کراچی کے ہوٹل مالک نے گاہکوں کی حفاظت کیلئے انوکھا طریقہ ڈھونڈ نکالا

تازہ ترین

تازہ ترین

فوٹو اسکرین گریب

کراچی میں ڈکیتی، اسٹریٹ کرائمز، چھینا جھپٹی اور پیشہ ور گدا گروں کا غول دونوں ایسے مسائل ہیں جن سے کراچی کے کروڑوں شہری پناہ مانگتے ہیں، شہر کے ایک ہوٹل مالک نے ڈکیتوں اور گدا گروں سے نمٹنے کیلئے انوکھا اور مگر زبردست کار گر طریقہ ڈھونڈ نکالا ہے۔

کراچی شہر میں اسٹریٹ کرائمز بالخصوص موبائل اور بائیکس چھیننے کی وارداتوں کے دوران معمولی سی مزاحمت پر بھی نوجوانوں کو جان سے مار دینے کا معاملہ انتہائی سنگین نوعیت اختیار کر چکا ہے۔

سفاک ڈکیت ایک موبائل کیلئے کسی گھر کا چراغ بجھانے سے بھی نہیں چوکتے، آئے دن انتہائی قابل، ٹیلنٹڈ اور با صلاحیت نوجوان سفاک درندوں کا نشانہ بن رہے ہیں۔

اس صورتحال سے نمٹنے کیلئے اب ہوٹل مالکان، دکاندار اور ادارے اپنے بل بوتے پر مختلف طرح کے اقدامات کرتے ہیں، تاکہ سفاک ڈکیتوں سے اپنے اور اپنے صارفین کی جان و مال محفوظ رکھ سکیں۔

ڈکیتی مزاحمت پر قتل و خون کے ساتھ پیشہ ور گدا گروں کی فوج کی یلغار بھی کراچی شہر کا بڑھتا ہوا سنگین مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔

ایک رپورٹ کے مطابق کراچی میں پاکستان میں سب سے زیادہ پیشہ ور بھکاری پائے جاتے ہیں جو شہریوں کو جذباتی طور پر بلیک میل کرکے سالانہ لاکھوں روپے اڑا لیتے ہیں۔

کراچی کے علاقے ڈیفنس میں ایک شہری نے اپنے ہوٹل پر گاہکوں کو ڈکیتوں اور بھکاریوں سے محفوظ رکھنے کیلئے کتوں اور بلیوں کا سہارا لینے کا منفرد تجربہ اختیار کرلیا ہے، جو بہت کامیاب جا رہا ہے۔

حارث نامی شہری نے اپنے ہوٹل پر گاہکوں کی حفاظت کیلئے جو کتے بلیاں رکھی ہوئی ہیں، ان کی خوبی یہ ہے کہ وہ سب ویکسینیٹڈ ہیں، انہیں ویکسین لگی ہوئی ہوتی ہے۔

حارث کا کہنا ہے کہ خدا نخواستہ یہ کتے کسی کو کاٹ بھی لیں تو اس سے جان کوئی خطرہ نہیں اور متاثرہ فرد کو اینٹی ریبیز انجکشن لگانے کی بھی ضرورت نہیں ہوتی۔

Related Posts