عوام کیلئے خطرہ بننے والے ہزاروں کتوں کا قتل عام ہوگا

تازہ ترین

تازہ ترین

فوٹو لنکڈ ان

آوارہ کتوں کا مسئلہ دنیا بھر کے بڑے شہروں کا ایک بڑھتا ہوا سنگین مسئلہ ہے۔ پاکستان کے بڑے شہروں میں بھی آوارہ کتوں کی بہتات سے سنگین مسائل جنم لے رہے ہیں۔ آئے دن کتوں کا غول راہگیروں بالخصوص بچوں پر حملہ آور ہوتے ہیں۔

ترکیہ میں بھی آوارہ کتوں کا مسئلہ سنگین ہوچکا ہے، جس سے نمٹنے کیلئے طیب ایردوان کی حکومت نے ملک بھر میں کتا مار مہم شروع کرنے کی ٹھان لی ہے، جس کے نتیجے میں لاکھوں آوارہ کتوں سے عوام کو نجات مل سکتی ہے۔

استنبول میں موسم سرما کے دوران بنائی گئی ایک ویڈیو میں دیکھا گیا کہ ایک کتے نے ایک بزرگ خاتون کو بھنبھوڑ کر رکھ دیا اور زمین پر گرا دیا۔ بعد میں راہگیروں کی جانب سے بزرگ خاتون کو بچانے کی کوشش کی گئی۔ اس ویڈیو کلپ کو سوشل میڈیا صارفین نے بڑے پیمانے پر شیئر کیا۔

اس ویڈیو کلپ کے ساتھ انقرہ سے تعلق رکھنے والی ایک نوجوان لڑکی کو کتوں کے کاٹنے کی تصاویر سوشل نیٹ ورکس پر پھیل گئیں۔ ان تصاویر نے آوارہ کتوں کی جارحیت کے خدشات کو بڑھا دیا۔ کتوں کے حملوں کے خطرات سے شہری تنگ آنے لگے ہیں۔

اس کے بعد اب کتے سے پاک گلیوں کو تلاش کرنے والی انجمنیں حکومت کو ایک مسودہ قانون نافذ کرنے پر راضی کرنے میں کامیاب ہوئی ہیں۔ منظوری کے بعد یہ قانون پورے ترکیہ میں آوارہ کتوں کے پھیلاؤ کے رجحان کا مقابلہ کرے گا لیکن اس قانون پر بھی ترکیہ میں ایک الگ بحث شروع ہوگئی ہے۔

حکومت نے آوارہ کتوں کی تعداد کا تخمینہ تقریباً 40 لاکھ لگایا تھا جب کہ وزیر زراعت نے کہا تھا کہ 2022 میں یہ تعداد دس ملین تک پہنچ جائے گی ۔ خود صدر رجب طیب ایردوآن نے بھی بدھ کو اس حوالے سے اپنی تشویش کا اظہار کیا تھا۔

ایردوآن نے کہا کہ ترکیہ کو آوارہ کتوں کا مسئلہ ہے۔ یہ ایک ایسا مسئلہ جو کسی بھی ترقی یافتہ ملک میں موجود نہیں ہے۔ انہوں نے ریبیز کے کیسز میں اضافے کا حوالہ دیا جسے عالمی ادارہ صحت “ہائی رسک” قرار دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کتوں کی وجہ سے ٹریفک حادثات میں اضافہ ہوا ہے۔ گزشتہ پانچ برس میں کتوں کی وجہ سے 3544 حادثات پیش آئے اور ان میں 55 اموات ہوئیں اور پانچ ہزار سے زیادہ افراد زخمی ہوئے ہیں۔

حکمراں جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی کے تیار کردہ مسودہ قانون میں یہ شرط رکھی گئی ہے کہ کتوں کی بڑی تعداد کو پکڑ کر ان کی جلد کے نیچے برقی چپس لگا دی جائیں۔ اگر ان کتوں کو کسی شہری کی طرف سے اپنایا نہ گیا تو انہیں 30 دن کے اندر یوتھنیشیا کے ذریعے موت کے گھاٹ اتار دیا جائے۔

اس مسودہ قانون میں موت دینے والے نکتے پر ترکیہ میں بڑا تنازع کھڑا ہو رہا ہے۔ اس سے ذہن 1910 عیسوی کے ’’حیرسیز اڈا‘‘ کے سانحے کے طرف منتقل ہوجاتا ہے۔ اس وقت سلطنت عثمانیہ کے حکام نے استنبول میں 60 ہزار آوارہ کتوں کو پکڑا اور بحیرہ مرمرہ کے وسط میں واقع بنجر چٹانی جزیرے میں چھوڑ دیا تھا۔ اس جزیرے میں یہ کتے لڑ لڑ کر ایک دوسرے کو کھا گئے تھے۔

صدر ایردوآن نے کتوں کی بہتات کے باعث بیرونی دنیا میں ترکیہ کی شبیہہ پر بری عکاسی کے بارے میں اپنی تشویش کا ناظہار کیا اور مزید بنیاد پرست طریقوں کی طرف بڑھنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کتوں کی نس بندی اور انہیں گود لینے کی مہموں پر زور دیا تاکہ اگلے مرحلے میں جانے سے گریز کیا جا سکے۔

ترک ویٹرنری میڈیکل ایسوسی ایشن نے مشاورت کے فقدان کی مذمت کی اور قانون میں مرضی کی موت کے کسی بھی منصوبے کو شامل کرنے کی مخالفت کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا قتل کرنا کوئی حل نہیں ہے۔ مؤثر نس بندی کے ذریعے کتوں کی تعداد کو کم کرنا مختصر وقت میں ممکن ہے۔

صدر ایردوآن نے کسی کو بھی اپنی حکومت کی کی رحمدلی پر سوال اٹھانے سے گریز کرنے کا کہا اور واضح کیا کہ پچھلے طریقوں نے بھی حل فراہم نہیں کیا ہے۔ اس لیے ہمیں اس مسئلے کو جلد از جلد حل کرنا چاہیے تاکہ سڑکوں کو سب کے لیے خاص طور پر بچوں کے لیے محفوظ بنایا جا سکے۔

Related Posts