نیٹ فلکس پر پیش کی جانے والی جنید خان کی مہاراج نے مختلف حساس موضوعات کا احاطہ کرنے کی کوشش کی جس میں انسانی نفسیات اور فیمینزم بھی شامل ہے۔
فلم کی کہانی پر نظر دوڑائی جائے تو اس میں سب سے پہلا نکتہ فیمینزم کا جھوٹا دعویٰ اور منافقت ہے کیونکہ جنید خان کا کردار کارسن فلم میں باآوازِ بلند اپنے فیمنسٹ آئیڈیلز کی پیروی کے دعوے کرتا ہے لیکن جب فیمنزم کی سب سے زیادہ ضرورت پیش آتی ہے تو ناکام نظرآتا ہے۔
جب کارسن کی منگیتر کشوری کے ساتھ جنسی زیادتی ہوتی ہے تو وہ علی الاعلان اس کے خلاف ہوجاتا ہے جبکہ فلم میں دعویٰ کیا جاتا ہے کہ کارسن (جنید خان) ایک ترقی پسند کردار ہے جس کی اخلاقی پستی بھی بعض حوالوں کے ساتھ آسانی سے دیکھی جاسکتی ہے۔
خواتین کے حقوق کیلئے آواز اٹھانے کا دعویٰ کرنے والا کارسن حقوقِ نسواں کے درحقیقت خلاف ہوتا ہے۔ وہ اپنی جنسی زیادتی کا شکار منگیتر کشوری کو ہتک آمیز انداز میں بچا ہوا کھانا قرار دیتا ہے اور اس کے ساتھ مارپیٹ بھی کرتا ہے جو اس کردار کی اخلاقی بد دیانتی کا ثبوت ہے۔
بظاہر فلم میں خواتین کے حقوق کی بات کی جاتی ہے لیکن فلم کی کہانی کارسن کے نظریات کے گرد گھومتی ہے جو خواتین کے مصائب کو نظر انداز کرتی ہے۔ حد یہ ہے کہ فلم کا نام مہاراج ہے لیکن خود مہاراج اور اس کے مسائل بھی فلم کا حقیقی موضوع دکھائی نہیں دیتے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








