کوئٹہ: دہشت گردوں نےماہ رنگ بلوچ اور براہمداغ بگٹنی کے دھرنوں پر خفیہ گفتگو کی ہے، بات چیت میں اہم انکشافات منظرِ عام پر آگئے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق کالعدم دہشت گرد تنظیم بلوچ ریپبلکن آرمی کے 2 اہم دہشت گردوں کی خفیہ بات چیت منظرِ عام پر آ گئی، جس سے اہم انکشافات ہوئے۔ بی آر اے کے 2 اہم دہشت گردوں کی خفیہ فون کال میں ایک دہشت گرد ،دوسرے دہشت گرد سے کہہ رہا ہے کہ ’’میں واٹس ایپ کے نیٹ ورک پر گیا ہوں، سردار کے ساتھ رابطہ ہوا ہے۔
دہشت گردوں کی خفیہ گفتگو میں ایک دہشت گرد سبزال کہتا ہے کہ ’’دھرنا جاری ہے، ماہ رنگ کے اس دھرنے میں ہمارا علی نواز خوش نہیں ہے کیونکہ وہ گروپوں میں غلط باتیں کر رہا ہے۔ براہمداغ بادشاہ آدمی ہے وہ اس کو کچھ نہیں کر رہا ہے‘‘۔
دہشت گرد لغاری چندرزئی نے کہا کہ ’’براہمداغ نے خود تو ان دھرنے والوں کے اوپر ظلم کی مذمت کی‘‘۔
خفیہ گفتگو کے دوران دہشت گرد سبزال نے کہا کہ ’’ان کا مجھے پتا ہے جب اسلام آباد میں ان کا دھرنا ہوا تھا تو سردار برہمداغ نے 50 سے 70 لاکھ روپے ان کو دیے تھے‘‘۔ دہشت گرد سبزال نے کہا کہ ’’مجھے یہ بات ریاض گل سے پتہ چلی‘‘۔ وہ لوگ بلوچوں کی خاطر یہ دھرنے اور جلوس کر رہے ہیں۔
دہشت گرد سبزال نے مزید کہا کہ علی نواز کو کیا تکلیف ہے۔ اس دفعہ ڈاکٹر ماہ رنگ کچھ نہ کچھ کریگی”۔ دہشت گرد لغاری چندرزئی نے کہا کہ ’’ہاں اگر بلوچوں نے بات مانی تو وہ کوئی نہ کوئی طریقہ اختیار کرے گی‘‘۔ سبزال نے کہا کہ ’’وہ اس کی بات مان لیں گے۔”
گفتگو کے دوران دہشت گرد سبزال نے مزید کہا کہ “بشیر زیب اور ڈاکٹر اللہ نذر کی بات چل رہی ہے۔ ملک میں زیادہ تبدیلی جلسے جلوس سے آتی ہے۔ پولیس اور وہ 5 خاص آدمیوں کو ہم معاف نہیں کریں گے‘‘۔ دہشت گرد لغاری چندرزئی نے کہا کہ ’’پولیس والا بیان میں نے نہیں سنا تھا‘‘۔ لغاری جندرزئی کے بیان پر دہشت گرد سبزال نے کہا کہ ’’پولیس والا بیان کل آیا تھا‘‘
اس حوالے سے دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ دونوں دہشتگردوں کی آڈیو کال نے بلوچ یکجہتی کمیٹی کے راجی مچی اور اسلام آباد والے دھرنے کے پورے بیانیے کی حقیقت واضح کر دی ہے۔ کال میں بشیر زیب اور ڈاکٹر اللہ نذر کا دھرنے کی بات چیت سے تعلق اس بات کو ثابت کرتا ہے کہ بلوچ دہشت گرد دھرنے کی کھلی پشت پناہی کررہے ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








