چیف آف اسٹاف نے ایرانی صدر کا ہیلی کاپٹر اچانک غائب ہونے کا اعتراف کر لیا

تازہ ترین

تازہ ترین

ایرانی صدر
(فوٹو: آن لائن)

تہران: آنجہانی صدر ابراہیم رئیسی کے چیف آف اسٹاف غلام حسین اسماعیلی نے حادثے سے قبل ایرانی صدر کا ہیلی کاپٹر اچانک غائب ہونے کا اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ بادلوں کے اوپر پرواز کرنے کے 30 سیکنڈ کے بعد ہیلی کاپٹر غائب ہوگیا تھا۔

انڈپینڈنٹ اردو کی رپورٹ کے مطابق ایرانی میڈیا کو گزشتہ روز دئیے گئے انٹرویو کے دوران چیف آف اسٹاف نے ہیلی کاپٹر حادثے کے متعلق بتاتے ہوئے کہا کہ حادثے کے نتیجے میں صدر ابراہیم رئیسی، وزیر خارجہ، مشرقی آذربائیجان کے گورنر اور آیت اللہ محمد علی سمیت دیگر افراد جاں بحق ہوگئے۔

انٹرویو کے دوران چیف آف اسٹاف غلام حسین اسماعیلی نے کہا کہ ایران کے علاقے ورزقان میں جہاں صدر ابراہیم رئیسی کا ہیلی کاپٹر حادثے کا شکار ہوا، پرواز کے دوران ابتدائی طور پر بالکل ٹھیک تھا۔ ایرانی صدر سرحدی علاقے میں واقع ڈیم کی افتتاحی تقریب سے واپس آتے ہوئے حادثے کا شکار ہوئے تھے۔

واپسی کے سفر میں 3 ہیلی کاپٹرز ایک ساتھ پرواز کر رہے تھے۔ چیف آف اسٹاف کا کہنا ہے کہ 19 مئی کو مقامی وقت کے مطابق ہم نے دوپہر 1 بجے اڑان بھری اور علاقے کا موسم معمول کے مطابق رہا۔ پرواز کے 45 منٹ بعد صدر کے ہیلی کاپٹر کے پائلٹ نے ایک حکم دیا۔

چیف آف اسٹاف نے کہا کہ صدر ابراہیم رئیسی کے ہیلی کاپٹر کے پائلٹ تینوں ہیلی کاپٹرز کے قافلے کے انچارج تھے، انہوں نے قریبی بادلوں سے بچنے کیلئے دیگر ہیلی کاپٹروں کی بلندی میں اضافے کا حکم دیا۔ تاہم ابراہیم رئیسی کا ہیلی کاپٹر پرواز کے دوران منظر سے غائب ہوگیا۔

غلام اسماعیلی نے کہا کہ ہمارے پائلٹ نے بادلوں کے اوپر پرواز کرنے کے 30 سیکنڈ بعد دیکھا کہ درمیان میں موجود صدر ابراہیم رئیسی کو لے جانے والا ہیلی کاپٹر غائب ہوگیا ہے۔ صدر کے ہیلی کاپٹر کو تلاش کرنے کیلئے واپس جانے کا فیصلہ کیا گیا۔ ریڈیو ڈیوائسز کے ذریعے رابطے کی کوششیں ناکام رہیں۔

انہوں نے کہا کہ صدر کے پروٹیکشن یونٹ کے سربراہ اور وزیر خارجہ نے بار بار کی جانے والی کال کا جواب نہیں دیا۔ دیگر دو ہیلی کاپٹرز کے پائلٹس نے کیپٹن مصطفوی سے رابطہ کرلیا جو صدر کے ہیلی کاپٹر کے انچارج تھے لیکن کال اٹھانے والے تبریز میں نمازَ جمعہ کے امام محمد علی الہاشم تھے۔

محمد علی الہاشم کی حالت بھی ٹھیک نہیں تھی تاہم انہوں نے بتایا کہ ہیلی کاپٹر ایک وادی میں گر کر تباہ ہوچکا ہے۔ دوسری بار چیف آف اسٹاف نے خود الہاشم سے رابطے کے بعد یہی جواب سنا کہ ہیلی کاپٹر تباہ ہوگیا ہے۔ لاشوں کی حالت سے پتہ چلا کہ ابراہیم رئیسی اور دیگر ساتھی موقعے پر جاں بحق ہوگئے تھے۔

Related Posts