کراچی: حکومت گندم برآمد کرنے پر غور کر رہی ہے۔سابق رکنِ قومی اسمبلی محمود مولوی نے کہا ہے کہ ذخیرہ اندوزوں کی جانب سے حکومت کو گندم برآمد کرنے پر قائل کیا جارہا ہے۔
تفصیلات کے مطابق اپنے ایک بیان میں سابق رکنِ اسمبلی محمود مولوی نے کہا کہ ذخیرہ اندوز حکومت کو گندم کی ایکسپورٹ کا جو مشورہ دے رہے ہیں، وہ غلط ہے۔ اگر گندم ایکسپورٹ کی تو ملک میں گندم اور آٹا مہنگا ہوجائے گا۔
سابق رکنِ اسمبلی محمود مولوی نے کہا کہ اگر گندم ایکسپورٹ کی گئی تو ایک بار پھر ملک میں گندم اور آٹا اس سطح پر آجائے گا جیسا کہ چند ماہ قبل تھا۔ آج 90 سے 95 روپے فی کلو ملنے والا آٹا 150 سے 175 روپے کلو بھی ہوسکتا ہے۔
محمود مولوی نے کہا کہ حکومت عوامی مفادات مدِ نظر رکھتے ہوئے ایسے کسی بھی اقدام سے باز رہے۔ کسان اپنی گندم بیچ چکے، ذخیرہ اندوزوں نے گندم کو ذخیرہ کیا ہوا ہے۔ ذخیرہ اندوز اپنا فائدہ حاصل کرنے کیلئے حکومت کو غلط مشورہ دے رہے ہیں۔
یاد رہے کہ اس سے قبل سابق رکنِ اسمبلی محمود مولوی نے کہا تھا کہ گندم اور آٹے کی قیمت میں کمی خوش آئند ہے۔ عوام کو قیمتوں میں کمی کا فائدہ پہنچانے کیلئے اقدامات کیے جائیں۔
محمود مولوی نے 2 ماہ قبل اپنے ایک بیان میں کہا کہ ملرز آج آٹا 90 سے 92 روپے فی کلو دے رہے ہیں، دکان داروں کو 95 سے 98روپے فی کلو میں آٹا مل رہا ہے۔ ملک میں افراتفری پیدا کرنے کیلئے زمین داروں کو حکومت کے خلاف اکسایا جارہا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








