لندن: ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا ہے کہ بین الاقوامی قانون میں سویلین کا فوجی ٹرائل نہیں ہے۔ انسانی حقوق کا عالمی ڈکلریشن اور شہری و سیاسی حقوق کا عالمی معاہدہ اس کے خلاف ہے۔
تفصیلات کے مطابق میڈیا کو دئیے گئے ایک خصوصی انٹرویو کے دوران سیکریٹری جنرل ایمنسٹی انٹرنیشنل اگنیس کالمارڈ نے کہا کہ انسانی حقوق کا عالمی ڈکلریشن اور سول و سیاسی حقوق کا بین الاقوامی معاہدہ واضح طور پر کہتا ہے کہ عام شہریوں کا مقدمہ فوجی عدالتوں میں نہیں چلنا چاہئے۔
انٹرویو کے دوران سیکریٹری جنرل ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا کہ اگرچہ عام شہریوں کیلئے فوجی ٹرائل عالمی قوانین کے مطابق نہیں تاہم افسوسناک طور پر پاکستان کی سیاسی تاریخ میں عام شہریوں کے فوجی ٹرائل ہوتے رہے ہیں اور اب یہ کوئی نئی بات نہیں رہی ہے۔
ڈاکٹر اگنیس کالمارڈ نے مطالبہ کیا کہ پاکستان بین الاقوامی ذمہ داریوں کو برقرار رکھتے ہوئے آئین میں دی گئی ضمانتوں کو یقینی بنائے اور شہریوں کے منصفانہ ٹرائل کے حق کا تحفظ کرے جبکہ فوجی عدالتوں سے آئینی حیثیت کو خطرہ ہے۔
خیال رہے کہ دسمبر 2023 میں سپریم کورٹ نے فوجی عدالتوں میں سویلینز کا ٹرائل کالعدم قرار دینے کے خلاف انٹرا کورٹ اپیلوں پر مشروط فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا تھا کہ فوجی عدالتوں میں سویلینز کا ٹرائل جاری رہے گا تاہم اپیلوں کے فیصلے تک ٹرائل پر حتمی فیصلہ نہیں دیاجاسکتا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








