دیکھ لیجئے۔ موجودہ امریکی صدر جو بائیڈن کا ایک بڑا تعارف ان کا امریکی تاریخ کا سب سے کذاب صدر ہونا بھی ہے۔ پچھلے چار سالوں کے دوران امریکی میڈیا کا ایک دلچسپ مشغلہ جو بائیڈن کو ”فیکٹ چیک” کا آئینہ دکھانا بھی رہا ہے۔ بائیڈن جھوٹ کس درجے کے بولتے ہیں، اس کی دو مثالیں حاضر ہیں۔ جو بائیڈن ایک سے زائد بار یہ دعوی فرما چکے ہیں کہ وہ اپنے خاندان کے پہلے شخص ہیں جس نے کالج لیول کی تعلیم حاصل کی۔ لیکن حال ہی میں ایک تقریر کے دوران فرمایا:

“جب میرے ابا کالج ٹیم میں فٹ بال کھیلتے تھے تو میں وہ میچز دیکھنے بہت شوق سے جاتا تھا۔”

یوں امریکی میڈیا نے ان کا تمسخر اڑاتے ہوئے سوال اٹھایا:

“بڑے میاں ! پہلے جھوٹ بولا تھا یا اب بول رہے ہو؟”

بائیڈن کا سب سے شرمناک جھوٹ انہوں نے ابھی پچھلے ماہ اس وقت بولا جب امریکی ریاست بالٹی مور میں فرانسس سکاٹ کی برج گر گیا۔ ہمیں تو ہر سائز کے وجاہت مسعودوں نے یہ بتا رکھا ہے کہ مہذب اقوام کے پل نہیں گرتے، مگر پتہ نہیں یہ کیسے گر گیا۔ اس پل کے گرنے پر اظہار افسوس کرتے ہوئے امریکہ کے لبرل صدر جو بائیڈن نے فرمایا:

“اس پل کے گرنے کا مجھے ذاتی طور پر بھی بہت صدمہ ہوا۔ کیونکہ اس سے میری یادیں وابستہ ہیں۔ میں مختلف مواقع پر ٹرین سے سفر کے دوران اس پل سے کئی بار گزرا ہوں۔”

امریکہ میں ایسے درجنوں پل ہیں جن کے ڈبل ڈیک ہوتے ہیں۔ بالائی ڈیک گاڑیوں کے لئے ہوتا ہے اور نچلا ڈیک ٹرینوں کے لئے۔ لیکن فرانسس سکاٹ کی برج صرف گاڑیوں کے لئے تھا۔ اس پل پر ٹرینوں والا ڈیک تھا ہی نہیں۔ یاد رہے یہ وہی بائیڈن ہیں جنہوں افغان بھگوڑے اشرف غنی کو فرار سے عین چند دن قبل فون کرکے کہا تھا:

“تم ٹی وی پر کہہ دو کہ ملک کا دفاع مضبوط ہاتھوں میں ہے۔ حکومت کو کوئی خطرہ نہیں۔ بیشک یہ جھوٹ ہی کیوں نہ ہو مگر تم کہہ دو۔”

چلو شکر ہے اشرف غنی میں اتنی شرم تو تھی کہ جھوٹ بولنے پر فرار کو ترجیح دی۔

ہم متواتر یہ لکھتے آرہے ہیں کہ امریکہ کو بھی ہر عروج کی طرح اپنے حصے کے زوال کا سامنا ہے۔ اور زوال کا یہ اصول ہے کہ یہ جب کسی سلطنت پر آتا ہے تو ہمہ گیر ہوتا ہے۔ سماج کا کوئی شعبہ ایسا نہیں ہوتا جو اس سے محفوظ ہو۔ سو فری سپیچ کی ضمانت دینے والی پہلی ترمیم کو بھی زوال کا سامنا ہے۔ اور یوں ہے کہ امریکہ میں طلبہ نے فلسطین کی حمایت میں ملک گیر مظاہرے شروع کر رکھے ہیں۔ ان مظاہروں کی نوعیت یہ رہی کہ مختلف ریاستوں کی مشہورِ زمانہ یونیورسٹیز میں طلبہ نے فلسطین کے حق میں دھرنے دیدیئے۔ ان طلبہ کے سچ کا پہلا علاج تو وہی کیا گیا جس کا ذکر پیچھے گزرا کہ ان کا سچ مین سٹریم میڈیا پر ممنوع رہا۔ مگر بات بنی نہیں۔

