آغا خان یونیورسٹی، عالمی ادارہ صحت اور یونیسیف نوجوانوں کو بیماریوں سے بچانے کیلئے کوشاں

تازہ ترین

تازہ ترین

آغا خان یونیورسٹی
(فوٹو: آن لائن)

کراچی: آغا خان یونیورسٹی، عالمی ادارۂ صحت اور اقوامِ متحدہ کا ذیلی ادارہ یونیسیف نوجوانوں کو غیر متعدی بیماریوں سے بچانے کیلئے کوشاں ہیں۔ یونیورسٹی نے  کمسن بچوں اور نوجوانوں کی صحت کے مسائل کا حل تلاش کرنے کیلئے تین روزہ کانفرنس منعقد کی۔

تفصیلات کے مطابق آغا خان یونیورسٹی کے شعبہ کمیونٹی ہیلتھ سائنسز نے عالمی ادارہ صحت اور اقوامِ متحدہ کے بچوں کے ایمرجنسی فنڈ کے اشتراک سے نوعمروں، بچوں کی صحت کے مسائل پر تبادلہ خیال اور ان کے حل کیلئے تین روزہ کانفرنس کا آغاز کیا۔ کانفرنس کا عنوان نوجوانوں کے دل اور دماغ میں غیر متعدی امراض کی روک تھام تھا۔

تین روزہ کانفرنس کے دوران اسکرین ٹائم، موٹاپا، ذہنی صحت کے مسائل، غیر فعال طرزِ زندگی ، تعلیمی نصاب اور طرزِ زندگی میں جدت اور تبدیلی جیسے اہم موضوعات پر روشنی ڈالی گئی۔ تقریب کی مہمانِ خصوصی ڈاکٹر فوزیہ خان نے کہا کہ نوجوانوں کو صحت مند اور فعال زندگی گزارنے کی ترغیب دینے کیلئے والدین اور اساتذہ کو کوشش کرنا ہوگی۔

مہمانِ خصوصی ڈاکٹر فوزیہ خان نے کہا کہ ہمارے نوجوانوں کی موجودہ حالت کو تسلیم کرنا بہتر مستقبل اور طرزِ زندگی میں تبدیلی کی طرف پہلا قدم ہے۔ تین روزہ کانفرنس میں تحقیقی پریزنٹیشنز، پینل ڈسکشن، مکمل مذاکرات اور متعدد دیگر سرگرمیاں شامل ہیں جن کا مقصد تعلیمی ماہرین، طبی ماہرین اور اساتذہ کے مکالمے کو فروغ دینا ہے۔

عالمی ادارہ صحت میں غیر متعدی امراض کی روک تھام کی علاقائی مشیر ڈاکٹر لامیہ محمود نے کہا کہ مقامی حکومتوں کی مدد سے ہمیں اپنے نوجوانوں تک رسائی کی ضرورت ہے۔ نوجوانوں کیلئے اپنی زندگی سے لطف اندوز ہونا اہم ہے تاہم یہ سیکھنا بھی ضروری ہے کہ وہ کیسے تفریح یا آرام کے نام پر صحت کو خطرے میں ڈالنے سے بچ سکتے ہیں۔

تحقیقی اور مکالمے پر مبنی مباحثوں کے علاوہ یہ کانفرنس نوجوانوں کو معلوماتی سرگرمیوں کا حصہ بننے ، غیر متعدی امراض اور نتائج کے بارے میں جاننے کے ساتھ ساتھ یہ بھی بتاتی ہے کہ نوجوان اور بالغ افراد اپنی صحت کے معیار کو کیسے بہتر بنا سکتے ہیں۔ پاکستان میں یونیسیف کے نمائندے عبداللہ اے فاضل نے بھی کانفرنس سے خطاب کیا۔

عبداللہ اے فاضل نے کہا کہ ہمارے نوعمر بچوں اور نوجوانوں سے منسلک ہونا انتہائی اہم ہے۔ خیال رہے کہ پاکستان میں غیر متعدی بیماریاں 10 سے 14 سال کے بچوں کی موت کی 3 بڑی جوہات میں شامل اور 15 سے 19 سال کی لڑکیوں کی اموات کی سب سے بڑی وجہ ہیں۔ والدین اور سرپرستوں کو ان کی جسمانی اور ذہنی صحت پر توجہ دینا ہوگی۔

سی ایچ ایس میں محکمہ غیر متعدی امراض و ذہنی صحت کی سربراہ ڈاکٹر رومینہ اقبال نے کہا کہ شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ 70 فیصد ایسی خراب عادات جو بعد کی زندگی میں غیر متعدی امراض کا سبب بنتی ہیں وہ جوانی کے دوران پروان چڑھتی ہیں۔ آغا خان یونیورسٹی نوجوانوں کو غیر صحت مند طرزِ زندگی پر آگہی دینے کیلئے ہمہ وقت تیار ہے۔

ڈپارٹمنٹ آف میڈیسن کی سربراہ پروفیسر زینب صمد نے کہا کہ پرہیز علاج سے بہتر ہے۔ ناقص خوراک، جسم کا غیر فعال ہونا، تمباکو کا استعمال، موسمیاتی تبدیلی اور خراب ذہنی صحت، یہ سب پاکستانی آبادی میں غیر متعدی امراض کی نشوونما سے منسلک ہیں۔ اس لیے تمام عوامل میں تبدیلی ضروری ہے تاکہ غیر متعدی امراض کی نشوونما روکی جاسکے۔

 

Related Posts