چنانچہ امریکی میڈیا کو حکم دیا گیا کہ پہلی ترمیم کا فائدہ اٹھا کر جواباً جھوٹ بولو اور صبح و شام بولو۔ یہ جوابی جھوٹ اس طرح بولے گئے کہ سب سے پہلے تحریک کا عنوان بدلا گیا۔ تحریک کا عنوان ہے “فلسطین حامی تحریک” اسے بدل کر “یہود مخالف تحریک” کردیا گیا۔ دوسرا جھوٹ یہ بولا گیا کہ احتجاجی طلبہ یہودی طلبہ کو تشدد اور ہراسمنٹ کا نشانہ بنا رہے ہیں۔

تیسرا جھوٹ یہ کہ حماس کے جھنڈے لہرا رہے ہیں۔ چوتھا جھوٹ یہ کہ ان کے پیچھے حماس کا ہاتھ ہے۔ پانچواں جھوٹ یہ کہ ان مظاہروں میں دہشت گرد بھی شریک ہیں۔ چھٹا جھوٹ یہ کہ ان کے پیچھے ولادیمیر پیوٹن کا ہاتھ ہے۔ اور چل سو چل ۔ مین سٹریم میڈیا پر جھوٹ کی ایک منظم تحریک چلا کر بھی جب نتیجہ یہ نکلا کہ تحریک مزید مضبوط ہوتی چلی گئی تو پہلے ان مظاہرین پر پولیس چڑھا دی گئی۔ اور جب اس سے بھی بات نہ بنی تو یونیورسٹی آف کیلی فورنیا میں ان طلبہ پر صہیونیوں سے باقاعدہ حملہ کرا دیا گیا۔ تین سے چار گھنٹے تک جاری اس حملے میں سلاخیں، لوہے کے پائپ اور ہتھوڑے استعمال ہوئے۔ اور اس پورے عمل کے دوران پولیس بالکل لاتعلق کھڑی رہی۔ حتٰی کہ کسی ایک حملہ آور کو بھی تاحال گرفتار نہیں کیا گیا۔ یہ بالکل بھٹو سٹائل والا حملہ تھا۔ اس حملے کی شدت کا اندازہ اس سے لگا لیجئے کہ پچیس طلبہ ہسپتالوں میں داخل کئے گئے، جن میں سے کئی کی حالت نازک بتائی جاتی ہے۔ مگر بات اب بھی نہ بنی۔

چنانچہ امریکی سسٹم نے فیصلہ کیا کہ اس پہلی آئینی ترمیم کی ہی آخری رسومات ادا کردی جائیں جس نے فری سپیچ کا یہ ”فتنہ” پیدا کر رکھا ہے۔ اس مقصد کے لئے ایوانِ نمائندگان نے حکمت عملی یہ اختیار کی کہ پہلی آئینی ترمیم کو تو نہیں چھیڑا بلکہ ایسا قانون منظور کرلیا جو پہلی آئینی ترمیم سے متصادم ہے۔ اس قانون کے مخالف ماہرینِ قانون کا کہنا ہے کہ اگر یہ سینٹ سے منظوری کا مرحلہ بھی طے کرگیا اور باقاعدہ نافذ ہوگیا تو اسرائیل پر کسی بھی طرح کی تنقید قانوناً جرم ہوگی۔ جیل جانے کے لئے محض اتنا کہہ دینا بھی کافی ہوگا کہ میرے خیال میں اسرائیل ٹھیک نہیں کر رہا۔ اسرائیل کے خلاف کہا جانے والا ہر جملہ “اینٹی سیمیٹک” تصور ہوگا۔

اب اگر آپ “فری سپیچ” کے الفاظ پر غور کیجئے تو ان کی معنویت ہی یہ ہے کہ جو جی کرے، بولئے۔ آپ کو سب کچھ کہنے کی آزادی ہے۔ حتٰی کہ ہیٹ سپیچ کی بھی آزادی ہے۔ لیکن اس نئے قانون کے بعد فری سپیچ میں سے “فری” گویا ہوا میں تحلیل ہوجائے گا کہ نہیں؟ پیچھے بس سپیچ رہ جائے گی جو مشروط ہوگی۔ اس صورت میں کیا پہلی آئینی ترمیم باقی رہی؟ اور یہ سب کسی قدامت پسند حکومت نے نہیں بلکہ لبرل حکومت نے کیا ہے۔ اگر ہمارے وجاہت مسعود حسب عادت کہیں فری سپیچ والی قوالی گاتے ملیں تو پلیز انہیں اطلاع ضرور کردیجئے گا کہ فری سپیچ کو مہذب اقوام بدست خود دفن کر رہی ہیں۔ بقدم خود نہ سہی آن لائن ہی ان آخری رسومات میں شرکت کر لیجئے۔ خدا بخشے بہت سی خوبیاں تھیں مرنے والے میں!

Related Posts